اعتراف یا سرکشی
Al-Risala, May 2008, pp. 41–43
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت علی بن ابی طالب (وفات: 661ء) کا قول ہے: اتق شرّ من أحسنت إليه (اُس آدمی کے شر سے بچو، جس کے ساتھ تم نے احسان کیا ہے)۔ اسی طرح مشہور عرب شاعر المتنبّی (وفات: 965ء) کا ایک شعر یہ ہے— اگر تم شریف آدمی کے ساتھ احسان کرو تو تم اس کو اپنا مملوک بنا لو گے، اور اگر تم ذلیل آدمی کے ساتھ احسان کرو تو وہ تمھارے مقابلے میں سرکش بن جائے گا: إذا أنت أكرَمْتَ الكريمَ مَلكتَهُ وإنْ أنت أكرَمْتَ اللّئيمَ تمرّدا ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب اعتراف کا معاملہ ہے۔ جب آپ ایک آدمی کے ساتھ کوئی سلوک کرے تو اس کے بعد یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ آدمی اس سلوک کو کس کے خانے میں ڈالے، وہ کس کو اُس کا کریڈٹ (credit) دے۔
ایسی صورت حال میں جب آدمی دینے والے کو اُس کا کریڈٹ دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دینے والا اُس سے بڑا ہے اور وہ خود اُس سے چھوٹا ہے۔ یہ اپنے مقابلے میں دوسرے کی بڑائی کا اعتراف کرنا ہے۔ اس قسم کا اعتراف آدمی کی انا (ego) سے ٹکراتا ہے۔ دوسرے کا اعتراف کرنا خود اپنی نفی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس قسم کا اعتراف کسی انسان کے لیے بلاشبہ سب سے زیادہ مشکل چیز اس لیے آدمی کسی کے احسان کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
یہ بے اعترافی کسی حد پر نہیں رکتی، مزید آگے بڑھ کر وہ سرکشی بن جاتی ہے۔ آدمی اپنے محسن کا درجہ گھٹانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے، تاکہ اس کی بے اعترافی لوگوں کو ایک معقول اور جائز فعل نظر سرکشی کی یہ قسم دراصل اپنی بے اعترافی کے جواز کے لیے ہوتی ہے، خواہ شعوری طور پر، یا غیر شعوری طور پر۔ ایسا آدمی بھول جاتا ہے کہ اعتراف سب سے بڑی نیکی ہے اور بے اعترافی سب سے بڑی بُرائی۔ اعتراف شریف آدمی کی پہچان ہے، اور بے اعترافی ذلیل آدمی کی پہچان۔
سوال و جواب علماء اور فقہاء عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ اسلامی شریعت کے مصادر چار ہیں قرآن، سنة، سنّت علما اور فقہا عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ اسلامی شریعت کے مصادر چار ہیں ۔ اجماع، قیاس ۔ آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اسلامی شریعت کے مصادر چار نہیں، بلکہ اصلا وہ تین ہیں ۔ قرآن، سنّت اور اجتہاد ۔ اس کا ماخذ کیا ہے ۔ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں ۔ اقتصاد لاتے ہیں ،اس رُو سے اس کے بارے میں یہ بات بھی درست (محمدذکوان ندوی ،نئی دہلی)
میں نے جو کچھ لکھا ہے ، اُس کا مآخذ قرآن ہے۔ یہ ایک بے حد بنیادی مسئلہ سے کوشش بعثت کے میں نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا ماخذ قرآن ہے۔ یہ ایک بے حد بنیادی مسئلہ ہے کہ شریعت کے مصادر کیا ہیں۔ اس سوال کا جواب صرف وہی درست ہوسکتا ہے جو قرآن سے ثابت ہوتا ہو۔ سے کم درجے کا استدلال اس معاملے میں معتبر نہیں۔
شریعت کے تین مصادر ہونے کی بات قرآن کی اس آیت سے براہِ راست طور پر نکل رہی ہے: أطيعوا الله وأطيعوا الرسول، وأولى الأمر منكم (النّساء: 59)۔ اس آیت میں سب سے پہلے اللہ کی اطاعت کا ذکر ہے۔ اس کا ماخذ بلا شبہ قرآن ہے۔ اس کے بعد اس آیت میں اطاعتِ رسول کا ذکر ہے۔ اس کا ماخذ متفقہ طور پر پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کے بعد اس آیت میں تیسرے ماخذ کے طور پر أولى الأمر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُولوالامر (اصحابِ امر) کا نقطہ نظر معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ وہ قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 4 میں کہا گیا ہے کہ اپنے معاملات کے لیے اصحابِ امر سے رجوع کرو، تا کہ وہ استنباط کر کے تم کو رہ نمائی دے سکیں (النساء: 83) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرو اِس آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت کا معاملہ تو بالکل واضح ہے۔ اب سوال یہ
ہے کہ اولوالامر کی اطاعت سے کیا مراد ہے (محمد مصطفیٰ عمری، نئی دہلی)۔
اولوالامر کا لفظی مطلب ہے: اصحاب امر، یعنی وہ لوگ جن کے اوپر مسلمانوں کے امور تنظیم کی ذمے داری ہو۔ اس آیت میں اولوالامر سے مراد کوئی وقتی گروہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا گروہ ہے جو ہر زمانے میں مسلمانوں کے درمیان موجود رہتا ہے۔ دنیوی اعتبار سے مسلمانوں کی جماعت دو قسم کے حالات میں ہو سکتی ہے۔ ایک، وہ جب کہ سیاسی حاكم موجود ہو۔ اور دوسرے وہ جب کہ مسلمانوں کی جماعت موجود ہو، لیکن وہاں سیاسی اعتبار سے کوئی مسلم حاکم موجود نہ ہو۔ اولوالامر کے شرعی معاملے کا تعلق حالات کے مطابق، دونوں قسم کی صورت حال سے ہے۔
ایسے حالات میں جب کہ مسلمانوں کا اپنا سیاسی نظام ہو اور کوئی مسلم حاکم ان کے اوپر حاکمانہ حیثیت رکھتا ہو، تو ایسی صورت میں اسی مسلم حاکم کو اولوالامر کا درجہ حاصل ہوگا۔ تمام مسلمانوں کا فرض ہوگا کہ وہ اس مسلم حاکم کی اطاعت کریں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر وہ اس کے خلاف خروج (بغاوت) نہ کریں۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ مسلم جماعت کے اوپر ان کا اپنا سیاسی حاکم نہ ہو۔ میں علماء اسلام مسلمانوں کی دینی تنظیم کے ذمے دار ہوں گے۔ ان کو غیر سیاسی دائرے میں کے اوپر ناظم کی حیثیت حاصل ہوگی۔ دوبارہ تمام مسلمانوں کا یہ فرض ہوگا کہ وہ غیر سیاسی دائرے میں ان علما کی اطاعت کریں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر وہ ان کی دینی رہ نمائی کو ترک نہ کریں۔ اس کے بغیر مسلمانوں کی ترقی اور ان کی اجتماعی تنظیم ممکن نہیں۔