Al-Risala · June 2008

ایک علمی ملاقات

Al-Risala, June 2008, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

30 مارچ 2008 کی شام کو دو اعلی تعلیم یافتہ صاحبان سے ملاقات ہوئی۔ ایک، مشہور برطانی جنرلِسٹ سرمارک تلی (Sir Mark Tully)، اور دوسرے، برطانیہ کے ایک مسیحی عالم (Bishop of Kingston) ڈاکٹر رچرڈ (Dr. Richard Cheetham)۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ چناں چہ اُن سے اسلام کے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سر مارک تلی نے کہا کہ اسلام کے اعتقادی نظام میں ایک خدا کے عقیدے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے، یا خدا کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت بھی ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں کوئی عقیدہ محض ادّعائی عقیدہ (dogmatic belief) نہیں ہوتا، اسلام کے اعتقادی نظام فطرت کے اٹل اصولوں پر قائم ہے۔ اسی کو موجودہ زمانے میں سائنسی بنیاد (scientific base) کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ 1920 سے پہلے جو نیوٹنین میکانکس (Newtonian Mecanics) تھی، اس کے مطابق، مادّہ (matter) کی آخری اکائی (unit) ایٹم تھا۔ اُس وقت ایٹم (atom) ناقابل تقسیم سمجھا جاتا تھا۔ اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر چیز قابلِ مشاہدہ ہے، اس لیے معقول استدلال (valid argument) وہی ہے جو براہِ راست استدلال (direct argument) کے اصول پر مبنی ہو۔ مگر 1920 کے بعد نیوکلیئر سائنس (nuclear science) میں جو نئی تحقیقات ہوئیں، اس کے نتیجے میں ایٹم ٹوٹ گیا۔ اب کلاسکل فزکس (classical physics) کی جگہ ویومیکانکس (wave mechanics) وجود میں آئی۔ اس تبدیلی کا اثر اصولِ استدلال پر پڑا۔ اس نئی دریافت نے استنباطی استدلال (inferential argument) کی اہمیت بڑھادی۔ اب یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال بھی اتنا ہی معقول استدلال (valid argument) ہے، جتنا کہ براہِ راست استدلال (direct argument)۔ بناء استدلال کی اس تبدیلی کے بعد خدا کے عقیدے پر استدلال قائم کرنا اتنا ہی ممکن ہوگیا ہے، جتنا کہ الیکٹران پر استدلال قائم کرنا۔ جیسا کہ معلوم ہے، الیکٹران کے وجود کو استنباطی دلیل کے ذریعے ثابت

کیا جاتا ہے۔ یہی استنباطی استدلال اب خدا کے وجود کو علمی طور پر ثابت کرنے کے لیے بھی حاصل ہوگیا چناں چہ برٹرینڈ رسل (وفات: 1970) نے ڈیزائن سے استدلال (argument from design) کو اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک سائنسی استدلال قرار دیا ہے۔

میری اس بات کو سن کر ڈاکٹر رچرڈ نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ موجودہ طبیعیاتی علماء (physicists) اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ کائنات کی حد درجہ معنویت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ موجودہ کائنات کسی ذہن (mind) کی تخلیق ہے، لیکن علماء حیاتیات (biologists) اس کی تائید میں نے کہا کہ بطور واقعہ آپ کا کہنا صحیح ہے، لیکن علماء حیاتیات کی یہ رائے کسی سائنسی حقیقت پر مبنی نہیں، ان کی یہ رائے تمام تر ایک غلط مفروضے پر قائم ہے۔ چارلس ڈارون (وفات: 1802) نے اس معاملے میں ایک غلط مفروضہ پیش کیا اور پھر تمام لوگوں نے اس مفروضے کو بطور حقیقت مان لیا۔ ڈارون نے زندگی کے مختلف نمونوں کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا۔ اُس نے پایا کہ ہماری زمین پر بہت سی انواع حیات (species) پائی جاتی ہیں، مگر ان کے جسمانی ڈھانچے میں بہت زیادہ مشابہت مثلاً بلی اور شیر کے ڈھانچے میں مشابہت، بکری اور زرافہ کے ڈھانچے میں مشابہت، انسان اور بندر کے ڈھانچے میں مشابہت، وغیرہ۔ ان مشابہتوں (similarities) کو لے کر ڈارون نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ یہاں نیچرل سلیکشن (natural selection) کے اصول کے تحت، ایک ارتقائی عمل (evolutionary process) ہوا ہے۔ اس ارتقائی عمل کے تحت، ایک نوع دوسری نوع میں خود بخود تبدیل ہو رہی ہے۔

میں نے کہا کہ اس معاملے میں ڈارون کی غلطی یہ تھی کہ اس نے مختلف انواع حیات کے درمیان ان مشابہتوں کی غلط توجیہہ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مشابہتیں زندگی میں تنوع (varieties) کو بتاتی ہیں، نہ کہ مفروضہ ارتقائی عمل کو۔ ہم متنوع اقسام حیات کو دیکھ رہے ہیں۔ اس لحاظ سے تنوع کا نظریہ اپنے آپ ثابت شدہ ہے۔ اس کے مقابلے میں ارتقائی عمل کا تصور محض ایک قیاس ہے، جس کے حق میں کوئی واقعی ثبوت موجود نہیں۔ انھوں نے میری بات سے اتفاق کیا۔

Printed page