A Modern Approach to Islam
Al-Risala, January 2008, pp. 27–31
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا نقطۂ نظریہ ہے کہ ماڈرن ایج کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام کو موجودہ زمانے میں سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہے، اس بنا پر سارے مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اسلام کو پھر سے عالمی سطح پر سیاسی غلبے کے مقام تک پہنچایا جائے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب وغیرہ کا نقطۂ نظر یہی تھا۔ اس نقطۂ نظر کے حامل افراد کا ماننا ہے کہ مسلح جہاد کے ذریعے اسلام کو دوبارہ غلبہ عطا کیا جائے، اور ساری دنیا میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے۔
میرے نزدیک اس قسم کی تمام باتیں اصل مسئلے کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ماڈرن ایج کو سمجھا جائے اور تجزیاتی مطالعے کے ذریعے اُس کے مقابلے میں اسلام کا موقف متعین کیا جائے۔ اس کام میں ہمارے لیے رہ نما اصول، حدیث کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ: خُذ ما صفا وَ دَع ما كدر۔ یعنی جو چیز حق کے مطابق ہو، اُس کو لے لو اور جو چیز حق کے مطابق نہ ہو اُس کو چھوڑ دو۔
میں نے اپنے مطالعے سے یہ سمجھا ہے کہ ماڈرن ایج بنیادی طور پر تین چیزوں کا نام ہے— (1) جدید سائنسی دریافتیں (2) جدید کلچر (3) جدید فلسفیانہ افکار۔ اب میں ان تینوں کے بارے میں مختصر طور پر اپنا حاصل مطالعہ بیان کروں گا۔
1- جدید سائنسی دریافتیں کیا ہیں۔ وہ اصلاً مغربی تہذیب یا سیکولر تہذیب کا حصہ نہیں، وہ
فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کی دریافت ہیں ۔ یہ قوانین خالق کائنات کے مقرر کردہ ہیں ، یعنی اسی خدا کے مقرر کردہ جس نے قرآن کی صورت میں اپنا کلام بھیجا ہے ۔ ان سائنسی دریافتوں کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں ، بلکہ وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق ہیں : سنریہم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجده : 53)
قدیم زمانے میں انسانی افکار پر توہمات کا غلبہ تھا۔ توہماتی عقائد یا قصے کہانیوں کے تحت ہر معاملے میں لوگوں نے بے بنیاد رائیں بنالی تھیں ۔ سائنس نے جدید طریقے پر تحقیق کر کے چیزوں کی اصل حقیقت معلوم کی۔ ان دریافت کردہ حقائق کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔
مثال کے طور پر قدیم زمانے میں پانی کو صرف سیال برف سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے دریافت کیا کہ پانی دو گیسوں کے مجموعے سے بنتا ہے ۔ پانی کا فارمولا یہ ہے (H2O) ۔ اس دریافت کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ وہ اتنا ہی زیادہ اسلامی ہے جتنا کہ وہ سائنسی ہے۔ اسی طرح شمسی نظام کے بارے میں پہلے زمین مرکزی (geo-centric) نظریہ رائج تھا۔ کوپرنکس کے زمانے میں جدید آلات کی مدد سے جو مطالعہ کیا گیا ، اُس سے یہ ثابت ہوا کہ شمسی نظام زمین مرکزی نہیں ہے بلکہ وہ آفتاب مرکزی یعنی آفتاب مرکز میں ہے اور زمین اور دوسرے سیارے اُس کے گرد گھوم رہے اس نظریے کا بھی اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ یہ نظریہ بھی اتنا ہی اسلامی ہے جتنا کہ وہ سائنسی ہے۔ یہی معاملہ سائنس کی اُن تمام دریافتوں کا ہے جو ثابت شدہ بن چکی ہیں ۔ یہ تمام کی تمام دریافتیں خالق کائنات کے قانون کی دریافتیں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں ، وہ خالق کائنات کے تدبیر امر کی تفصیل ہیں (يدبر الأمر، يفصل الآيات۔ الرعد : 2) کچھ لوگ اس معاملے میں اسلامية المعرفة (Islamization of knowledge) کی بات کرتے ہیں ، یعنی علم کو اسلامی مگر جہاں تک قطعی علوم (exact sciences) کی بات ہے، اس قسم کا نعرہ بالکل غیر متعلق ہے۔ کیوں کہ قطعی علوم میں اسلامائزیشن کا کوئی مطلب نہیں۔
2- دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید کلچر سے تعلق رکھتا ہے۔ جدید مغربی کلچر دو قسم کی چیزوں کا مجموعہ
ایک وہ جو فطرت کے اصول پر مبنی ہے، اِس بنا پر وہ اسلام کے لیے بھی پوری طرح قابل قبول اس کلچر کا دوسرا حصہ وہ ہے جو ذہنی بے راہ روی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، اس بنا پر وہ اسلام کے لیے قابل قبول نہیں۔
مثال کے طور پر جدید مغربی کلچر میں انسانی احترام کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اس بنا پر ان کے یہاں نہایت اعلیٰ روایات قائم ہوئی ہیں۔ مثلاً ہر انسان کے لیے اظہار خیال کی کامل آزادی ہونا۔ ہر انسان کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر مقام ملنا۔ تنقید (dissent) کو انسان کا غیر مشروط حق قرار محروم (disabled) افراد کو ہر اعتبار سے برابر کا درجہ عطا کرنا، وغیرہ۔ یہ قدریں (values) اسلام میں موجود تھیں، لیکن مغربی کلچر کا یہ کارنامہ ہے کہ اُس نے ان قدروں کو باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کا درجہ دے اس قسم کی چیزیں اسلام میں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنا کہ وہ جدید تہذیب میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ البتہ جدید کلچر میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً عورتوں کے لیے عریانیت (nudity)، بے پردگی کا فیشن، باقاعدہ نکاح سے قبل لڑکوں اور لڑکیوں کا آزادانہ اختلاط، شراب کا عمومی رواج، انٹرٹین منٹ کا بے قید کلچر، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں اسلام کے مزاج کے خلاف ہیں۔ اس لیے وہ کبھی بھی اسلام کے دائرے میں قبول نہیں کی جاسکتیں۔ 3- تیسرا پہلو جدید دور کے فلسفیانہ افکار سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں فلسفہ اور افکار کے تحت کچھ نئے نظریات وجود میں آئے ہیں جن کو سائنسی افکار کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اُن کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں ان کو سائنس کی غلط توجیہہ و تعبیر کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں سائنسی غور و فکر کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات میں اسباب وعلل کا نظام ہے۔ اس کو اہل سائنس کے درمیان قانونِ تعلیل (principle of causation) کہا جاتا ہے۔ اس کو لے کر کچھ سیکولر ذہن کے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سائنس کی اس تحقیق نے خدا کے وجود کی نفی کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے پیدا کیے ہوئے نہیں ہو سکتے:
یہ سائنس کے نام پر صرف ایک فلسفیانہ مغالطہ ہے، کیوں کہ نیچر کی دریافت صرف خدا کے طریق کار کی دریافت ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے خدا کے وجود کی نفی نہیں۔ اس فکر کا تجزیہ کرتے ہوئے میں نے اپنی کتاب مذہب اور جدید چیلنج (God Arises) میں لکھا ہے کہ۔ نیچر کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہہ کی طالب ہے:
یہی معاملہ عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا ہے۔ سیکولر مفکرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک سائنٹفک نظریہ ہے۔ چوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں خصوصی تخلیق کا تصور ہے، جب کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ مفروضہ ارتقائی پر اس کو خدا کا درجہ دے رہا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ارتقا کے نظریے نے خدا کے تصور کی نفی کر دی ہے۔
مگر یہ سرتا سر بے بنیاد بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ صرف ایک مفروضہ ہے، وہ کوئی حقیقی نظریہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ زندگی کی بے شمار انواع جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اُن کے اندر جسمانی مشابہت ہے۔ اس مشابہت کو لے کر یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ ایک زندہ نوع سے دوسری نوع نکلی۔ مثلاً بکری ارتقا کرتے کرتے زرافہ بن گئی، یا بلی نے ارتقا کرتے کرتے شیر کی صورت اختیار کر لی، وغیرہ۔
اس نظریے کی بنیادی کمی یہ ہے کہ اْس نے انواع کے درمیان مشابہت کا ثبوت تو پیش کیا، لیکن وہ اس کا کوئی بھی ثبوت پیش نہ کر سکا کہ ایک نوع کے بطن سے دوسری نوع برآمد ہوگئی۔ یہ نظریہ اتنا ہی بے بنیاد ہے جتنا یہ کہنا کہ بیل گاڑی کے اندر سے بگھی نکل آئی، بگھی کے اندر سے موٹر کار برآمد ہوگئی، موٹر کار کے اندر سے ہوائی جہاز نکل آیا اور ہوائی جہاز کے اندر سے راکٹ پیدا ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ وہ نہ کوئی سائنٹفک نظریہ ہے اور نہ اْس کی وجہ سے اسلام کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوا۔
میرے مطالعے کے مطابق، ماڈرن ایج مکمل طور پر ایک موافق اسلام ایج ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا نے انسان کے لیے اس دنیا میں دو سپورٹ سسٹم بنائے ہیں۔ ایک نیچرل سپورٹ سسٹم جو یکساں طور پر مسلسل صورت میں انسان کا مددگار بنا ہوا ہے۔ دوسرا، سو پلائیزیشنل سپورٹ سسٹم جو انسان کے ذریعے ارتقائی سفر طے کرتا ہوا انسان کا مددگار بنا ہوا ہے۔ نیچرل سپورٹ سسٹم براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں سو پلائیزیشن سپورٹ سسٹم انسانی عمل اور انسانی تحقیق کے ذریعے اپنا تہذیبی سفر طے کر رہا ہے۔ ماڈرن ایج دراصل اسی سو پلائیزیشن سپورٹ کا ایک اگلا مرحلہ وہ اس لیے ظاہر ہوا ہے کہ انسان کے سفر حیات کو زیادہ کامیاب بنائے۔ یہ ماڈرن ایج انسان کے مادی سفر میں بھی مددگار ہے اور انسان کے مذہبی اور روحانی سفر میں بھی۔
اس دنیا کا ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ ہر چیز میں مثبت کے ساتھ کچھ منفی پہلو بھی ملا ہوا ہوتا ہے۔ قانونِ عام کے تحت، ماڈرن ایج میں بھی مثبت پہلو کے ساتھ کچھ منفی پہلو شامل ہے۔ بعض اسباب سے یہ حادثہ پیش آیا کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں سے ماڈرن ایج کا مثبت پہلو اوجھل ہو گیا۔ انھوں نے بس اُس کے منفی پہلو کو دیکھا اور وہ اُس کو دیکھ کر بھڑک اٹھے۔ اس معاملے میں شدید طور پر دوبارہ جائزہ (reassessment) کی ضرورت ہے۔ اگر منصفانہ طور پر جائزہ لیا جائے تو یقیناً لوگ یہ معلوم کرلیں گے کہ ماڈرن ایج ایک اسلام دوست ایج (Islam-friendly age) ہے، نہ کہ اسلام دشمن ایج۔ یہ صحیح ہے کہ ماڈرن ایج کو پیدا کرنے میں تمام تر غیر مسلم قوموں نے کام کیا ہے۔ میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنّ الله لَيُؤيّد هذا الدين بالرَّجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد، جلد 6، صفحہ 208)۔ اس روایت میں اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ سو پلائیزیشنل سپورٹ کو ظہور میں لانے میں ہر آدمی کا کچھ نہ کچھ رول ہوگا۔ اس میں صالح لوگ بھی اپنا رول ادا کریں گے اور اس کے ساتھ غیر صالح لوگ بھی۔ تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ کمیونکیشن ایج جو دعوت الی اللہ کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے، اُس کو ظہور میں لانے کے لیے ہر طرح کے لوگوں نے لمبی مدت تک مسلسل کام کیا ہے۔ اس کے بعد ہی کمیونکیشن ایج واقعہ بن سکا۔