Commercialization and Value System.
Al-Risala, June 2008, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پروگرام میں شرکت کے لیے صدر اسلامی مرکز کو خصوصی دعوت نامہ موصول ہوا اور کئی ٹیلی فون آئے۔ وجوہ سے وہ اس پروگرام میں شریک نہ ہو سکے، البتہ مذکورہ موضوع پر ایک تحریری مقالہ منتظمین کو بھیج دیا گیا۔ انگریزی کے گیارہ سو الفاظ پر مشتمل تھا۔
6- امریکا میں کرسچن بردرس (Christian Brothers) کے نام سے ایک تنظیم قائم ہے۔ کے تقریباً 10 افراد 24 فروری 2008 کو اسلامی مرکز (نئی دہلی) میں آئے۔ اس گروپ کی قیادت ڈاکٹر بنڈیلا (Yesupadam Bandela) کر رہے تھے۔ ڈاکٹر بنڈیلا گاسپل ایسوسی ایشن آف انڈیا (Gospel Assocaition) کے صدر ہیں۔ ان لوگوں نے صدر اسلامی مرکز سے اسلام اور صوفی ازم، اسلام اور امن جیسے موضوعات پر تفصیلی بات کی۔ یہ لوگ بہت مطمئن ہوئے۔ ان کو انگریزی زبان میں اسلامی لٹریچر دیا گیا۔ 7- امریکا میں کرسچین بردرس (Christian Brothers) کے نام سے ایک تنظیم قائم ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ عیسائی شریک ہیں۔ اس تنظیم کے 24 سینئر افراد انڈیا آئے۔ 28 فروری 2008 کو وہ اسلامی مرکز اُن کے ساتھ کچھ اور افراد بھی شریک تھے۔ یہاں اسلامی مرکز (نئی دہلی) کے آڈی ٹوریم میں صدر اسلامی مرکز ان کی فرمائش پر صدر اسلامی مرکز نے یہاں اسلام اور صوفی ازم (Islam and Sufism) کے موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی ۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ آخر میں اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور انگریزی زبان میں چھپا ہوا اسلامی لٹریچر دیا گیا۔ پروگرام کے بعد اُن لوگوں نے اپنے گہرے تاثر کا انھوں نے کہا کہ پہلی بار ہم کو اس طرح اسلام کا تعارف حاصل ہوا ہے، اس پروگرام کے بعد اسلام کے متعلق ہماری غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔ اب ہم اپنے اپنے مقامات پر اس لٹریچر کو عام کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے۔ 8- اسٹار نیوز (Star News) کی ٹیم نے 11 مارچ 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ
انٹرٹینور کا نام کمل جیت سندھو تھا۔ مسیحی پوپ نے ویٹکن سے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں موجودہ زمانے کی بہت سی چیزوں کو گناہ (sin) قرار دیا ہے۔ مثلاً مووی، وغیرہ۔ اس سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کی چیزیں شرعی معنوں میں گناہ نہیں ہیں، لیکن یہ تمام چیزیں ڈسٹریکشن (distraction) کا ذریعہ ہیں۔ اس اعتبار سے وہ قابل ترک ہیں۔ اس قسم کی چیزیں آدمی کو اس کے اعلیٰ مقصد سے ہٹادیتی ہیں۔ وہ ٹائم کو برباد کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اسی ڈسٹریکشن کا نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں لوگوں کا انٹلیکچول ڈیولپ منٹ اور اسپرپچول ڈویلپ منٹ نہیں ہورہا ہے۔ 9- خدا کے فضل سے الرسالہ مشن اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے ذریعے مسلسل طور پر دعوت الی اللہ کا کام نہایت تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ مارچ 2008 میں سامنے آیا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا بنگلور میں الرسالہ کے دعوتی حلقے سے جڑے ہوئے ایک ساتھی نے یہ طے کیا کہ وہ مختلف شہروں میں جاکر الرسالہ کا دعوتی لٹریچر پھیلائیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے مقامی حلقے کے ایک ساتھی سے کہا کہ آپ ہمارے لیے ایک سیکنڈ ہینڈ کار (van) کا انتظام کردیں، تاکہ میں اُس پر دعوتی میٹریل رکھ کر اس کے ذریعے مختلف شہروں کا سفر کروں، اور وہاں پر آباد انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچاؤں۔ مذکورہ ساتھی نے جب یہ بات سنی، تو وہ بہت غصہ ہوئے۔ کہا— اپنے لیے نئی کار اور خدا کے کام کے لیے سیکنڈ ہینڈ کار۔ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آپ کار کے شوروم میں جائیں اور وہاں جو کار آپ کو اپنے مقصد کے اعتبار سے پسند آئے، اس کو خرید لیں۔ کے بعد انھوں نے ایک نئی کار (van) کی قیمت ان کو دے دی۔ اب اس کار کے ذریعے مختلف شہروں میں دعوتی لٹریچر عام کیا جارہا ہے۔ لوگ بہت دل چسپی اور شوق کے ساتھ وہاں سے دعوتی لٹریچر حاصل کر رہے ہیں۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ممبئی سے شائع ہورہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرپچول میسج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
دی اسپرپچول میسج، فی کاپی 15/- روپے، سالانہ 165/- روپے خط و کتابت کا پتہ ہے:
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 2834 1654/ 28346079/ 2821 8609, Fax: 2823 6323