Al-Risala · June 2008

قدیم شرک، جدید شرک

Al-Risala, June 2008, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی کے دوراستے ہیں۔ سیدھا راستہ اور بھٹکاؤ کا راستہ سیدھا راستہ یہ ہے کہ آدمی خالق کو اپنی زندگی میں مرکزی مقام دے، وہ خالق کو اپنا سب کچھ بنا لے ۔ بھٹکاؤ کا راستہ یہ ہے کہ آدمی مخلوق میں گم ہو جائے، وہ مخلوق کی نسبت سے اپنی زندگی کا پورا نقشہ بنائے۔ پہلے طریقے کا نام حید ہے، اور دوسرے طریقے کا نام شرک ہے۔ میں صرف دو چیزیں ہیں — خالق اور مخلوق۔ خالق کو اپنا کنسرن بنانے کا مذہی نام تو توحید ہے، اور مخلوق کو اپنا کنسرن بنانے کا مذہی نام شرک۔

جیسا کہ معلوم ہے، انسانیت کے آغاز ہی سے ہر زمانے میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور انسان کو صحیح اور غلط کی رہ نمائی دیتے رہے۔ ہر پیغمبر کا مشن ایک ہی تھا۔ انسان کو توحید کی طرف بلانا، اور اس کو شرک سے بچنے کی تلقین کرنا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ہر زمانے میں توحید ایک تھی، اسی طرح شرک بھی ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔

قدیم شرک یا شرک کا قدیم ورژن (ancient version of shirk) نیچر پرستی (nature worship) پر قائم تھا۔ نیچر کی حیثیت مخلوق کی ہے۔ قدیم زمانے کے انسان نے نیچر کو معبود کا درجہ دے دیا۔ وہ نیچر پرستی (nature worship) کی بُرائی میں مبتلا ہو گیا، یعنی خالق کی پرستش کے بجائے مخلوق کی پرستش کرنا۔ اسی کو مظاہرِ فطرت کی پرستش کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ شرک اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ آج کا انسان بھی یہی کر رہا ہے کہ وہ خالق کے بجائے مخلوق کو اپنا سب کچھ (supreme concern) بنائے ہوئے ہے۔ قدیم شرک اور جدید شرک کے درمیان جو فرق ہے، وہ ظاہر کے اعتبار سے ہے، نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے۔ قدیم انسان نے نیچر کو پرستش کا موضوع (object of worship) بنایا تھا۔ نے نیچر کو تفریح کا موضوع (object of entertainment) بنا لیا ہے۔ جذباتِ عبودیت کا مرکز

پہلے بھی مخلوقات تھیں، اور اب بھی جذباتِ عبودیت کا مرکز مخلوقات ہیں۔

موجودہ زمانے کے انسان کا نظریہ یہ ہے کہ اپنے آج (now) میں خوش رہو، کل کی فکر چھوڑ یہ ’’آج‘‘ کیا ہے۔ یہ وہی سامانِ حیات ہے جو ہم کو نیچر کی صورت میں ملا ہے۔ یہ سامانِ حیات خدا کی دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ تفریح کے سامانوں میں سے کوئی بھی سامان انسان نے خود نہیں بنایا، وہ اس کو خالق کی طرف سے ملا ہے۔ یہ خالق ہے جو ساری چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ آج کے انسان نے یہ کیا کہ اُس نے نعمت (blessing) کو لیا، اور منعم (giver) کو چھوڑ دیا۔ یعنی خالق رُخی نظریے کو ترک کرکے، مخلوق رُخی نظریے کو اختیار کرلیا۔

انسان کی یہ فطرت ہے کہ اُس کو جب کوئی چیز ملے تو وہ دینے والے کا اعتراف کرے۔ احساسِ تشکر (gratitude) انسان کی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے دور بارہ یہ کیا کہ اُس نے اپنے احساسِ تشکر کو خالق کے بجائے مخلوق کی طرف موڑ دیا۔ جو قلبی اعتراف اس کو مُنعم کے لیے پیش کرنا چاہیے تھا، اُس کو وہ مُنعم کی پیدا کردہ مخلوق کے لیے پیش کرنے لگا۔ آج کل کے لوگوں کی باتیں سنیے، یا ان کی تحریریں پڑھیے تو بار بار اس قسم کے نمونے سامنے ہر آدمی اپنے روزانہ کے تجربات میں اس کے نمونے دیکھ سکتا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر میں ایک حوالہ نقل کروں گا۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (27 جنوری 2008) میں اس موضوع پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے کا نام ڈونا (Donna Devane) ہے۔ مضمون کا عنوان یہ ہے:

Printed page