Al-Risala · June 2008

Be happy here and now.

Al-Risala, June 2008, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل کے زمانے میں انسان ایک عام مسئلے سے دوچار ہے۔ وہ ٹینشن یا اسٹریس (stress) یہ ٹینشن کیوں ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کو اُس کی مطلوب خوراک نہیں دے رہا وہ خالق کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بھرپور انتفاع کر رہا ہے، لیکن وہ خالق کا اعتراف نہیں کرتا۔ یہ بے اعترافی، یا عدم تشکر فطرت کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ انسان کے اندر شعوری یا غیر شعوری

طور پر ٹینشن یا اسٹریس کا سبب بنا ہوا ہے۔ موجودہ انسان نے اس کا یہ غیر فطری حل دریافت کیا ہے کہ دینے والے کے بجائے، خود دی ہوئی چیزوں پر تشکر کا اظہار کرنا۔ مذکورہ مضمون اسی جدید ذہن کی نمائندگی کر رہا ہے۔ چناں چہ اس میں کہا گیا ہے کہ ــ تم ملی ہوئی چیزوں پر خوب تشکر کا اظہار کر اور تم ٹینشن سے بچ جاؤ گے۔ اس سلسلے میں مضمون نگار کے الفاظ یہ ہیں: Gratitude feels my soul as I enjoy my computer, more about my home, enjoy the feeling of a hug from my daughter. There is so much to be grateful for each moment of each day. I find that where gratitude goes, joy flows, spend a few moments throughout the day with thought shifter statements. A few of the thought shifter statements that I use are— I am so happy and joyful to believe. I am so happy and grateful for this wonderful mind, and body that allows me to enjoy touch, taste, sound, and movement. I am so happy and grateful for my family, and friends, and the love we share. I am so happy and grateful for my home and utilities. I am so happy and grateful for my computer, my internet, my ability to type and share with friends all over the world. انسان کے اندر جس طرح بھوک اور پیاس کا طاقت ور جذبہ موجود ہے، اِسی طرح یہ جذبہ بھی انسان کے اندر نہایت طاقت ور شکل میں موجود ہے کہ وہ اپنے محسن کے احسان کا اعتراف کرے۔ فطرت کے اعتبار سے انسان اس کا تحمّل نہیں کر سکتا کہ اُس کو کسی سے کوئی بڑی چیز ملے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ آدمی کا فطری مزاج یہ ہے کہ جب اُس کو کسی سے کوئی بڑا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی پوری شخصیت چاہتی ہے کہ چیخ کرو وہ اس کا اعتراف کرے۔ یہ انسان کی ایک ایسی صفت ہے جس سے کوئی بھی عورت یا مرد خالی نہیں۔

انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ سب خدا کا عطیہ ہے۔ خواہ اس کا اپنا وجود ہو یا اس کے باہر کا وہ پورا نظام جس کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے، سب کا سب اس خدا کی طرف سے یک طرفہ عطیہ کے طور پر ملا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ وہ ان تمام عطیات (blessings) کے لیے ان کے مُعطی (giver) کا بھر پور اعتراف کرے۔

میں سے ایک قسّم اُن عطیات کی ہے جو براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے انسان کو مل رہے ہیں ۔ ہوا اور پانی اور روشنی ، وغیرہ ۔ اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو بالواسطہ طور پر خدا کا عطیہ ہیں ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو انسان نے عالمِ فطرت میں دریافت کر کے خدا کی دی ہوئی عقل کے ذریعے اُن کو مختلف قسم کی مصنوعات میں تبدیل کیا ہے۔ مثلاً تمام قسم کے کنزیومر گڈس (consumer goods) ۔ یہ تمام عطیات تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے سارے دل اور سارے دماغ کے ساتھ اُن کا اعتراف کرے ۔ لیکن خود ساختہ فلسفوں کے تحت ، انسان نے یہ کیا کہ اُس نے عطیات کو لیا ، اور اُن کے معطی (giver) کو حذف کر دیا۔ یہ ایک بھیانک غلطی تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی فطرت ایڈریس ہونے سے رہ گئی :

Printed page