Deoxyribonucleic Acid
Al-Risala, May 2008, pp. 26–36
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ڈی این اے، یا جینیٹک کوڈ (genetic code) میں کسی انسان کی شخصیت کے بارے میں تمام چھوٹی اور بڑی معلومات درج ہوتی ہیں۔ کوئی انسان کیسے دیکھے گا، کیسے سنے گا، کیسے مسکرائے گا، کیسے کلام کرے گا وغیرہ، تمام معلومات پوری تفصیل کے ساتھ اُس میں کیمیائی حروف (chemical letters) کی صورت میں درج رہتی ہیں۔ یہ معلومات انسانی زندگی کے تقریباً تین بلین مختلف موضوعات (3 billion different subjects) سے متعلق ہوتی ہے۔ انسان کے جینیٹک کوڈ میں اتنی زیادہ معلومات ہوتی ہیں کہ اُن کو اگر ڈی کوڈ (decode) کر کے لکھا جائے تو اس کے لیے موجودہ انسائیکلو پیڈیا برٹا ٹانیکا جیسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک ہزار جلدیں درکار ہوں گی۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ کسی انسان کے جینیٹک کوڈ میں انسائیکلو پیڈیا ئی معلومات ہونے کے باوجود اُس میں موت (death) کے بارے میں کچھ بھی موجود نہیں۔ انسانی شخصیت کے اس دفتر میں اُس کے بارے میں تمام تفصیلات درج ہیں، لیکن اُس میں موت کا کوئی اندراج نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت کے معاملے کو خدا نے انسان کی اپنی اختیاری دریافت کے خانے میں رکھ دیا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی پروگرامنگ سے باہر نکل کر اپنی موت کے بارے میں سوچے اور اس کے مطابق، اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔
نیند کی مثال لیجیے۔ نیند اور موت کے درمیان ایک مشابہت پائی جاتی ہے۔ اس فطری حقیقت کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: النوم اُختُ الموت (نیند موت کی بہن ہے) کسی شخص کو جب نیند آتی ہے تو وہ بے خبر ہو جاتا ہے، اس طرح موت بھی بظاہر آدمی کو بے خبر کر دیتی ہے۔ لیکن نیند اور موت کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ نیند کا وقت ہر ایک کے لیے مقرر ہے، لیکن موت کا معاملہ کسی کے لیے اس طرح کی توقیت فطری (natural timing) کے ساتھ مقرر نہیں، موت بالکل نامعلوم طور پر اچانک آ جاتی ہے۔ کوئی بچپن میں مر جاتا ہے، کسی کی موت جوانی میں آتی ہے اور کسی کی موت بڑھاپے میں۔ نیند اور موت کا یہ فرق ایک گہری حقیقت کو بتا رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ نیند ہر آدمی کی پروگرامنگ کا فطری حصہ ہے، لیکن موت آدمی کی پروگرامنگ کا فطری حصہ نہیں۔ موت جب بھی آتی ہے، خدا کے براہ راست
فیصلے کے تحت آتی ہے۔ یہ خدا ہے جو خود اپنے فیصلے کے تحت، کسی کی موت کو مقدم کر دیتا ہے اور کسی کی موت کو مؤخر۔ موت کا تعلق نہ آدمی کی اپنی سوچ سے ہے، اور نہ اس کی فطری پروگر منگ سے۔ جب کسی شخص کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کا مطلب خاتمۂ حیات نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری موت کے باوجود اصل انسان اُس وقت بھی زندہ ہوتا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ موت دراصل ایک منتقلی (transfer) کا معاملہ ہے۔ موت اُس خصوصی لمحے کا نام ہے، جب کہ انسان ایک مرحلۂ حیات (period of life) سے گزر کر دوسرے مرحلۂ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسافر اگلے اسٹیشن پر ایک سواری کو چھوڑ دے اور اس کے بعد دوسری سواری کے ذریعے اپنا مستقل سفر جاری رکھے۔
پروگر منگ کے اس ظاہر ہ (phenomenon) کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بارے میں انسان کی غفلت کیوں ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ انسان اپنے روز مرہ کے سفر کی پلاننگ ٹائم لمٹ(time (time limit) کو دھیان میں رکھتے ہوئے کرتا ہے، لیکن زندگی کا سفر جو بظاہر موت ختم ہو رہا ہے، اس کی پلاننگ وہ اس عام اصول کے مطابق نہیں کرتا۔ کوئی عورت اور مرد اپنی زندگی کا سفر وقت پر مبنی پلاننگ (time based planning) کے تحت نہیں کرتے، یعنی وہ اس طرح نہیں سوچتے کہ چند دن میں تو مرنا ہے، پھر زیادہ سامان اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت۔ وہ تکاثر (more and more) کی نفسیات میں جیتے جیتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اچانک مرجاتے ہیں۔ انسانیت کی پوری تاریخ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔
یہ معاملہ اُس وقت سمجھ میں آتا ہے جب کہ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کی روشنی میں اس کا مطالعہ کیا جائے۔ الہامی علم (revealed knowledge) کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو پہلے ہی دن اس کو ابدی صورت میں پیدا کیا۔ خدا نے انسان کو پیدا کیا تو پہلے ہی دن اس کو ابدی صورت میں پیدا کیا۔ خدا نے انسان کو ایک لامحدود مائنڈ دیا اور اس میں ہر قسم کی معلومات ڈی این اے (DNA) کے جدید مطالعے سے یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہو رہی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک انسانی دماغ میں جو اعصاب (nerves) ہیں، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان کو پھیلا یا جائے تو گلوب کے چاروں طرف ان کو تقریباً 25 بار لپیٹا جا سکتا ہے۔ اس تخلیق کے مطابق، ہر انسان پیدائشی طورپر یہ شعور لے کر پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک ابدی وجود ہے۔ اس کا سفر موت ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ موت کے بعد بھی مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ ہر انسان اسی ابدیت کے شعور میں داخلی احساس کے تحت ہر انسان کی شخصیت ابدیت کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خالق نے بطور واقعہ انسانی فطرت کی جو پروگرامنگ کی ہے، وہ ابدیت (eternity) کے حوالے سے کی ہے، یعنی جینے کے معاملے میں انسان کی جو نفسیات ہوتی ہے، وہ اُس سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ہے جو ٹرین یا ہوائی جہاز کے سفر کے وقت ہوتی ہے۔ ٹرین یا ہوائی جہاز کے سفر میں انسانی ذہن کی پروگرامنگ محدود وقت کو لے کر ہوتی جب کہ زندگی کے معاملے میں انسانی ذہن کی پروگرامنگ زمان اور مکان کی محدودیت سے بالکل ماورا (beyond time and space) ہوتی ہے۔
نیچر کی یہی پروگرامنگ موت کے بارے میں انسان کی موجودہ نفسیات (psyche) کا اصل انسان انسان جب بھی کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس کے لیے اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایک اجنبی واقعہ ہوتا ہے۔ اس کی اپنی فطرت کی پروگرامنگ اس کو بتا رہی ہوتی ہے کہ میں ایک ابدی شخصیت (eternal personality) رکھنے والا آدمی ہوں۔ اس طرح اپنے بارے میں اس کا شعور ابدیت (sense of eternity) اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ موت کے اس خارجی واقعے کو اپنے اوپر منطبق (apply) کرے۔ وہ اپنی نفسیات کے تحت ایسے کسی واقعہ کو غیر کا واقعہ (someone else's phenomenon) سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔
ایسی حالت میں زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر اینٹی پروگرامنگ سوچ پیدا کرے۔ وہ خود اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت کا ثبوت دے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ وہ پروگرامنگ کے اس معاملے سے اوپر اٹھے۔ وہ اپنی زندگی کے قبل از موت دور، اور بعد
ازموت دورمیں فرق کرے، اور پھر اپنی زندگی کے لیے مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کر سکے۔ اس طرز فکر کو ایک لفظ میں انفصالی طرز فکر (detached thinking) کہا جاسکتا ہے۔ ایک شاعر نے اس قسم کی سوچ کو تجرید تصور کا نام دیا ہے۔ اس کا شعر یہ ہے:
ہے داد کے قابل، میری تجرید تصور کرتا ہوں تجھے غیر کی محفل سے جُدا یاد اس فطری نقشے کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ کسی انسان کے لیے اپنی زندگی کی مطابق واقعہ منصوبہ بندی صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اس کی منصوبہ بندی مبنی بر موت منصوبہ بندی (death-based planning) ہو، یعنی وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرے کہ اس کا عرصہ حیات (life span) موت سے پہلے کے دور سے لے کر موت کے بعد کے دور تک پھیلا ہوا ہے۔ تمثیل کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ زندگی کسی انسان کے لیے ایک عارضی سفر ہے، اور موت گویا وہ اسٹیشن ہے جہاں اتر کر وہ اپنے مستقل دور حیات میں پہنچنے والا ہے۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر جب غور کیا جائے تو الہامی علم (revealed knowledge) دوبارہ ہم کورہ نمائی دیتا ہے۔ اس رہ نمائی کے مطابق، موت سے پہلے کا مرحلہ حیات تیاری کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ حیات تیاری کے مطابق اپنا مستقل انجام پانے کا مرحلہ۔ کہ ہماری موجودہ زندگی ایک قسم کے امتحان ہال میں گزر رہی ہے۔ یہاں ہر چیز پرچہ امتحان (test paper) ہے۔ یہاں جو کچھ ہمارے ساتھ پیش آتا ہے، خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا، وہ سب کا سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے پرچہ امتحان ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی چیز جو انسان کو ملتی ہے، وہ اُس کے لیے نہ انعام ہے اور نہ سزا۔ انعام اور سزا دونوں کا معاملہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات سے متعلق ہے، وہ موت سے پہلے کے مرحلہ حیات سے متعلق نہیں۔
یہی انسانی زندگی کی اصل حقیقت ہے۔ ہر عورت یا مرد کو اسی حقیقت کے مطابق، اپنی زندگی کا نقشہ بنانا ہے۔ فطرت کی پروگرامنگ کے مطابق، انسان موجودہ زندگی ہی کو اپنی مستقل زندگی سمجھ لیتا حالاں کہ موجودہ زندگی صرف ایک عارضی زندگی ہے۔ جس طرح کوئی طالب علم عارضی طور پر
امتحان ہال میں کچھ وقت گزارتا ہے اور اس کے بعد وہ اپنی اصل زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے، اسی طرح انسان موجودہ دنیا میں عارضی طور پر آیا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی اصل دنیا کی طرف لوٹ جائے گا۔ موجودہ دنیا میں مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کے لیے اینٹی پروگرامنگ سوچ یا آؤٹ آف پروگرامنگ سوچ کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ ایک بے حد مشکل کام معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ اینٹی پروگرامنگ سوچ ایک دو طرفہ سوچ کا نام ہے۔ اس میں آدمی کو ایک طرف موجودہ عارضی مدت حیات کے اعتبار سے سوچنا پڑتا ہے، اور عین اُسی وقت ضرورت ہوتی ہے کہ وہ بعد از موت ابدی مدت حیات کے اعتبار سے سوچے ۔ مگر یہ دو طرفہ سوچ انسان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ انسانی دماغ کی صلاحیت (capacity) اتنی زیادہ ہے کہ وہ ہر قسم کی متضاد سوچ کا احاطہ کر سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو ایک برطانوی مفکر (Walt Whitman) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
I am large enough to contain all these contradictions. انسان کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے دوسرے معاملات میں اسی متضاد طرزِ فکر کو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اینٹی پروگرامنگ سوچ انسان کے لیے کوئی ناممکن سوچ نہیں، وہ ہر عورت اور مرد کے لیے پوری طرح ممکن ہے۔ اب ہر عورت اور مرد کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی موجودہ عارضی زندگی کو کس نہج پر گزارتا ہے، ایسے نہج پر جو اس کو اپنے ابدی دورِ حیات میں جنت میں پہنچانے والا ہے، یا جہنم میں۔ جدید تہذیب مادی راحت (material comfort) کے تصور پر قائم ہے۔ کے تحت انسانی زندگی کا جو نقشہ بنا ہے، اُس میں صرف آج (today) کا تصور ہے، اُس میں کل (tomorrow) کا تصور نہیں۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ خوب کام کرو اور خوب عیش کرو: Work hard, party hard اس جدید ذہن کا کلمہ یہ ہے ابھی اور اسی وقت (right here, right now) ۔ زمانے میں اس نظریے پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ جدید میڈیا تمام تراسی تصور پر چلایا جاتا ہے۔ مثال یہاں صرف ایک آرٹیکل کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا
(27 جنوری 2008) میں ایک آرٹیکل اس موضوع پر چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے کا نام ڈونا (Donna Devane) ہے۔ یہ آرٹیکل حسب ذیل عنوان کے تحت مذکورہ اخبار میں شائع ہوا ہے: Be happy here and now. زندگی کو کامیاب بنانے کا یہ تصور فطرت کے نقشے کے بالکل خلاف ہے۔ اے (DNA) اور جینیٹک کوڈ (genetic code) کے مطابق، انسان کی زندگی پورے معنوں میں ایک ابدی زندگی ہے۔ وہ آج سے لے کر کل تک پھیلی ہوئی ہے۔ فطرت کے تخلیقی نقشے کے مطابق، یہ ایک خطرناک قسم کا ناقص تصور حیات ہے کہ آج کو لیا جائے اور کل کے بارے میں کچھ نہ سوچا جائے۔ جب ڈی این اے کی دریافت بتاتی ہے کہ انسان ایک مسلسل حیاتیاتی سلسلے کا نام ہے، تو انسان کے لیے مفید طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا نقشہ ابدیت (eternity) کو لے کر بنائے، نہ کہ صرف وقتی لمحہ (moment) کو لے کر۔
یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ مجھے خود بھی مرنا ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ آخروقت تک موت کو بھولے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اچانک اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں ایک مثال درج کی جاتی ہے۔ (Russy Karanjia) انڈیا کے ایک مشہور صحافی تھے۔ وہ پارسی فیملی میں پیدا ہوئے۔ وہ سنسنی خیز صحافت (sensational journalism) کے امام تھے۔ ان کو فرینک مورس، شیام لال اور خوش ونت سنگھ کے درجے کا صحافی سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے دوسری عالمی جنگ میں وار کرسپانڈنٹ (war correspondent) کا کام کیا تھا۔ انھوں نے 1941 میں اپنا ہفت روزہ انگریزی اخبار بلٹز (Blitz) جاری کیا۔ اُن کے اخبار پر یہ ماٹو (motto) لکھا رہتا تھا: Free, Frank, and Fearless روسی کرنجیا کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے تھے، مثلاً جواہر لال نہرو، مارشل ٹٹو، صدر جمال عبدالناصر اور ایران کے رضا شاہ پہلوی، وغیرہ۔ اُن پر دوبار ہارٹ اٹیک ہوا۔ یکم فروری 2008 کو ان کی موت بمبئی
کے ایک اسپتال میں ہوئی ۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 92 سال تھی ۔ ٹائمس آف انڈیا (2 فروری 2008) کی رپورٹ کے مطابق ، اپنی موت سے پہلے انھوں نے جس واحد احساس کا ذکر کیا ، وہ یہ تھا : The only thing he complained about was that, the nurses skirts were not short enough. روسی کرنجیا اُس وقت بستر مرگ پر تھے۔ اُس وقت وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکے تھے۔ لیکن اُس وقت بھی اُن کے دماغ میں جو چیز چھائی ہوئی تھی ، وہ یہ کہ اسپتال کی نرسوں کا اسکرٹ زیادہ چھوٹا نہ تھا جس سے اُن کے جسم کے زیادہ حصے دکھائی دیں۔ حالاں کہ اُس وقت بطور حقیقت یہ چاہیے تھا کہ وہ موت کے بعد والے حالات کو سوچیں۔ اس بے شعوری کا سبب یہ تھا کہ موت کے بعد والے حالات کے متعلق سوچنے کے لیے ضرورت تھی کہ وہ اپنی پروگرامنگ سے اوپر اٹھ کر سوچ سکیں۔ شعوری نا پختگی کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ اس لیے آخر وقت تک وہ موت کی حقیقت سے بے خبر رہے۔ قرآن میں پیغمبر کے مشن کو اِنذار کا مشن بتایا گیا ہے ، یعنی لوگوں کی بے خبری کو توڑنا اور انھیں حقیقتِ حال سے باخبر کرنا ۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں دیکھیے تو انذار سے مراد یہی معاملہ ہے۔ کے جینیٹک کوڈ میں چوں کہ موت (death) کا اندراج نہیں۔ موت ہر انسان پر براہِ راست خدائی فیصلے کے تحت آتی ہے۔ اس لیے کوئی آدمی اس معاملے کو اُسی وقت سمجھ سکتا ہے، جب کہ وہ برتر سوچ کی صلاحیت کا ثبوت دے۔ پیغمبر کا مشن یہی ہے کہ ہر عورت اور مرد کے اندر وہ اس برتر سوچ کی صلاحیت پیدا کرے ۔ تا کہ ہر انسان موت سے پہلے موت کی حقیقت کو جان لے۔ وہ موت سے پہلے وہ ضروری تیاری کرے ، جو اُس کو موت کے بعد کی زندگی میں کامیاب بنانے والی ہو۔
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ لوگ بار بار موت کے واقعات کو دیکھتے ہیں ، لیکن موت کے معاملے پر وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت اُنھیں صرف خاتمۂ حیات کے ہم معنی نظر آتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سے بے خبر رہتے ہیں کہ موت ایک نئے زیادہ با معنی دورِ حیات کا آغاز ہے۔ اگر وہ اس حقیقت کو جان لیں تو ان کی زندگی کا پورا نقشہ بدل جائے۔ کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور یہ بن جائے کہ وہ اپنی موت کے بعد کی زندگی کو زیادہ کامیاب بناسکیں۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو موت زندگی کی مثبت سرگرمیوں کے لیے سب سے زیادہ طاقت ور محرک (incentive) بن جائے گی۔ موت کی یاد آدمی کو بے عمل (inactive) نہیں بناتی ،موت کی یاد آدمی کو زیادہ سرگرم (active) بنا دیتی ہے۔ موت آدمی کے اندر یہ سوچ پیدا کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کرو، کیوں کہ موت کے بعد عمل کا موقع باقی نہیں رہے گا۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت مواقع عمل کا خاتمہ ہے۔ اس اعتبار سے موت کا رول محرک عمل کا رول ہے، نہ کہ مانع عمل کا رول۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ ابدی صلاحیت والا دماغ دیا۔ اس کے دماغ کی پلاننگ ہر اعتبار سے ابدیت کی بنیاد پر کی گئی۔ سے انسان کی اصل قیام گاہ جنت کی ابدی دنیا ہے۔ لیکن پیدائش کے بعد انسان کو ایک محدود مدت کے لیے موجودہ دنیا میں رکھا جاتا ہے۔ دنیا کا یہ عارضی قیام اس کے ٹسٹ کے لیے ہے۔ موجودہ دنیا کی عارضی مدت میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون شخص اس ٹسٹ میں پورا اترتا ہے اور کون شخص اس میں پورا نہیں اترتا۔ جو عورت یا مرد اس ٹسٹ میں پورے اتریں گے، ان کو منتخب کر کے جنت میں بسادیا جائے گا۔ اور جو عورت یا مرد اس ٹسٹ میں پورے نہ اتریں، ان کو قابل رد (rejected lot) قرار دے کر الگ کر دیا جائے گا۔ موت دراصل ایک ابدی سفر کا صرف ایک درمیانی اسٹیشن ہے۔ موت انسان کے ابدی تسلسل کا درمیانی انقطاع نہیں، بلکہ وہ خود تسلسل حیات کا ایک لمحاتی حصہ ہے۔ موت کا کوئی وقت نہیں، اور نہ موت کی کوئی مدت ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی موت کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتا۔ موت کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وہ ہماری اپنی پروگرامنگ کا حصہ نہیں، وہ براہ راست خدا کی طرف سے آنے والا ایک فیصلہ خدا نے موت کے وقت کی خبر کسی انسان کو نہیں دی، نہ براہ راست طور پر اور نہ بالواسطہ طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی انسان اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا اور نہ وہ اس کا کوئی شعور رکھتا۔ آدمی جیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اچانک مر جاتا ہے۔ فطرت کی پروگرامنگ کے مطابق، ہر انسان بطور واقعہ ابدی بن گیا ہے۔ انسان کی اس ابدیت کو کوئی توڑنے والا نہیں۔ البتہ خدا جب دیکھتا ہے کہ آدمی کے ٹسٹ کی مدت پوری ہوگئی، تو وہ خود اپنے فیصلے کے تحت اس عمل میں مداخلت کرتا ہے۔ وہ انسان کو
موجودہ دنیا سے نکال کر بعد کی ابدی دنیا میں پہنچادیتا ہے۔ اسی وقفہ انتقال (transferring period) کا نام موت ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے موت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے (transportation) کا معاملہ ہے، نہ کہ زندگی کے خاتمے کا معاملہ۔
یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ زندگی میں کامیابی کے لیے ہر عورت اور مرد کو اپنے اندر ایک خصوصی صلاحیت پیدا کرنا ہے، یہ ہے اینٹی پروگرامنگ سوچ۔ یہ گویا کہ خود اپنے خلاف سوچنے کا معاملہ ہے۔ جو لوگ اس انقلابی طرزِ فکر میں کامیاب ہوں، وہی اس معاملے کو سمجھیں گے، وہی ایسا کرسکیں گے کہ اپنی پروگرامنگ کے خلاف سوچ کر موت کے معاملے کو جانیں اور قبل از موت مرحلہ حیات میں، بعد از موت مرحلہ حیات کی تیاری کریں۔
فرانس کے صدر نکولس سارکوزی (Nicholas Sarkozy) جنوری 2008 میں انڈیا آئے۔ 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کی تقریب میں وہ خصوصی مہمان کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس کے بعد اپنے دورہ ہند کے آخری مرحلے میں وہ دہلی سے آگرہ گئے، تاکہ وہاں مشہور تاریخی عمارت تاج محل کو ان کے سفر آگرہ کی رپورٹ اخبار میں آئی ہے، اس میں ایک سبق آموز جز شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر فرانس جب تاج محل کو دیکھ چکے تو ان کے سامنے حسبِ معمول گسٹ بک (Guest Book) لائی گئی تا کہ وہ اس پر اپنا تاثر درج کر سکیں ۔ صدر فرانس نے اختصار کے ساتھ اس میں ایک لفظ لکھا۔ یہ فرانسیسی زبان میں اُروواغ (Uruvor) تھا۔ اس فرانسیسی لفظ کا مطلب ہے: جلد ہی پھر ملیں گے (See you soon, again)۔
میں نے یہ رپورٹ پڑھی تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک شخص کے ذاتی احساس کی بات یہ لفظ پوری انسانیت کی نمائندگی کر رہا ہے۔ تاج محل کو اگر جنت کا نمائندہ سمجھا جائے تو یہ جملہ پوری انسانیت کے احساس کو بتا رہا ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والے تمام انسان اپنے داخلی احساس کے تحت اپنے دماغ میں ایک جنتی دنیا کا خواب لئے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ خوابوں کی اس دنیا کی تعمیر کر سکے۔
جیسا کہ معلوم ہے، انسان کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے اس کو جنت میں رکھا۔ اس وقت یہ جنت اس کو صرف عارضی مشاہدے کا دی گئی تھی۔ اس عارضی مشاہدے کے بعد انسان کو موجودہ دنیا میں بسا دیا گیا اور یہ اصول مقرر کیا گیا کہ ہر انسان کی زندگی کا ریکارڈ دیکھا جائے گا اور آخر میں انتخابی بنیاد (selective basis) پر اس کے جنت کے لیے فیصلہ کیا جائے گا۔ اس خدائی منصوبے کے تحت، انسان موجودہ دنیا میں آباد کیا گیا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ فطرت کی پروگرامنگ کے تحت، انسان ابدی احساس میں جی رہا ہے، اس کی پروگرامنگ کے اندر موت کا تصور شامل نہیں۔ لیکن آزمائشی پیریڈ کے اعتبار سے اس کو موت کا تجربہ کرنا پڑتا ہے جس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے شعور کو حرکت میں لا کر اپنے اندر ایک خصوصی صلاحیت پیدا کرے۔ یہ صلاحیت اینیٹی پروگرامنگ سوچ کی صلاحیت ہے۔ ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی پروگرامنگ سے باہر آ کر اپنے معاملے کو جانے۔ پروگرامنگ میں شامل نہ ہونے کے باوجود موت کے معاملے کو دریافت کرے۔ اس دریافت کے بعد ہی ممکن ہے کہ ہر آدمی اپنی زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کرے اور ابدی کامیابی کا مستحق ٹھہرے۔ موجودہ پروگرامنگ کے زیر اثر آدمی یہ کر رہا ہے کہ وہ اسی موجودہ دنیا میں اپنے لیے جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔ یہ گویا کہ سفر کو منزل سمجھ لینا ہے، اور ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی جو بھی تعمیر کرے گا اچانک موت اُس کا خاتمہ کر دے گی۔ آدمی سب کچھ موجودہ دنیا میں چھوڑ کر اگلی دنیا کی طرف بالکل خالی ہاتھ چلا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا ہر انسان کے لیے ایک سفر کا معاملہ ہے۔ آپ ٹرین سے سفر کریں یا ہوائی جہاز سے، آپ اپنے کو مسافر سمجھتے ہیں۔ اس لیے آپ سکون کے ساتھ اپنا سفر طے کرتے ہیں۔ اگر آپ سفر کو منزل سمجھ لیں اور سفر کے دوران وہ تمام سہولتیں حاصل کرنا چاہیں جو صرف حالت قیام میں حاصل ہوتی ہیں، تو آپ کا سفر سخت تکلیف کا سفر بن جائے گا، خواہ آپ ٹرین یا ہوائی جہاز کے فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے ہوں۔
یہی اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا معاملہ ہے۔ جو عورت اور مرد اس حقیقت کو سمجھ لیں، وہ آخر کار کامیاب زندگی کے مستحق قرار پائیں گے۔ اور جو لوگ اس حقیقت کو نہ سمجھیں وہ صرف یہ کریں گے کہ فطرت کی طرف سے ملا ہوا قیمتی موقع کھودیں، جب کہ یہ موقع دوبارہ کسی کو ملنے والا نہیں۔ حقیقت کا اعلان ہے کہ موجودہ زندگی میں انسان کو جو مختلف چیزیں ملی ہوئی تھیں، وہ بطور استحقاق نہ تھیں، بلکہ وہ صرف پرچہ ہائے امتحان (test papers) کے طور پر تھیں۔ موت کا آنا امتحان کے وقت کا ختم ہو جانا مدت امتحان کے ختم ہوتے ہی وہ تمام چیزیں بھی انسان سے چھن گئیں جو اس کو بطور امتحان ملی تھیں۔ اس طرح موت ہر انسان کو یہ بتاتی ہے کہ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں تم بالکل اکیلے ہو جاؤ گے۔ اُن تمام چیزوں میں سے کوئی بھی چیز تمھارا ساتھ نہ دے گی، جو موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں تم کو حاصل تھی ۔ یہ صورتِ حال بے حد سنگین ہے۔ یہ صورتِ حال آدمی کو متنبہ کر رہی ہے کہ تم موت کے بعد کے مرحلۂ حیات کے لیے تیاری کرو۔ اگر تم ضروری تیاری کے بغیر موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں داخل ہو گئے، تو اچانک تم اپنے آپ کو انتہائی بے سرو سامانی کی حالت میں پاؤ تم اچانک دیکھو گے کہ موجودہ زندگی میں جو کچھ تم کو حاصل تھا، وہ سب تمھارا ساتھ چھوڑ چکا، اور اب نئے مرحلۂ حیات میں جینے کے لیے جو کچھ درکار ہے، وہ سرے سے تم کو حاصل ہی نہیں۔ الرساله آن لائن اب آپ ماہ نامہ الرساله (اردو اور انگریزی) کے نئے اور پرانے شمارے اور مولا نا وحید الدین خاں کی کتابیں آن لائن بھی پڑھ سکتے ہیں اور اُس کو فری ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس طرح اب آپ کے لیے ہر ماہ الرسالہ کے تازہ شماروں کا آن لائن مطالعہ ممکن ہو سکے گا۔ آن لائن مطالعے کے لیے ویب سائٹ کا پتہ درج ذیل ہے: