Al-Risala · May 2008

مسئلے کو حل

Al-Risala, May 2008, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بار میں یورپ کے ایک شہر میں گیا۔ وہاں میں ایک عرب نوجوان کے ساتھ مقیم تھا۔ یہاں سیاسی پناہ (political asylum) کے تحت رہتے تھے۔ انھوں نے ایم اے کرنے کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔ میں نے اصرار کیا کہ وہ ڈاکٹریٹ بھی ضرور کریں۔ چناں چہ انھوں نے وہاں کی ایک یونی ورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے اپنا رجسٹریشن کروالیا۔

کچھ عرصے بعد دوبارہ مجھے اس مغربی شہر میں جانا پڑا۔ وہاں میں مذکورہ عرب نوجوان کے ساتھ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹریٹ کے لیے انھوں نے ریسرچ کا کام شروع کیا تھا، لیکن اب وہ چھوٹ اب وہ مزید تعلیم کا کام نہیں کر رہے ہیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ ایک عرب خاتون کے ساتھ انھوں نے شادی کی ہے۔ یہ عرب خاتون انگریزی زبان بالکل نہیں جانتیں ۔ اس بنا پر وہ یہاں باہر کا کوئی کام نہیں کر سکتیں ۔ چناں چہ گھر کے سارے کام مجھ کو کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے سخت انداز میں ان کو نصیحت کی۔ میں نے کہا کہ تعلیم کو چھوڑنے کے لیے یہ کوئی عذر میں نے کہا کہ آپ تعلیم جاری رکھیں، بقیہ مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔ میں نے اُن کو زندگی کا یہ فارمولا بتایا کہ — مسئلے کا حل نہ کرنا بھی مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے: Not to solve the problem, is also a way of salving the problem. کچھ عرصے بعد تیسری بار مجھے اُس مغربی شہر جانے کا اتفاق ہوا۔ مذکورہ عرب نوجوان نے خوشی کے ساتھ بتایا کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے فارمولے پر عمل کیا، اور اب میری بیوی بقَدَرِ ضرورت انگریزی بولنا سیکھ گئی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مجبورانہ صورتِ حال (compulsive situation) بھی مسئلے کو حل کرنے کی ایک کامیاب صورت ہے۔ مجبورانہ صورتِ حال اپنے آپ آدمی کے لیے ایک طاقت ور معلم بن جاتی ہے۔

Printed page