Al-Risala · June 2008

عقل اور جذبات

Al-Risala, June 2008, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں کسی کام کے بننے یا بگڑنے کا اصول صرف ایک ہے۔ جو کام عقلی طور پر غور و فکر کے ذریعے کیا جائے، وہ ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور جو کام جذباتی ردّعمل کی صورت میں کیا جائے، اُس کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ عقلی غور و فکر کے ذریعے کیے ہوئے کام کو مثبت عمل کہہ سکتے ہیں، اور جذبات کے تحت کیے ہوئے کام کو منفی عمل۔

موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسے واقعات پیش آتے ہیں، جب کہ آدمی کے اندر منفی جذبات بھڑک مثلاً غصہ، حسد لالچ اور گھمنڈ، وغیرہ۔ یہ جذبات فوری طور پر آدمی کو شدت کے ساتھ متاثر آدمی اگر اس شدتِ تاثر کے تحت کوئی کام کرنے لگے، تو اسی کا نام جذبات کے تحت کام ایسا کام کبھی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوتا۔ اُس میں حالات کا پورا جائزہ نہیں لیا یہی وجہ ہے کہ اس طرح کا کام ہمیشہ بے نتیجہ انجام پر ختم ہو جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب آدمی کے اندر جذبات بھڑکیں، وہ کسی صورت حال کے نتیجے میں شدتِ تاثر میں مبتلا ہو، تو وہ فوری طور پر کوئی کارروائی نہ کرے ۔ وہ صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے معاملے کے تمام موافق پہلوؤں اور نا موافق پہلوؤں پر غور کرے۔ وہ اپنی عقل کو استعمال کرے اور دوسرے صاحبِ الرّاے لوگوں سے مشورہ کرے۔ اس طرح کے ایک صابرانہ کورس سے گزرنے کے بعد وہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔

پہلا طریقہ گویا کہ اندھیرے میں چھلانگ لگانے کا طریقہ ہے۔ اور دوسرا طریقہ روشنی میں اپنا سفر طے کرنے کا طریقہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اندھیرے میں چھلانگ لگانا ہمیشہ آدمی کو ہلاکت تک پہنچاتا ہے۔ میں سفر کا طریقہ ہمیشہ آدمی کو کامیابی تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ عقل اور جذبات دونوں فطری طور پر انسان کے اندر موجود ہیں، مگر عقل کی حیثیت رہ نما کی ہے، اور جذبات کا کام یہ ہے کہ وہ عقل کی رہ نمائی میں زندگی کا سفر طے کرے۔ جذبات کو اگر رہ نما کی حیثیت دے دی جائے تو اس کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔

Printed page