Al-Risala · June 2008

سوال و جواب

Al-Risala, June 2008, pp. 42–45

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کی مایہ ناز کتاب ’’مسائلِ اجتہاد‘‘ واقعی حکمت کا مخزن ہے۔ صفحہ 37 میں مغل بادشاہ اکبر کے موقف تالیفِ قلب کے لیے آپ نے سراہا ہے۔ تائید میں ایک اقتباس از سید حسین احمد مدنی بحوالہ مکتوبات شیخ الاسلام (صفحہ 141) بطور دلیل درج ہے، جب کہ اکبر نے جودھا بائی سے مشرکانہ رواج میں شادی کی اور ایک مشرکہ سے نکاح اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اتنی اچھی کتاب ہے آپ کی، مگر اکبری دین کی حمایت میں یہ کیسا داغ اس میں موجود ہے (نثار احمد خاں السلفی، مومن پورہ، ناگ پور)۔

مذکورہ کتاب میں اکبر کی مثال ایک معیاری مسلمان کی حیثیت سے نہیں دی گئی ہے۔ مضمون کا مقصد اکبر کی مجموعی زندگی پر رائے دینا نہیں ہے، بلکہ اکبر کی زندگی کے صرف ایک مثبت پہلو کو اور اس قسّم کا مثبت پہلو کسی بھی شخص کی زندگی میں ہو سکتا ہے۔ آپ کا سوال اس معاملے میں

غلو پسندی کی ایک مثال ہے۔ حالاں کہ غلو اسلام میں نہیں (لا غلوّ فی الإسلام)۔ غلو در اصل انتہا پسندی کا دوسرا نام ہے۔ اور انتہا پسندی ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إنّ الله ليؤيد هذا الدين بالرّجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص اگر کسی پہلو سے ’’فاجر‘‘ ہو، تب بھی وہ کسی اور پہلو سے اسلام کے حق میں تائید کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم کو چاہیے کہ اگر کسی آدمی کی زندگی میں کوئی فجور کا پہلو ہو، تو اس پہلو سے اس کے لیے دعا کریں۔ اور اگر اس کی زندگی میں کسی اعتبار سے کوئی مفید پہلو ہو تو اس کا اعتراف کریں۔ یہی صحیح اسلامی اسپرٹ ہے۔ عرض خدمت ہے کہ راقم نے ایک نہایت ہی اہم موضوع پر اپنی اولین تحقیقی کتاب بنام ’’قرآن عظیم کی آفاقیت اور اس کا فلسفہ کا ئنات‘‘ تصنیف کی ہے، جس کا مسودہ حاضر خدمت ہے۔ جیسا کہ سرورق سے عیاں ہے، اس کتاب میں خارج از زمین زندگی اور خود انسان اور کتاب الہی کی حقیقت پر جدید قرآنی بصائر کو منکشف کرتے ہوئے عالم انسانی پر قرآن مجید کے عظیم ترین علمی اعجاز کی نقاب کشائی کی کوشش کی گئی اس تحقیق کی عوامی سطح پر اشاعت سے قبل میں اس پر عالم اسلام کے چند منتخب اہل علم اور علمی و دینی مراکز کے تاثرات حاصل کرنا چاہ رہا ہوں، جن میں آں جناب کا نام نامی بھی شامل ہے۔ آں جناب سے میری مخلصانہ درخواست ہے کہ موضوع کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر اولین فرصت میں اس پر اپنے گراں قدر تاثرات کا اظہار فرمایا جائے (سعید الرحمن ندوی، بنگلور)۔ آپ کی کتاب (قرآن عظیم کی آفاقیت اور اس کا فلسفہ کا ئنات) کا مسودہ موصول ہوا۔ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ قرآن کی آفاقیت کا تعلق صرف موجودہ زمین پر آباد انسانوں سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق یکساں طور پر کائنات میں موجود دوسرے سیاروں پر آباد امکانی مخلوقات سے قرآن ان مخلوقات کے لیے بھی کتاب ہدایت کی حیثیت رکھتا ہے۔ عرض یہ کہ مجھے آپ کے

اس نظریے سے اتفاق نہیں ہے۔ قرآن بلا شبہ ایک آفاقی کتاب ہے، لیکن اُس کی آفاقیت کا تعلق موجودہ سیارۂ زمین سے ہے، نہ کہ بقیہ کائنات میں دوسرے مفروضہ سیاروں سے۔ قرآن کی دعوتِ عام ہمارے اوپر فرض ہے، لیکن اِس کا تعلق موجودہ زمین پر بسنے والے انسانوں سے ہے، نہ کہ کائنات کے کسی اور سیارے پر آباد مفروضہ مخلوقات سے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ موجودہ سیارۂ زمین پر جو انسان آباد ہیں، اُن کو قرآن کا پیغام پہنچائیں، اُن کے لیے قرآن کی دعوت کو قابلِ فہم بنائیں اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل اختیار کریں۔ آپ نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے، وہ صرف ایک مفروضہ بحث ہے۔ اس کا تعلق نہ ہماری ذمے داری سے ہے، اور نہ کسی معلوم حقیقت سے۔ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ اپنے نظریات کی بنیاد مسلمات پر قائم کریں، نہ کہ مفروضات پر۔

آپ کے نظریات کو زیادہ سے زیادہ استنباط کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ استنباط کوئی معقول استنباط (valid inference) نہیں۔ کیوں کہ اصولِ استدلال کے مطابق، معقول استنباط وہ ہے جو کسی ثابت شدہ حقیقت پر قائم کیا گیا ہو۔ ایک ایسا واقعہ جو خود ثابت شدہ نہ ہو، اس کی بنیاد پر کوئی معقول استنباط نہیں کیا جا سکتا۔

خبر نامہ اسلامی مرکز - 185 06 Feb. 2008 -1 Al-Risala is the only book which gives the life style to all humankind. This is the Great monthly magzine that I read in my life. It provides us the right thought, right direction of life. I pray to God that you continue to go on like. (Rafeeq Ahmad, Canada)

نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا کے زیر اہتمام پرگتی میدان (نئی دہلی) میں ہر دوسال پر ایک ورلڈ بک فر لگتا اس سال بک فر 2 فروری سے 10 فروری 2008 تک کے لیے تھا۔ گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے اس میں اپنا اسٹال لگایا۔ یہ اسٹال اردو اور انگریزی کے دونوں ہال میں لگایا گیا تھا۔ دونوں اسٹال سے لوگوں نے کافی تعداد میں صدر اسلامی مرکز کی کتابیں خریدیں اور بہت کم قیمت پر ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن حاصل کیا۔ ہمالین پیس اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ (راجوری، جموں) نے بڑی تعداد میں یہاں سے قرآن خرید کر غیر مسلم حضرات کے درمیان ہدیہ تقسیم 9 فروری 2008 کو صدر اسلامی مرکز نے بک فر میں آکر دونوں اسٹال کا معائنہ کیا۔ اس سے اسٹال پر موجود کارکنان اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے ممبران کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی۔

ایک خط: برادرم محمد ذکوان ندوی حرسک الله من أعين الحسد! السلام عليكم ورحمة الله، ماه نامه الرساله کا تازہ شماره (جنوری (2008) موصول ہوا۔ بہت بہت شکریہ۔ مزید شکریہ یہ اس بات کا کہ آپ نے میرے نام ایک سال کے لیے الرسالہ جاری کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ میں تو زمانہ طالب علمی سے محترم مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تحریروں کو پڑھتا رہا ہوں۔ میرے دل میں ان تحریروں کی بہت قدر ہے، میں ان کا بہت مداح ہوں۔ عصری اسلوب نگارش کا مالک یہ مفکر ، جدید ہندوستان اور عالم اسلام میں ایک عظیم معمار کی حیثیت رکھتا ہندوستان کے ایک سطحی حلقے نے مولانا کی مخالفت محض اس بنیاد پر کی ہے کہ یہ شخص عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کیوں گفتگو کرتا ہے، یا روایتی قسم کے لوگوں کے خاص انداز فکر سے ہٹ کر وہ کیوں سوچتا ہے۔ مگر باد مخالف، دعوت اور ربانیت کے اس چراغ ہدایت کو ہرگز بجھا نہیں سکتی۔ میں ذاتی طور پر نہ صرف مولانا کا قائل ہوں بلکہ جدید ذہن کو اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنے کے حوالے سے ان کی گراں قدر خدمات کا کھلے دل سے معترف بھی ہوں۔ مولانا سے اس نیاز مند کا سلام عرض کیجیے۔ خدا آپ کو راہ دعوت میں ثابت قدم رکھے (مولانا محمد احمد بیگ ندوی، استاد دار العلوم ندوة العلماء، لکھنو، 22 فروری 2008)۔

Printed page