Al-Risala · June 2008

Ego has no place in the world.

Al-Risala, June 2008, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بے اہم بات ہے ۔ ایک آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھر کے ماحول میں لاڈ پیار (pampering) کے ماحول میں رہتا ہے ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ گھر کے اندر اس کی شخصیت ہی مرکزی دوسرے لوگ وہی کرتے ہیں جو وہ چاہے۔ گھر کے ماحول میں اس کی انا (ego) ہی مرکزی شخصیت کا درجہ رکھتی ہے۔

لیکن جب وہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بالکل مختلف ماحول یہاں مکمل طور پر مقابلہ اور مسابقت (competition) کا ماحول ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے، وہ اُس کے ذاتی جوہر (merit) کی بنیاد پر ملتا ہے۔ انسان کے ذاتی جوہر کے سوا، کسی اور چیز کی یہاں کوئی قیمت نہیں۔ باہر کی دنیا مکمل طور پر اس اصول پر قائم ہے ــــ مقابلہ کر کے جیو، یا مرجاؤ: Compete, or perish یہ زندگی کی ایک سنگین حقیقت ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد کو اس سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ماں باپ کی سب سے بڑی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس آنے والے امتحان کے لیے تیار کریں۔ اس معاملے میں کوئی بھی دوسری چیز ذاتی تیاری (self-pereparation) کا بدل نہیں سکتی۔ ذاتی تیاری ہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو مقابلے کی اس دنیا میں کامیاب بناسکتی ہے۔ حقائق کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ ایسی حالت میں کسی غیر حقیقی بنیاد پر کامیابی کا حصول اس دنیا میں ممکن نہیں۔

Printed page