Al-Risala · May 2008

The Role of Spirituality in Stress Management.

Al-Risala, May 2008, pp. 44–49

By Maulana Wahiduddin Khan

ابتدائی تعارف مسٹر رجت ملہوترا نے کیا۔ اس کے بعد صدر اسلامی مرکز نے تقریر پیا ایک گھنٹے تک تقریر کی۔ اس کے بعد سوال وجواب ہوا۔ لوگوں نے تحریری سوالات کیے جن کا جواب دیا گیا۔ آخر میں اسلامی لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم اس موقع پر گڈ ورڈ بکس کی طرف سے ہال کے باہر اسلامی کتابوں کا ایک اسٹال بھی لگایا گیا۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں وہاں سے کتابیں حاصل کیں۔

3- اسلامک کلچرل سنٹر (لودھی روڈ، نئی دہلی) میں 5 جنوری 2008 کو ایک انٹرنیشنل سیمینار ہوا۔ انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور بعض دوسرے ملکوں کے علماء اور دانش ور شریک ہوئے۔ اس کا موضوع یہ تھا: Peace Building Process in Islam. اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی، اور وہاں موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ اس موقع پر تمام شرکاء کے درمیان سی پی ایس انٹرنیشنل کی طرف سے انگریزی میں چھپے ہوئے دعوتی لٹریچر تقسیم کیے گئے۔

4- شری رام اسکول (گڑگاؤں) میں تعارف اسلام کے موضوع پر 18 جنوری 2008 کو ایک پروگرام اس میں اسکول کے سینئر طلبا اور اساتذہ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس پروگرام کا آغاز نماز سے ہوا۔ تمام طلبا اور اساتذہ نماز میں شریک ہوئے ۔ ان کے سامنے نماز کی اہمیت بتائی گئی اور سادہ انداز میں اسلام کا تعارف پیش کیا گیا۔ اس موقع پر سی پی ایس ٹیم کے افراد بھی وہاں موجود تھے۔ پروگرام کے بعد انھوں نے طلبا اور اساتذہ سے انٹریکشن کیا اور ان کے درمیان دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔ خاص طور پر قرآن کے انگریزی

ترجمے کی ایک ایک کاپی بھی ان کو بطور ہدیہ پیش کی گئی۔ طلبانے اس کو بہت شوق سے لیا اور اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔ 5- ای ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں 19 جنوری 2008 کو ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس کے اینکر مسٹر عبید صدیقی تھے اس ڈسکشن کا عنوان یہ تھا:

Did Benazir Bhutto pay the price of going against fundamentalism. بے نظیر بھٹو (سابق وزیراعظم پاکستان) کو 28 دسمبر کو پاکستان (راولپنڈی) میں قتل کر دیا گیا۔ اُس وقت ان کی عمر 54 سال تھی۔ اس ڈسکشن میں حصہ لینے کے لیے صدر اسلامی مرکز کو بھی بلایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل ان کی اپنی نادانی کے سبب ہوا:

Benazir Bhutto paid the price of going against reason. بے نظیر بھٹو دوبار پاکستان کی وزیر اعظم بن چکی تھیں۔ حالات واضح طور پر بتارہے تھے کہ اب ان کے لیے تیسری باروزیر اعظم بننے کا امکان نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہ لندن کا قیام چھوڑ کر پاکستان گئیں۔ یہ ان کے لیے مشہور انگریزی مثل کا مصداق تھا: Fools rush in where angels fear to tread 6- 22 January, 2008 I have just recieved the Dawah packet containing brochures, and CDs and two books on Reality of life- No doubt, a great message of Peace and Non-violence to the world at unrest. Congratulations to Maulana Sahab, and to the CPS team for doing this great humanitarian/philanthropic work- that, in fact, is the need of the hour. I will give these brochures to Islamic libraries here in Asmara- so that this message of peace should reach to maximum people. (Dr. M. Ashaq Malik, Assistant Professor & Director of Research, Eritrea Institute of Technology, Africa)

7- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 23 جنوری 2008 کو ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں کیندر یہ نوودیۃ ودیالیہ کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے ۔ اس کا موضوع تھا_ اسلام میں انسانی اقدار کا بنیادی تصور۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی ۔ اور موضوع کے مطابق ، قرآن اور حدیث کی روشنی میں آدھ گھنٹے تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ اس موقعے پر سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کی ٹیم کے افراد بھی وہاں انھوں نے حاضرین کے درمیان انگریزی میں چھپے ہوئے خوب صورت پمفلٹ اور برو شر تقسیم کیے۔ 8- 25 January, 2008 I would like to inform you that yesterday night I was changing channels of my tv and on ETV Urdu I saw you and stopped there I attracted to your personality. I went on watching and listening to

your program until it finished. I was really impressed by your intellectual conversation and noted your website from where I got your email address when I arrived at my office. on website I read your brief life sketch and observed Almighty Allah has blessed you to work for the peace and harmony among the human beings. Masha'Allah, it is a great blessing. I would request you to kindly keep me in your prayers and would like to seek guidance from your goodself for better life here and after. (K. B. Shakir, Karachi, Pakistan)

9- الرساله جون 2007 کے شمارے میں شائع ایک مضمون کے خلاف پورے دو ماہ بعد اگست 2007 میں سری نگر میں بعض واعظین، ائمہ مساجد اور دانشوروں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا۔ ذاتی طور پر اگرچہ مجھے آپ کی ہر تحریر سے مجموعی طور پر ہمیشہ اتفاق رہا ہے لیکن اس بار میں خود بھی سخت کنفیوژن کا شکار ہو گیا تھا کہ ایک طرف قرآن وحدیث کے گہرے مطالعہ و تحقیق کے بعد مجھے الرسالہ کی تحریروں میں آج تک کوئی قابل اعتراض اور خلاف اسلام بات نظر نہیں آئی ہے۔ الرسالہ ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے میرے اندر دینی شعور بخشا، دعوت و تبلیغ کا جذبہ ابھارا، مطالعہ و تحریر کی تحریک دی اور اسلام کو از سر نو دریافت کرنے کا ذوق پیدا کیا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس بار یہ بات میرے قلب و ذہن کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی کہ لوگ الرسالہ کی کیوں اتنی زیادہ مخالفت کر رہے ہیں۔ میں اسی ذہنی کشمکش میں تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ کاش کسی بڑے اور معتبر عالم دین سے معلوم ہو جائے کہ الرسالہ کے بارے میں وہ کیا رائے رکھتا ہے۔ بظاہر ہندوستان میں اس طرح کا کوئی قابل اعتماد عالم دین میری نظر میں نہیں تھا کہ جس سے میں خط کے ذریعے الرسالہ کے بارے میں اس کی رائے دریافت کرتا اور وہ بھی خدا ترسی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار فرماتا۔ اس طرح میں اسی اضطراب و بے چینی میں مبتلا تھا کہ 10 اگست 2007 کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ نے دیکھا کہ آپ ہمارے گھر میں تشریف فرما ہیں۔ چہرے پر خاص بشاشت نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے، آپ کمرے کے ایک طرف تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف آپ کے مقابل میں ہندوستان کے مایہ ناز اور ممتاز عالم دین مولانا ابوالکلام آزاد تشریف فرما ہیں۔ چوں کہ میں ذاتی طور پر مولانا ابوالکلام آزاد اور آپ سے بہت زیادہ متاثر ہوں اور استفادہ بھی بہت کیا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں میں صرف آپ کو امت مسلمہ کا حقیقی اور واحد قائد اور رہنما مانتا اس لحاظ سے آپ کو اور مولانا آزاد کو ایک ساتھ خواب میں دیکھنا میرے لیے بہت اچھا اور نیک شگون تھا۔ میرے گھر میں میرے سوا دوسرے افراد بھی تھے لیکن وہ سب آپ کی طرف متوجہ تھے اور آپ کی نصیحت سے لبریز باتوں کو توجہ سے سن رہے تھے۔ چناں چہ میں اس وقت موقع غنیمت جانتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد سے الرسالہ اور آپ کے بارے میں دریافت کرنے لگا۔ مولانا آزاد نے مسکراتے ہوئے مجھے سے قلم اور کاغذ لانے کے لیے کہا، میں

نے یہ دونوں چیزیں حاضر کر دیں۔ مولانا آزاد نے بڑے اچھے اور خوشگوار موڈ میں ایک پورا صفحہ لکھ کر مجھے دیا۔ اس تحریر کو دیکھے بغیر پہلے آپ کو پڑھنے کے لیے دے دیا۔ آپ اس تحریر کو پڑھ رہے تھے اور مسکراتے ہوئے نظر آرہے اس دوران میں محسوس کر رہا تھا کہ مولانا آزاد نے جس عقیدت ومحبت کے ساتھ اس تحریر کولکھا اور آپ نے جس اطمینان وتسکین کے ساتھ اس کو پڑھا اس سے یہی سمجھ میں آرہا تھا کہ مولانا آزاد نے آپ کے اور رسالے کے بارے میں ضرور مثبت رائے کا اظہار فرمایا ہوگا۔ اس کے بعد میں نے چاہا کہ میں بھی اس تحریر کو پڑھوں لیکن میں اس تحریر کو پڑھے بغیر نیند سے جاگ گیا۔

میں نے پھر اپنے طور پر جب اس خواب پر غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ الرسالہ کوئی عام پرچہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی نوعیت کا پورے عالم اسلام میں واحد پرچہ ہے اور اصولی طور پر تمام علماء ربانی اس سے متفق ہیں اور اس سے انھیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک دفعہ مولانا عبد الباری ندوی مرحوم نے بھی آپ کے متعلق کہا تھا کہ آپ جدید طبقہ کے لیے مبعوث ہیں بلاشبہ بات درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخالفین کی طرف سے ہر طرح کی بہتان طرازی والزام تراشی اور کردار کشی و دشنام طرازی کے باوجود الرسالہ مشن اپنے منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے اور آپ کی تحریریں جو قرآن وحدیث کی صحیح تعبیر وتشریح پر مبنی ہیں، شائع ہو رہی ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم وبصیرت کے سب سے اونچے منصب پر فائز فرمایا ہے۔ کیوں کہ خصوصاً آج کل الرسالہ میں جو تحریریں شائع ہوتی ہیں وہ بہت زیادہ ذہانت کی پختگی اور قرآن وحدیث پر زیادہ گہرے غور وفکر کی عکاسی کرتی ہیں۔

میں اپنے اس خط کے ذریعہ کھلے لفظوں میں اس حقیقت کا اقرار کرنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے فکر ونظر سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں اور اسی جذبہ خلوص ومحبّت کے تحت میں نے یہ خط لکھا ہے (غلام نبی کشانی، سری نگر، کشمیر، 26 جنوری 2008 )۔ 10- 28 January 2008 Maulana please accept my gratitude on giving me the actual face of Islam which was always in my mind. Luckily I was not reading religious books so I couldn't develop those kind of two great evils namely, bias and rigidness. Where I am working a friend of mine introduced your literature and the only thing that came out of my mind was that this is the actual face of Islam. I feel so fortunate that Allah has guided me through you. You are the real and only scholar of Islam in my view. May Allah succeed your sincere efforts of spreading Islam in its real form. (Waseem Nasir)

11- یکم فروری 2008 کو اعلی تعلیم یافتہ افراد کا ایک وفد اسلامی مرکز میں آیا۔ یہ مختلف مغربی ملکوں کے لوگ

یہ ایک درجن افراد تھے۔ اُن میں سے چند افراد کے نام یہ ہیں: Linda Shehy, Rachel Gould, Inger Thoresen, Gill Bleaden, Pat Bartlett. یہ لوگ مذاہب کے مطالعے کے لیے انڈیا آئے ہیں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے وہ صدر اسلامی مرکز سے ملے۔ سے اسلام کے مختلف موضوعات پر ڈیڑھ گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔ انھوں نے بہت دھیان کے ساتھ تمام باتوں کو سنا۔ آخر میں اُنھیں انگریزی میں اسلامی لٹریچر دیا گیا۔ اس کو انھوں نے بہت شوق سے لیا۔ انھوں نے کہا کہ آج اسلام کے بارے میں ہماری بہت سی غلط فہمیاں دور ہو گئیں ۔ اسکیم برائے مساجد اور مدارس مساجد اور مدارس اور اداروں کے لیے مولانا وحید الدین خاں کی دس کتابوں کا ایک منتخب سیٹ تیار کیا گیا ہے۔ خواہش مند حضرات آرڈر روانہ کر کے خصوصی رعایتی قیمت پر اس کو حاصل کر سکتے ڈاک خرچ ادارے کے ذمہ ہوگا۔ نیز یہ آرڈر صرف D.D یا M.O کے ذریعے روانہ کیا جو حضرات کتابوں کا یہ منتخب سیٹ مساجد اور مدارس اور اداروں کو اپنی طرف سے ہدیہ کرنا چاہتے ہوں، وہ بھی اس اسکیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تفصیلات درج ذیل ہیں: سیٹ برائے مساجد سیٹ برائے ادارہ و مدارس تذکیر القرآن (اُردو) تذکیر القرآن (ہندی) تذکیر القرآن (اُردو) اللہ اکبر اللہ اکبر قال الله وقال الرسول مطالعہ سیرت الاسلام مطالعہ حدیث دعوت حق فکر اسلامی دین و شریعت سیرت رسول اسلامی زندگی تجدید دین مذہب اور جدید چیلنج دعوت اسلام راز حیات انسان کی منزل راز حیات رعایتی قیمت صرف: -/500 .Rs 1, Nizamuddin West Market, New Delhi-110013 Tel. 2435 5454, 2435 5729 email: info@goodwordbooks.com

دنیا میں ہر آدمی کے لئے کوئی نہ کوئی نقصان مقدر ہے۔ وہ ہے جو نقصان کو خدا کا فیصلہ سمجھ کر اس پر راضی ہو جائے۔

Printed page