Al-Risala · June 2008

ذہنی سکون کا راز

Al-Risala, June 2008, pp. 16–19

By Maulana Wahiduddin Khan

چارلس ڈیوک (Charles Mass Duke Jr.) ایک امریکی خلا باز (astronaut) ہیں۔ وہ 1935 میں امریکا (North Carolina) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اسپیس سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ 1966 میں ناسا (NASA) کے پانچویں خلا باز گروپ کے لیے منتخب کیے گئے۔ انھوں نے خلا (space) میں کئی پروازیں کیں۔ 1972 میں انھوں نے اپالو (16-Apollo) کے ذریعے چاند کا سفر کیا۔ 16 اپریل 1972 میں وہ چاند کی سطح پر اُترے۔ 21 فروری 2008 کی شام کو ہماری ٹیم کے دو ممبر (رجت ملہوترا، سعدیہ خان) ڈاکٹر چارلس ڈیوک سے نئی دہلی کے اشوکا ہوٹل میں انٹرویو کے لیے ملے۔ ملاقات کے وقت انھوں نے دست خط کے ساتھ اپنی ایک تصویر دی۔ اس تصویر میں وہ خلائی سوٹ میں چاند کی سطح پر کھڑے ہوئے دکھائی یہ تصویر اس مضمون کے ایک الگ صفحے پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ہماری ٹیم کے مذکورہ دونوں ممبروں نے امریکی خلا باز ڈاکٹر چارلس ڈیوک کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ اس انٹرویو کا موضوع اسپرچوئلٹی (spirituality) تھا۔ انٹرویو کے دوران اُن سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ کیا آپ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں، اور آپ کو پُرمسرت زندگی حاصل ہے۔ اس کے جواب میں انھوں نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ۔ ابتدائی طور پر میری زندگی میں سکون نہ تھا۔ میں نے یہ سمجھا کہ چاند مجھ کو سکون دے گا۔ میں نے یہ سمجھا کہ خلا بازی کی زندگی مجھے سکون عطا کرے گی۔ میں خلا باز بن گیا، مگر خلا بازی کی زندگی نے مجھ کو سکون نہیں دیا۔ پھر میں نے سوچا کہ میں اپنا کیریر بدل دوں۔ میں نے ناسا میں ایسٹروناٹ کا جاب چھوڑ دیا اور بزنس شروع کر دیا۔ میں نے کافی دولت کمائی، مگر اب بھی میری زندگی میں سکون نہ تھا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اب بھی میری زندگی میں کوئی چیز مفقود ہے: I had no peace in life. I thought the moon would give me peace. I thought all these goals, all these accomplishments, this great career would give me peace, but it didn't, So I thought I'll change career. So I left NASA as an astronaut and went into

business. Imade a lot of money but I still had no peace in my life. There was still something missing. New Delhi, Charlse Duke Jr. February 21, 2008 یہ معاملہ صرف ڈاکٹر چارلس ڈیوک کا نہیں، یہی موجودہ زمانے میں تمام لوگوں کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دولت اور شہرت اور اقتدار حاصل کرنے کے مواقع بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ نہایت تیزی کے ساتھ ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ان چیزوں کو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سپر اچیو رس (super achievers) کہا جاتا ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ تمام سپر اچیو رکا کیس سپر ناکامی (super failure) کا کیس تھا۔ سب کچھ پانے کے باوجود ان لوگوں کو داخلی مسرت حاصل نہیں ہوئی۔ آخر کار وہ مایوسی کا احساس لے کر مر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کا زمانہ ہے۔ صورت حال نے موجودہ زمانے میں ایک نئی اصطلاح پیدا کی ہے جس کو اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے (super achievers) کہا جاتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر بڑی کامیابی آخر میں صرف بڑی ناکامی (super failure) بن گئی۔ اس قسم کے لوگ نئے قسم کے سنگین مسائل میں مبتلا ہو گئے۔ مثلاً مہلک بیماریاں، وغیرہ۔

انھیں نئے مسائل میں سے ایک ٹینشن (tension) یا اسٹریس (stress) ہے۔ پاس دولت اور شہرت اور اقتدار سب کچھ موجود ہے، لیکن ان ظاہری کامیابیوں کے باوجود لوگ مسلسل ٹینشن اور اسٹریس میں مبتلا رہتے ہیں۔ زیادہ دولت صرف زیادہ بیماری کا سبب بن رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ ریسرچ میڈیکل سائنس میں ہورہی ہے، تا کہ نئی نئی بیماریوں کا علاج دریافت کیا اس صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نیا بزنس شروع ہوگیا ہے جس کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کہا جاتا ہے۔ ان اداروں میں بڑے بڑے ماہرین، لوگوں کو اسٹریس سے نجات دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ لوگوں کا ٹینشن اور اسٹریس بدستور بڑھتا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا خطرہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ نہیں ہے، بلکہ ٹینشن اور اسٹریس کا خطرہ ہے۔

یہ صورت حال ہم کو قرآن کی ایک آیت کی یاد دلاتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: ألا بذكر الله تطمئن القلوب (الرّعد: 28) اسی بات کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمایا: اللهم لا عيش إلّا عيش الآخرة (صحيح البخاري، كتاب الرّقاق) اس کا مطلب یہ ہے کہ خدائے برتر ہی کو اپنا سپریم کنسرن (supreme concern) بنانے سے انسان کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اپنی پسند کی جو زندگی انسان چاہتا ہے، وہ صرف موت کے بعد کے دور حیات میں کسی انسان کو موت سے پہلے کے دور حیات میں کسی کو اپنی پسند کی زندگی ملنے والی نہیں۔ اس معاملے کا براہ راست تعلق خالق کے کریشن پلان (creation plan of God) سے خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان گاہ (testing ground) کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کسی کے لیے بھی اپنی آرزوؤں کی تکمیل کی جگہ نہیں بن سکتی۔ موجودہ دنیا ہر عورت اور مرد کے لیے سفر کا مرحلہ ہے، اور بعد کو آنے والی آخرت کی دنیا اس کی ابدی منزل ہے۔

آپ، بس یا ٹرین یا ہوائی جہاز میں سفر کر رہے ہوں اور اس کے اندر آپ گھر والی سہولتیں حاصل کرنا چاہیں، تو آپ اس کو حاصل نہ کرسکیں گے۔ کیوں کہ سواری صرف سواری ہے، وہ گھر کا بدل اس طرح موجودہ دنیا میں خواہشوں کی تکمیل (fulfillment) کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ آدمی اپنی خواہشوں کی تکمیل چاہتا ہو، اس کو آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: لمثل هذا فليعمل العاملون (الصّافات: 61)۔ دعوتی لٹریچر مفت حاصل کیجئے مساجد کے ائمہ حضرات دعوتی مقصد کے لیے اردو اور انگریزی پمفلٹس (دعوت الی اللہ، ریلیٹی آف لائف، وغیرہ) مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

1, Nizamuddin West Market, New Delhi-110013 Tel. 24355729, 24355454

Printed page