فخر، تواضع
Al-Risala, July 2008, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
فخر تمام برائیوں کی جڑ ہے، اور تواضع تمام خوبیوں کا سرچشمہ۔ کسی آدمی کو پہچاننا ہو، تو انھیں دو چیزوں کے ذریعے اس کی شخصیت کو پہچانا جا سکتا ہے۔ جس آدمی کے اندر فخر کی نفسیات ہو، وہ ہر اعتبار سے ایک غیر مطلوب شخصیت کا حامل ہوگا، اور جس آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات ہو، اس کی شخصیت کے اندر تمام مطلوب اوصاف پائے جائیں گے۔
جس سماج میں لوگ فخر والا مزاج رکھتے ہوں، وہ سماج منفی نفسیات کا جنگل ہوگا۔ نظام کے تحت، ہر سماج میں کچھ لوگ چھوٹے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بڑے ۔ اب ایسے سماج میں یہ ہوگا کہ ایک شخص جس آدمی کو اپنے سے کم پائے گا، اس کو وہ حقیر سمجھ لے گا، اور جس آدمی کو وہ اپنے سے زیادہ دیکھے گا، اس کے بارے میں وہ حسد اور جلن کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے گا۔ ایسے سماج میں کوئی بھی شخص معتدل نفسیات کا حامل نظر نہیں آئے گا۔
اس کے برعکس معاملہ تواضع (modesty) کا ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات پائی جائے، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہ ہر چیز کو خدا کی نسبت سے دیکھے گا، نہ کہ انسان کی نسبت سے۔ اس کو چھوٹا آدمی بھی ایک انسان نظر آئے گا، اور بڑا آدمی بھی ایک انسان۔ وہ لوگوں کو انسان بمقابلہ انسان (man versus man) کی نظر سے نہیں دیکھے گا، بلکہ وہ لوگوں کو انسان بمقابلہ خدا (man versus God) کی نظر سے دیکھے گا۔ یہ مزاج اس کے اندر سے کبر اور حسد جیسی نفسیات کا خاتمہ کر دے گا۔ وہ اس کو سب سے بڑا کام سمجھے گا کہ وہ اپنا بے لاگ جائزہ لے کر اپنی کمیوں کو جانے اور ان کی اصلاح کرے، وہ اپنا محاسبہ (introspection) کرکے اپنی ذمے داریوں کو جانے اور ان کو پورا کرے۔
تواضع دراصل حقیقت کے اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے، اور فخر حقیقت کے انکار کا دوسرا نام ۔ اس دنیا میں حقیقت کا اعتراف تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے، اور حقیقت کا انکار تمام برائیوں کا سرچشمہ۔