Al-Risala · July 2008

طوفان قیامت

Al-Risala, July 2008, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

گلوبل وارمنگ (global warming) موجودہ زمانے میں سب سے بڑا عالمی مسئلہ سمجھا جاتا سائنسی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کی صورت میں جو متوازن نظام قائم تھا، وہ تیزی سے ٹوٹ رہا ہے۔ سخت اندیشہ ہے کہ جلد ہی وہ وقت آجائے جب کہ زمین پر زندہ رہنے کے لیے کچھ بھی باقی نہ رہے۔

اس آنے والے ہول ناک دور کے لیے پیشگی طور پر مختلف قسم کی تدبیریں کی جارہی ہیں۔ میں سے ایک تدبیر یہ ہے کہ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی (climatic change) کے نتیجے میں اگر ایسا ہو کہ غذا کے لیے استعمال ہونے والی فصلیں زمین کی سطح سے نابود ہو جائیں، تو دوبارہ ان کی کاشت کر کے غذا کی ضرورت پوری کی جاسکے۔ اس مقصد کے لیے ناروے (Norway) میں مختلف قسم کے بیجوں (seeds) کا محفوظ گودام بنایا گیا ہے۔ اس کا افتتاح 26 فروری 2008 کو کیا گیا۔ اس تقریب کے موقع پر بڑی بڑی عالمی شخصیتیں وہاں موجود تھیں ۔ مثلاً یورپین کمیشن کے پریذیڈنٹ یوسی مینول (Jose Manuel Baroso) اور نوبل انعام یافتہ ماہر ماحولیات (environmentalist) وینگر (Wangari Matai)، وغیرہ۔ اس واقعے کی رپورٹ مختلف اخبارات میں آئی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (26 فروری 2008) میں یہ رپورٹ اس عنوان کے تحت چھپی ہے :

Printed page