Al-Risala · June 2008

زندگی کا فارمولا

Al-Risala, June 2008, pp. 35–42

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے لیے زندگی کا کامیاب فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے آخرت کے لیے غم، اور دنیا کے لیے بے غم۔ یہی انسان کے تمام معاملات کا خلاصہ ہے۔ یہی واحد طریقِ زندگی (way of life) ہے جس میں انسان اپنے لیے سکون پاسکتا ہے۔

انسان کے اندر پیدائشی طور پر طلب کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ انسان اپنی پوری ساخت کے اعتبار سے چاہتا ہے کہ کوئی چیز ہو جس کو وہ اپنا اصل کنسَرن (sole concern) بنائے، جس کے حصول کے لیے وہ اپنا سارا وقت اور اپنی ساری توانائی (energy) صرف کرے۔ یہ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے، اور کوئی بھی شخص اِس فطری تقاضے سے خالی نہیں۔

انسان جب پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے گرد و پیش ایک مادی دنیا (material world) پھیلی ہوئی ہے۔ ہر آدمی اِس مادی دنیا کے حصول کو اپنا کنسَرن بنائے ہوئے وہ اُس کے حصول کے لیے رات دن کوشش کر رہا ہے۔ اس ماحول میں ہر پیدا ہونے والا آدمی وہی کرنے لگتا ہے جو دوسرے عورت اور مرد کر رہے ہیں۔

مگر اِس کا نتیجہ کیا ہے۔ ہر آدمی ساری جد و جہد کے باوجود اپنے مطلوب کو حاصل نہیں کر پاتا اور مایوسی (despair) کے احساس میں مر جاتا ہے۔ اس دنیا میں بیماری، حادثہ، بڑھاپا، نقصانات اور موت، فیصلہ کُن طورپر اس راہ میں رکاوٹ ہیں کہ آدمی اس دنیا میں اپنی طلب کی تکمیل کر سکے۔ یہ عمومی نتیجہ ہر عورت اور مرد کے لیے ایک رہ نما واقعہ ہے۔ یہ نتیجہ بتاتا ہے کہ فطرت کی طلب کی تکمیل (fulfillment) موجودہ دنیا میں ممکن نہیں، اس کے حصول کا مقام آخرت ہے جو موت کے بعد آنے والی ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے کامیابی کا فارمولا صرف یہ ہے کہ وہ آخرت کو اپنا سپریم کنسَرن بنائے، اور موجودہ دنیا کے معاملے میں وہ بقدرِ ضرورت پر راضی ہو جائے دنیا میں بقدر ضرورت پر راضی ہو جانا، اور آخرت کو اپنا سپریم کنسرن بنا لینا، یہی اس دنیا میں کامیاب زندگی کا فارمولا ہے۔

الرساله، مارچ 2008 ملا۔ یوں تو میں الرسالہ کا دس سال سے زائد مدت سے مطالعہ کرتا آرہا ہوں اور ہر مضمون سے الحمد للہ نفع حاصل ہوتا ہے، لیکن اس ماہ کے الرسالہ میں مضمون ”جھوٹ کی دو قسم“ ایک چشم کشا (eye opener) مضمون ثابت ہوا۔ اس مضمون کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوا کہ گویا اب تک اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ میں نے جھوٹ کی بنیاد پر قائم کر رکھا تھا۔ اللہ آپ کو اس نصیحت اور خیر خواہى کے لیے جزائے خیر عطا فرمائے۔ اس مضمون کے مطالعہ کے بعد اب میری کوشش ہے کہ میں ہر حال میں کذب خفی سے بچوں۔ اللہ سے اس کے لیے دعا بھی کرتا ہوں۔

مضمون کے آخری حصہ، جس میں کذب خفی کا انجام، کمزور شخصیت، کی شکل میں ظاہر ہونا لکھا گیا ہے، اس نے بھی خاص طور پر متاثر کیا۔ ابھی تک منافقانہ شخصیت کا جو تصور ذہن میں بنا ہوا تھا، اس کے اندر کافی تبدیلی آگئی۔ کذب خفی بھی منافقانہ شخصیت کی پرورش کرتا ہے، اس کا علم پہلی بار ہوا۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ کذب خفی سے بچنا فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہے، جس طرح ہر ایمان والے کے لیے منافقانہ صفات سے بچنا فرض کے درجہ میں ضروری ہے (ساجد انور، مہاراشٹر)۔ حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دو قسمیں ہیں — شرک جلی اور شرک خفی۔ اس پر قیاس کر کے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسی طرح کذب کی بھی دو قسمیں ہیں — کذب جلی، اور کذب خفی۔ جہاں تک کذب جلی کا معاملہ ہے، وہ ایک معلوم بات ہے۔ ہر آدمی بہ آسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ کون سا بیان کذب جلی کی تعریف میں آتا ہے۔ البتہ کذب خفی کو صرف سنجیدہ غور وفکر کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ کذب خفی تقریباً وہی چیز ہے جس کو ٹوسٹ (twist) کرنا کہتے ہیں، یعنی بات کو توڑ مروڑ کر یہ عمل آدمی خاص طور پر دو مقصد سے کرتا ہے۔ کسی معاملے میں جب آدمی کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو، تو وہ بات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ اس کی اپنی ذات پر کوئی حرف نہ آئے۔

جب ایک آدمی دوسرے شخص کو بدنام کرنا چاہے، تو وہ اس کی بات کو صحیح صورت میں نہ پیش کرکے، بدلی ہوئی صورت میں پیش کرتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے ــــ اخبار نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا: The newspaper was accused of twisting the facts. ٹوٹ کر کے بات کو پیش کرنے کا طریقہ موجودہ زمانے میں اتنا زیادہ عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی کوئی انسان اس برائی سے بچا ہوا ہو۔

اس معاملے کو جاننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ضمیر (conscience) سے اس کو دریافت کرے۔ کوئی عورت یا مرد جب کسی بات کو ٹوٹ کر کے کہتے ہیں، تو ان کا ضمیر فوراً اس کی خلش محسوس کرنے لگتا ہے۔ ضمیر اپنی خاموش زبان میں کہتا ہے کہ تم اس معاملے میں صاف گوئی سے کام نہیں لے رہے ہو، بلکہ تم اس کو بدلی ہوئی صورت میں پیش کر رہے ہو۔ اپنے ضمیر کی اس آواز کو سنے، تو یہ آواز ہی اس معاملے میں اس کی اصلاح کے لیے کافی ہو جائے۔ میں الرسالہ کا پچھلے 6-5 سال سے مسلسل مطالعہ کر رہا ہوں اور الرسالہ کی ہر بات سے اتفاق رکھتا ہوں ۔ الرسالہ میں اسلامی تعلیمات کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ پڑھنے اور سننے والے کے مائنڈ کو ایڈرس کرتی ہیں ۔ یہ طریقہ کہیں اور دیکھنے اور سننے میں نہیں آتا۔ میں شروع میں تبلیغی جماعت سے جڑا تھا اور 5-4 بار 3-3 دن بھی لگایا۔ لیکن اس کے بعد جب الرسالہ مجھے ملا اور میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا تو میری سوئی ہوئی فطرت جاگ اٹھی۔ یہ تجربہ مجھے جماعت میں جانے سے نہیں ہوا تھا۔ تبلیغی جماعت میں دین کے صرف ظاہری فارم کو بنانے کی بات پر زور دیا جاتا ہے، نہ کہ اندرونی انسان سازی پر۔ پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ طریقہ امت کے عوام طبقہ کے لیے درست ہو سکتا ہے، جس کو سرے سے اس بات کا علم ہی نہیں کہ دین کیا ہے ، خدا ، رسول اور آخرت کیا ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ عوام ہوں یا خواص، تبلیغی جماعت میں جڑنے کے بعد مسلمان ذہنی جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے سے باہر کسی بات پر سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس لیے کہ اس

میں کچھ گنی چنی باتوں کو دہرایا جاتا ہے اور خالص روایتی انداز میں بات کہی جاتی ہے، بنا کسی دلیل کے۔ میرے محلے کا واقعہ ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ کچھ دنوں پہلے میری بیٹی کے گھرڈلیوری ہونے والی تھی، میرے داماد پر محلے کی جماعت کے ساتھیوں نے چار مہینہ جماعت میں لے جانے کے لیے زور دیا۔ اس پر میں نے یہ بات جماعت والوں کو بتائی تو انھوں نے کہا کہ سب اللہ اچھا کرے گا۔ ایسا کہہ کر وہ اس کو اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ دنوں بعد میری لڑکی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ پھر میں اس کو اپنے گھر لایا اور اسپتال میں بھرتی کرایا جس میں مجھے قریب 17000 روپے کا خرچ اٹھانا پڑا۔ میری بچی کی جان خطرے میں تھی۔

یہ بات جب میں نے اپنے داماد کو جماعت سے واپس آنے پر بتائی تو وہ میرا احسان ماننے کے بجائے مجھ سے جھگڑا کرنے لگے اور 17000 میں سے ایک پیسہ بھی مجھے نہیں دیا۔ تب سے مجھے جماعت کے نام سے نفرت ہو گئی ہے۔ یہ بات مذکورہ صاحب نے مجھے اُس وقت بتائی جب میں نے ان سے فجر کی نماز کے بعد مسجد سے باہر نکلتے وقت پوچھا کہ آج کل آپ تعلیم میں کیوں نہیں بیٹھتے۔ طرح کے اور بھی واقعات ہیں۔

اصل یہ ہے کہ تبلیغی جماعت میں بھیڑ دیکھ کر آدمی اُس سے جڑ تو جاتا ہے لیکن وہ خدا کی معرفت اور دین کی حقیقت سے ہمیشہ بے خبر رہتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد جب میرے اندر صحیح طرز فکر پیدا ہوا تو میں نے ان حضرات سے کہا کہ آپ لوگ صبح شام ایک ہی کتاب پڑھتے رہتے ہیں اور وہ فضائل اعمال ہے۔ اور بات کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی۔ کہ آپ کا طریقہ تو یہ تھا کہ آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے اور قرآن سے ہی دعوت دیتے تھے، جب کہ ان کی مخاطب قوم تو جہالت کی حد پر تھی۔ پھر جب وہ قوم قرآن کے ذریعے ہمارے لیے نمونہ بنا دی گئی تو ہمیں جھوٹے فضائل کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے۔ جس دین میں خدا کی کتاب ہی کا وجود نہیں، وہ دین کیسا۔

میری اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ لہذا وہ کسی مفتی سے یہ جواب لے کر آئے

کہ قرآن کو صرف علماء ہی سمجھ سکتے ہیں ، عام مسلمان اس کو پڑھنے سے بھٹک سکتا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے جماعت کے آدمی کا ذہن ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ خود کسی بات پر کھلے ذہن کے ساتھ سوچ نہیں بس ایک بات یا جملہ ان کے بڑوں نے کہہ دیا تو وہ پتھر کی لکیر ہوگئی ، صحیح ہے یا غلط اس پر کسی کو عقل لگانے کی ضرورت نہیں۔

میرے ساتھ اللہ کا یہ بڑا احسان ہوا جو اس نے مجھے الرسالہ کے ذریعہ اس گمراہی سے باہر نکال اب میرے ساتھ یہ معاملہ ہو گیا ہے کہ نہ صرف میں خود الرسالہ پڑھتا ہوں ، بلکہ الرسالہ کی اردو اور انگریزی کاپیاں اپنے ساتھ بیگ میں ہمیشہ رکھتا ہوں اور اپنے آفس میں، اور دوستوں کو پڑھنے کے لیے دیتا رہتا ہوں۔ ابھی فی الحال میں نے ایسا کیا ہے کہ میں اپنے رشتہ داروں کے ایڈریس الرسالہ آفس میں ڈی ڈی کے ساتھ بھیجنا شروع کیا ہے اور ایک سال کا الرسالہ مذکورہ لوگوں کے لیے جاری الرسالہ کے ساتھ ساتھ آپ کی ساری کتابیں بھی میں مسلسل پڑھ رہا ہوں اور اس سے مجھے غیر معمولی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

میرے ذہن میں کچھ سوالات تھے جو مسلسل الرسالہ اور آپ کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے دور لیکن ایک غلطی کی تلافی کے لیے آپ کی مدد چاہتا ہوں ۔ وہ یہ کہ میری شادی 2004 میں ہوئی، اس میں میری سسرال والوں نے مجھے کافی جہیز دیا جس میں دوسری چیزوں کے ساتھ 10 تولا سونا بھی موجود ہے۔ اس وقت تو میں نے ان کو منع کیا تھا کہ آپ یہ سب چیزیں نہ دیں، لیکن وہ نہیں ظاہر ہے کنڈیشنڈ مائنڈ ہونے کی وجہ سے انھوں نے ایسا کیا اور میں بھی یہ سارا سامان لے کر گھر اب جیسا کہ آپ کی تحریریں مسلسل پڑھنے سے میری ڈی کنڈیشننگ ہو رہی ہے تو خدا کی پکڑ اور آخرت کے ڈر سے میں یہ سوچ کر پریشان ہو رہا ہوں کہ یہ چیز کہیں آخرت میں گھاٹے کا سبب نہ بن آپ مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ کیا مجھے اس کی رقم اپنے سر کو واپس کرنا چاہیے یا پھر اس کی اور کوئی دوسری صورت ہے جس سے اس کی تلافی ہو سکے۔

قرآن میں جو خدا کی عظمت اور اس کے جلال کا، جنت کا، جہنم کا، قیامت کی ہولناکی کا ذکر

ہے، اس کو پڑھنے کے بعد میں زیادہ تراسی کے بارے میں سوچتا رہتاہوں۔ کبھی کبھی تو میں آفس میں کام کرتا رہتا ہوں اور پھر اچانک مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ کہیں میں اپنا زیادہ وقت تو دنیا کمانے میں نہیں لگا رہا ہوں ۔ یہ سوچتے ہوئے میں کام کرتے کرتے رک جاتا ہوں اور اس پر دیر تک سوچتا رہتا ہوں ۔ یہ معرفت مجھے الرسالہ کے ذریعہ ہی سے حاصل ہوئی ہے۔

میں 2003 میں آپ سے آپ کی رہائش گاہ پر ملا تھا۔ میں نے الرسالہ میں جو کچھ پڑھا تھا، آپ کی شخصیت میں اس کو عملاً ویسا ہی پایا۔ جس سنجیدگی کی بات آپ کرتے ہیں وہ آپ کے چہرے پر صاف دکھائی دیتی ہے۔ آپ سادگی اور سنجیدگی کی ایک مثال ہیں جو اسی آدمی کی اصلاح کا ذریعہ بنے گی جس کے اندر حقیقت پسندی والا ذہن ہو، جو باتوں کو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر صرف اصول کی بنا پر حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو (شکیل احمد، اندور)۔ 1 - تبلیغی جماعت کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے ذمے داروں نے عوام کے اندر دینی شوق پیدا کرنے کے لیے اس کام کو شروع کیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ عوام زیادہ گہری باتوں کو سمجھ نہیں سکتے، اس لیے انھوں نے فضائل کی روایات کے اوپر اپنی تحریک کی بنیاد رکھی۔

عوام کی اصلاح کے اعتبار سے یہ طریقہ مفید ہوسکتا ہے، لیکن بعد کو یہ ہوا کہ تبلیغ کے ذمے داروں نے اپنے طریق کار کو بدلے بغیر ، خواص کو اپنے دائرۂ عمل میں شامل کر لیا۔ تبلیغی جماعت کی یہ توسیع الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا سبب بن گئی ۔ کیوں کہ فضائل کی روایتیں عوام کو متاثر کرسکتی تھیں، لیکن خواص کا ذہن اس سے ایڈریس نہیں ہوتا تھا۔ چناں چہ خواص، تبلیغی جماعت سے قریب ہونے کے بعد جلد ہی اس سے دور ہونے لگے۔

خواص کی یہ دوری سادہ طور پر تبلیغ سے دوری نہ تھی، بلکہ عملاً وہ دین سے دوری کا سبب بن گئی۔ خواص یہ سمجھنے لگے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو عوام کی ضرورت کو تو پوری کرتا ہے، لیکن اس میں خواص کے لیے اطمینان کا سامان نہیں۔ دہلی کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان جو پہلے تبلیغی جماعت سے قریب

ہوئے تھے اور پھر وہ دل برداشتہ ہو کر اُس سے دور ہو گئے ۔ اُنھوں نے اِس معاملے کو بتاتے ہوئے یہ معنیٰ جملہ کہا تبلیغ والوں نے پہلے میواتیوں کو مسلمان بنایا، اب وہ مسلمانوں کو میواتی بنا رہے ہیں۔ 2- جہیز کے سلسلے میں عرض ہے کہ شادیوں میں جہیز کا موجودہ طریقہ بلاشبہ ایک بدعت اِس اعتبار سے جہیز کے رواج کو ختم کیا جانا چاہیے۔ لیکن ملے ہوئے جہیز کا معاملہ اِس سے الگ اِس کی واپسی کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر ممکن ہو تو آپ اس کو کسی تعمیری کام میں استعمال مثلاً اپنے لیے گھر بنانا، وغیرہ۔

سوالات کے سلسلے میں ایک اصولی بات یہ سمجھ لیجیے کہ ایک صحابی کہتے ہیں: نُهینا عن كثرة السؤال (صحیح البخاری، کتاب الرّقاق) یعنی ہم کو زیادہ سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اِس لیے کہ سوال کرنا اِس بات کی علامت ہے کہ آدمی خود غور و فکر کرنے کے بجائے کسی دوسرے سے اپنے سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔ آپ مطالعہ کیجیے اور سوچنے کی عادت ڈالیے، اور کامن سنس (common sense) استعمال کیجیے، آپ کو خود ہی اپنے سوال کا جواب معلوم ہو جائے گا۔ علومِ قطعیہ نے کلّی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ صرف دماغ ہی تمام جذبات و احساسات اور غور و فکر کا مرکز ہے۔ جب کہ ہم اب بھی ایک خاص طریقے پر کچھ مخصوص کلمات کا ورد کر کے قلب پر ضرب لگا کر تطهیر قلب کا دعویٰ کرتے ہیں اور بشمول افرادِ خانہ، محلے کے لوگوں کی نیند خراب کرنے کا باعث بنتے اس کے بجائے جدید منطق کے پیش نظر، تطهیر دماغ کے لیے آپ ہیمرنگ (hammering) کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ اس کا طریقہ کار کیا ہو، اس کی وضاحت فرمائیے (محمد جمیل اختر، کشن گنج، بہار)۔ ذکرِ بالجہر کا فلسفہ یہ ہے کہ آدمی کا دل اس کے تمام احساسات کا مرکز ہے، بُرے احساسات کا بھی اور اچھے احساسات کا بھی۔ کوئی آدمی جب بلند آواز سے لاإلٰہ کہہ کر اپنے دل پر ضرب لگاتا ہے، تو اس کے دل سے تمام بُرے احساسات نکل جاتے ہیں۔ اور پھر جب وہ بلند آواز سے إلاً الله کہہ کر دوبارہ

اپنے دل پر ضرب لگاتا ہے، تو اس کا دل تمام اچھے احساسات سے بھر جاتا ہے۔ قدیم روایتی دور میں ایک مفروضہ کے طور پر اس کو مان لیا گیا تھا، لیکن موجودہ سائنسی دور میں یہ نظریہ بے بنیاد (baseless) ثابت ہو چکا ہے۔ اب دل پر ضرب لگانا ، ٹھیک ویساہی ہے جیسے ہاتھ کی ہتھیلی پر ضرب لگانا۔ دین میں تزکیہ بلا شبہ ایک مطلوب عمل ہے۔ تزکیہ کا یہ عمل ذہن کی سطح پر انجام پاتا ہے۔ کیوں کہ انسان کا ذہن ہی ہر قسم کے افکار اور احساسات کا مرکز ہے۔ ایک حدیث کے مطابق، ہر انسان اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اُسی میں آدمی کے ذہن کی کنڈیشننگ (conditioning) ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں تزکیہ کا صحیح آغاز یہ ہے کہ اس ذہنی کنڈیشننگ کو ’’ضرب‘‘ کا موضوع بنایا جائے، یعنی فکری ضرب (intellectual beating) کے ذریعے اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کی جائے۔ اسی فکری ضرب کا دوسرا نام فکری ہیمرنگ (intellectual hammering) ہے۔

Printed page