قرآن اور حدیث
Al-Risala, January 2008, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفۂ چہارم حضرت علی بن ابی طالب (وفات : 661ء) کے زمانے میں کچھ لوگ تھے جنھوں نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ: حسبنا کتاب الله (ہمارے لیے خدا کی کتاب کافی ہے)۔ آج بھی مسلمانوں کا ایک طبقہ ہے، جو یہ کہتا ہے کہ دین کو سمجھنے کے لیے ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں، قرآن ہمارے لیے کافی یہ بلاشبہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ صرف غیر سنجیدہ ذہن ہی ایسی بات کہہ سکتا ہے۔ اس قسم کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے یہ انتخاب (option) ہی نہیں کہ ہم ایک کو چھوڑیں اور دوسرے کو لے لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فہم دین کے لیے دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ علمی اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنا ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں حدیث رسول ہیں۔ ایک، اگر سادہ معنوں میں حدیث ہے تو دوسری، گویا کہ حدیثِ قدسی ہے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ قرآن ایک مجلّد کتاب کی صورت میں آسمان سے نہیں اترا۔ ہمیں اُسی طرح پیغمبر کے ذریعے ملا جس طرح حدیث ہم کو پیغمبر کے ذریعے ملی ہے۔ حدیث کی سند یہ ہے کہ - پیغمبر اسلام نے کہا صحابہ سے، صحابہ نے کہا تابعین سے، تابعین نے کہا تبع تابعین سے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک حدیث کا ذخیرہ منتقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کا قرآن کی سند یہ ہے کہ - اللہ تعالیٰ نے کہا جبریل سے، جبریل نے کہا پیغمبر اسلام سے، پیغمبر اسلام نے کہا صحابہ سے، صحابہ نے کہا تابعین سے، تابعین نے کہا تبع تابعین سے۔ سلسلہ بہ سلسلہ گزرتے ہوئے، قرآن ہم تک پہنچا۔ پھر دونوں میں فرق کیوں۔
یہ صحیح ہے کہ بعد کے زمانے میں حدیث کے ذخیرے میں بہت سی موضوع روایتیں شامل ہوگئیں، مگر یہ معاملہ صرف حدیث کے ساتھ مخصوص نہیں۔ خود قرآن کے معاملے میں بھی عملاً ایسا ہی ہوا قرآن کا عربی متن (text) بلاشبہ اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے، لیکن قرآن کی ہر آیت تشریح طلب ہے اور اس تشریح و تفسیر میں بعد کے زمانے میں مختلف قسم کی ملاوٹیں ہوگئی ہیں۔
آپ قرآن کی ایک تفسیر کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن، سیاست اور حکومت کی کتاب ہے۔ آپ دوسری تفسیر کو پڑھیں تو ایسا معلوم ہوگا کہ قرآن، تصوف اور روحانیت کی کتاب ہے۔ اگر آپ ایک اور تفسیر پڑھیں تو قرآن، فقہی مسائل کا مجموعہ دکھائی دے گا۔ اِسی طرح آپ ایک اور تفسیر کو پڑھیے تو اُس میں دکھائی دے گا کہ قرآن تمام مُبتَدِعانَہ عقائد اور رسوم کی تصدیق کے لیے آیا ایک اور تفسیر کو پڑھیے تو ایسا محسوس ہوگا یا کہ قرآن اس لیے آیا کہ ،نعوذ باللہ، وہ دنیا کو یہ بتائے کہ پیغمبرِ اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کے بعد ایک اور پیغمبر دنیا میں آنے والا ہے، وغیرہ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ قرآن اور حدیث دونوں کے معاملے میں علماء اسلام نے ایسے محکم اصول وضع کر دیے ہیں کہ ہم تفسیری اضافوں یا موضوعی اضافوں کے باوجود قرآن اور حدیث کی اصل تعلیمات تک پہنچ سکیں۔ ایسی حالت میں ہم کو نہ قرآن کے تفسیری اضافوں سے کسی شبہ میں پڑنا ہے، اور نہ حدیث کے موضوعی اضافوں سے۔
اس معاملے میں دوسری بات یہ ہے کہ قرآن ایک نظریاتی کتاب ہے۔ اس کے بعد ہم کو عملی نمونے کی ضرورت ہے ۔ یہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسے سائنس میں تھیوری (theory) کے بعد پریکٹیکل (practical) کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ایک زندہ نمونے کی ضرورت اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں یہی زندہ نمونہ ہمارے لیے قائم فرمایا
حقیقت یہ ہے کہ یہ قول کوئی سنجیدہ قول نہیں، وہ صرف ایک غیر سنجیدہ قول ہے کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے، ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں۔ جو آدمی سچائی کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور خدا سے ڈرتا ہو، وہ کبھی ایسی بات کہہ سکتا۔ کیوں کہ دینی یا علمی کسی بھی اعتبار سے، قرآن اور حدیث کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ ہم کو رہ نمائی کے لیے خدا کافی ہے، ہم کو پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ بلاشبہ ہدایت کا سر چشمہ خدا ہے، لیکن خود قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا اپنی ہدایت پیغمبر کے ذریعے بھیجتا ہے، وہ خود کتاب لے کر انسان کے پاس نہیں آتا۔