Sir, this is for your inflight reading.
Al-Risala, June 2008, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
منسٹر صاحب نے شکریہ ادا کرتے ہوئے پمفلٹ کو لے لیا اور اُسی وقت اس کو پڑھنا شروع کر دیا، مسٹر رجت ملہوترا نے جب یہ واقعہ مجھے بتایا، تو میں نے یہ سمجھا کہ موجودہ زمانے کے دعوتی امکانات میں سے ایک امکان یہ بھی ہے کہ حاکم (ruler) اور محکوم (ruled) دونوں ایک سواری پر سفر کریں، اور محکوم کسی قسم کے درباری رسوم ادا کیے بغیر حاکم کو بے تکلف ایک خوب صورت چھپا ہوا دعوتی پمفلٹ پیش کر سکے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی اتری، تو اُس میں یہ کہا گیا تھا: علّم بالقلم (القلم : 4)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی دعوت ایک مبنی بر لٹریچر (literature-based) قدیم زمانے میں جب کہ پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا، یہ دعوتی لٹریچر لوگوں کے حافظے میں ہوتا تھا۔ آدمی کا حافظہ ہر وقت اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس پوزیشن میں ہوتا تھا کہ اپنے حافظے کی مدد سے لوگوں کو دعوتی پیغام دے سکے۔ اب پرنٹنگ پریس کے زمانے میں یہ کرنا ہے کہ داعی ہر وقت اپنے پاس چھپا ہوا دعوتی لٹریچر رکھے، اور ملاقاتوں کے دوران اِسے لوگوں کو دے سکے۔