Personality is changelessness in change.
Al-Risala, May 2008, pp. 21–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسی حالت میں انسان پر موت کا وارد ہونا، صرف یہ معنی رکھتا ہے کہ انسان سفر کر کے موجودہ دنیا سے ایک اور دنیا میں پہنچ گیا۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو انسان کو موت کے بارے میں بہت زیادہ سوچنا
چاہیے، بلکہ اُس کو سب سے زیادہ موت ہی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ کیوں کہ موت ایک نئی دنیا کی طرف چھلانگ ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ انسان، موت کے بعد کے صورتِ حال کے لیے تیاری اس کی سوچ ہر اعتبار سے موت رُخی سوچ (death-oriented thinking) بن جائے۔ موت کسی آدمی کے لیے سب سے زیادہ یقینی واقعے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر آدمی کو بار بار موت کی یاددہانی کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ ہر آدمی اپنے گھر میں اور اپنے قریبی ماحول میں لوگوں کی موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، مگر عملاً ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص موت کو لے کر نہیں سوچتا۔ اس طرح زندگی گزار رہا ہے، جیسے اُس کو مرنا نہیں ہے، بلکہ اس کو ہمیشہ کے لیے اسی دنیا میں زندہ رہنا پوری تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص نہ مرے۔ اس کے باوجود انسان موت کے واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ وہ موت کی حقیقت کا اعتراف صرف اُس وقت کرتا ہے، جب کہ خود اُس پر موت اور مجبورانہ فیصلے کے تحت وہ موت کے دروازے میں داخل ہو جائے۔
ایک آدمی جب سفر کرتا ہے، خواہ اُس کا سفر ٹرین سے ہو، یا کار سے ہو، یا ہوائی جہاز سے ہو، تو وہ اس سوچ کے تحت سفر کرتا ہے کہ چند گھنٹے کے بعد اُس کا سفر ختم ہو جائے گا اور وہ ایک نئے مقام پر پہنچ اس مقصد کے تحت وہ اپنے سفر کی تیاری کرتا ہے۔ وسیع تر معنوں میں انسان کا معاملہ بھی ایک سفر کا معاملہ ہے۔ ہر انسان زندگی سے موت کی طرف سفر کر رہا ہے، لیکن کوئی بھی شخص اس دوسرے سفر کے معاملے میں موت کو لے کر نہیں سوچتا۔ ہر آدمی اس طرح اپنی زندگی کا سفر طے کر رہا ہے جیسے کہ یہی سفر اُس کے لیے ابدی سفر ہے، وہ اسی موجودہ صورت میں ہمیشہ باقی رہے گا۔
میرا آبائی وطن اعظم گڑھ (یوپی) ہے۔ آزادیٔ ہند سے پہلے کے دور میں وہاں ایک راجا ہرکھ چند انھوں نے شہر کے مین روڈ پر اپنے لیے ایک بہت بڑی کوٹھی بنوانا شروع کیا۔ نقشے کے مطابق، یہ ایک تین منزلہ کوٹھی تھی۔ چوتھی منزل پر ایک خصوصی کمرہ تھا جس میں اُنھیں اپنی اہلیہ کے ساتھ قیام اس کوٹھی میں انھوں نے بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا۔ یہ بہت مضبوط قسم کی ایک قلعہ نما کوٹھی اس کی دیواروں اور چھت پر ہر طرف نہایت اعلیٰ پیمانے پر آرٹ ورک کیا گیا تھا۔ یہ کوٹھی بہت
لمبی مدت تک بنتی رہی، یہاں تک کہ اُس کی آخری تکمیل سے پہلے 1946 میں راجا ہر چند کا انتقال ہو گیا، اور وہ اس کوٹھی میں قیام نہ کر سکے۔
یہی معاملہ ہر انسان کا ہے۔ ہر آدمی اپنی زندگی کا منصوبہ اس طرح بناتا ہے، جیسے کہ اس کو ابدی طور پر اپنے اس منصوبے کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ جیسے کہ اس کے اور اُس کی بنائی ہوئی دنیا کے درمیان کبھی جدائی ہونے والی نہیں۔
یہ ایک سنگین سوال ہے کہ تمام انسان موت کے بارے میں کیوں اتنا زیادہ غافل رہتے ہیں۔ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن خود اپنی موت کے بارے میں اُنھیں کبھی خیال نہیں آتا۔ کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جب کسی آدمی کی تدفین کے بعد قبرستان سے لوٹتے ہیں، تو اُس وقت خدا کا ایک فرشتہ قبر کے پاس آتا ہے۔ وہ قبر کی مٹی اٹھا کر لوٹنے والے لوگوں کی طرف پھینکتا ہے اور کہتا ہے کہ جاؤ غافل ہو جاؤ، جاؤ دوبارہ تم اپنی دنیا میں مشغول ہو جاؤ۔ اس حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں فرشتوں کی طرف سے گویا کہ ایک نکمیر ہے۔ لوگ ایک انسان کو اپنے سامنے مرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ کی تجہیز اور تکفین میں شریک ہوتے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جو زمین میں چل پھر رہا تھا، وہ قبر میں دفن ہو گیا، لیکن اس واقعے سے وہ اپنے لیے کوئی سبق نہیں لیتے۔ موت کے اس واقعے سے پہلے وہ جس طرح غفلت کی زندگی گزار رہے تھے، اُسی قسم کی غفلت کی زندگی وہ اب بھی گزارتے رہتے یہی واقعہ پوری تاریخ میں پیش آ رہا ہے۔ ساری انسانی تاریخ میں کچھ استثنائی افراد کو چھوڑ کر، کوئی انسان نظر نہیں آتا جو موت کے معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھے اور اُس سے اپنے لیے سبق لے۔ اس عمومی غفلت کا راز کیا ہے۔ یہ راز پروگرامنگ (programming) کے نظریے سے سمجھ میں آتا ہے۔ پروگرامنگ کا مطلب ہے کسی معاملے کی پیشگی طور پر طے شدہ ترتیب: A pre-arranged plan of procedure. سائنسی مطالعے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ خود اپنے ذہن کی پروگرامنگ کے تحت
یہ پروگرامنگ فطری طور پر انسان کے ذہن میں موجود ہوتی ہے۔ مثلاً بھوک لگنا، پیاس لگنا، نیند آنا، وغیرہ، سب اپنے ذہن کی فطری پروگرامنگ کے تحت پیش آتے ہیں۔ آدمی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ پرو پروگرامنگ (pro-programming) کے تحت سوچتا ہے، وہ اینٹی پروگرامنگ (anti-programming) کے تحت نہ سوچتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ اینٹی پروگرامنگ سوچ دراصل اینٹی سیلف سوچ کا نام ہے، اور اینٹی سیلف سوچ بلا شبہ تمام کم یاب چیزوں میں سب سے زیادہ کم یاب چیز ہے۔ یہ پروگرامنگ حالات کے زیر اثر جزئی طور پر بدل سکتی ہے، لیکن شعوری طور پر اپنی پروگرامنگ کے خلاف سوچنا، انتہائی حد تک ایک دشوار کام ہے۔
میرے ساتھ ایسا ہوا کہ ایک بار میں مانچسٹر (انگلینڈ) گیا۔ وہاں میں لمبی مدت تک مقیم رہا۔ مانچسٹر ایسے جغرافی علاقے میں ہے، جہاں کبھی رات لمبی ہوتی ہے اور دن چھوٹا، اور کبھی دن لمبا ہوتا ہے اور رات چھوٹی۔ میں جس زمانے میں وہاں گیا تھا، اس زمانے میں وہاں رات بہت چھوٹی ہوتی تھی اور اس کے مقابلے میں دن زیادہ لمبا۔ چناں چہ ایسا ہوتا تھا کہ ہم نے مغرب کی نماز ادا کی، اس کے جلد ہی بعد عشا کا وقت آگیا، اور پھر عشا کی نماز کے بعد جلد ہی فجر کا وقت آگیا۔ اس طرح رات کو وہاں سونے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ وہاں ہم رات کے وقت جاگتے تھے اور دن کے وقت سوتے تھے۔ چناں چہ مقامی حالات کے دباؤ کے تحت، مانچسٹر کے زمانہ قیام میں سونے اور جاگنے کے بارے میں میرے ذہن کی پروگرامنگ وقتی طور پر بدل گئی۔ پھر جب میں انڈیا واپس آیا، تو اس بدلی ہوئی پروگرامنگ کی بنا پر مجھے یہاں رات کو نیند نہیں آتی تھی، بلکہ دن کو نیند آتی تھی۔ یہ صورت حال ایک عرصے تک باقی رہی۔ اس کے بعد میری پروگرامنگ اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آئی۔ جیسا کہ معلوم ہے، کمپیوٹر میں پروگرامنگ کا طریقہ رائج ہے۔ جیسی پروگرامنگ کی جاتی ہے، اسی کے مطابق، کمپیوٹر اپنا کام کرتا ہے۔ یہی معاملے زیادہ بڑے پیمانے پر انسانی دماغ کا ہے۔ طرف سے اس طرح ہر انسانی دماغ کی پروگرامنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے مطابق، ہر عورت اور مرد اپنی زندگی کے تمام کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ اسی حال میں جیتے ہیں اور اسی حال میں مر جاتے ہیں۔
ہر انسان صرف محدودیت تک جیتا ہے اور اس کے بعد وہ مر جاتا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ کوئی بھی انسان موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ ہر عورت اور مرد بار بار دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ کئے رہتے ہیں۔ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھنے کے باوجود ہر آدمی اس احساس میں جیتا ہے، جیسے کہ خود اُس پر موت آنے والی نہیں۔
اس کا سبب پروگرامنگ کا معاملہ ہے۔ فطرت نے انسانی دماغ کی جو پروگرامنگ کی ہے۔ میں سب کچھ ہے، لیکن ایک چیز اس پروگرامنگ میں موجود نہیں، اور وہ موت ہے۔ انسانی دماغ کی پروگرامنگ میں بھوک ہے، پیاس ہے، نیند ہے اور دوسری تمام چیزیں ہیں، لیکن پروگرامنگ کی اس فہرست میں موت سرے سے شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان اس طرح جیتا ہے جیسے کہ اس پر موت آنے والی نہیں۔ اپنے داخلی شعور کے اعتبار سے ہر آدمی ابدیت(eternity) کے احساس میں جیتا ہے۔ اپنے ذاتی احساس کے اعتبار سے ہر آدمی اپنے آپ کو ابدی مخلوق سمجھتا ہے۔ اپنے تمام معاملات کی منصوبہ بندی اس طرح کرتا ہے، جیسے کہ اس کو ہمیشہ کے لیے موجودہ دنیا میں رہنا ہے۔ اس معاملے میں انسان کی مثال ایک ایسے کمپیوٹر کی ہے جس کی پروگرامنگ میں موت (death) کا لفظ یا اس کا تصور شامل نہ کیا گیا ہو۔ ایسا کمپیوٹر آپ کو ہر بات بتائے گا، لیکن جہاں تک موت کا تعلق ہے، وہ اس بارے میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکے گا۔ کمپیوٹر اپنی پروگرامنگ کے مطابق کام کرتا ہے۔ لفظ یا کوئی تصور جو کمپیوٹر کی پروگرامنگ میں شامل نہ کیا گیا ہو، اگر آپ اُس لفظ یا تصور کے بارے میں کمپیوٹر سے سوال کریں، تو کمپیوٹر اُس کا جواب نفی کی صورت میں دے گا۔ مثلاً کمپیوٹر کی اسکرین پر یہ جملہ لکھا ہوا سامنے آجائے گا: