'Doomsday Vault' Comes to Life
Al-Risala, July 2008, pp. 19–22
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی روز قیامت کے لیے حفاظتی گودام تیار ہو گیا۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ فصلوں کی عمومی تباہی کے اندیشے کی بنا پر ناروے کے جزیرہ (Svalbard) میں ایک پہاڑ کے اوپر عالمی بیج گودام (Global Seed Vault) بنایا گیا ہے۔ یہ مقام قطب شمالی (North Pole) سے ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں اونچے پہاڑ کے اوپر تین وسیع ائرکنڈیشنڈ کمرے (spacious cold chambers)
بنائے گئے ہیں۔ ان حفاظتی کمروں میں دنیا بھر کے دولاکھ پچاس ہزار قسم کے مختلف بیجوں کے نمونے (samples) رکھے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک عالمی تنظیم (Global Crop Diversity Trust) بنائی گئی ہے۔
مذکورہ خبر مشہور نیوز ایجنسی اے پی ایف (APF) کے حوالے سے میڈیا میں آئی ہے۔ رپورٹ کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے ناروے کا منصوبہ ہے کہ وہ انسان کے لیے نوح جیسی ایک غذائی کشتی فراہم کرے، تاکہ وہ آنے والی عالمی مصیبت سے اپنے آپ کو بچاسکے: Longyearbyen (Norway): Aimed at providing mankind with a Noah's Ark of food in the event of a global catastrophe, and Arctic "Doomsday Vault" filled with samples of important seeds. (p.21)
مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ناروے میں پہاڑ کے اوپر بنائے جانے والے غذائی گودام کو سفینہ نوح (Noah's Ark) کے معاملے سے تشبیہہ دینے کے بجائے نوح کے بیٹے کنعان کے معاملے سے تشبیہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر نوح کے آخری زمانے میں جب عمومی سیلاب آیا، تو پیغمبر نوح کے باغی بیٹے کنعان نے کہا کہ میں کسی پہاڑ کے اوپر پناہ لےلوں گا، اور وہ مجھ کو سیلاب کی زد سے بچالے گا: I will be take myself for refuse to a mountain, that shall protect me from the water (11:43). پیغمبر نوح نے اپنے بیٹے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کا معاملہ ایک خدائی معاملہ ہے، کوئی پہاڑ تم کو اس سے نہیں بچا سکتا (هود: 43)۔ طوفانِ نوح کے بارے میں پیغمبر کی یہ بات صحیح ثابت ہوئی اور پیغمبر اور ان کے کچھ ساتھیوں کے سوا کوئی بھی اس طوفان سے محفوظ نہیں رہا۔ آنے والے طوفانِ قیامت کا بھی ہے۔ پہاڑ کی کوئی چوٹی یا کوئی غذائی گودام انسان کو اس طوفان کی زد سے بچانے والا نہیں۔ آنے والا طوفان موجودہ صورتِ حال کو یک سر بدل دے گا۔ جب یہ طوفان آئے گا، تو کوئی بھی انسان اُس سے اپنا بچاؤ نہ کر سکے گا۔
قدیم زمانے میں انسانی آبادی صرف میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کے علاقے میں پائی میسوپٹامیا اُس علاقے کو کہا جاتا ہے جو دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان واقع ہے۔
یہاں کی آبادی میں بگاڑ پیدا ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے یہاں حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ خدا نے ان کو بہت لمبی عمر دی۔ وہ ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کے درمیان موجود رہے۔
لمبی مدت تک حضرت نوح کی دعوتی کوششوں کے باوجود صرف چند لوگوں نے خدا کے پیغام کو ان کی بھاری اکثریت انکار اور گمراہی میں پڑی رہی۔ آخر کار حضرت نوح نے لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی، تو یہاں ایک بہت بڑا سیلاب آئے گا اور تم سب کے سب لوگ اس میں ہلاک ہو جاؤ گے۔ لوگوں نے حضرت نوح کے اس انتباہ (warning) کو نظر انداز آخر کار ایک عظیم سیلاب آيا۔ اس سیلاب میں یہ پورا آباد علاقہ پانی میں ڈوب کر تباہ ہو گیا۔ یہ قدیم زمانے کا طوفانِ نوح تھا۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب غالباً جلد ہی طوفانِ قیامت آنے اس نئے شدید تر طوفان کی زد میں ساری دنیا آجائے گی، صرف وہ تھوڑے سے لوگ اس عمومی تباہی سے بچا لیے جائیں گے جو بگاڑ میں مبتلا نہ ہوئے ہوں۔
موجودہ زمانہ گویا کہ خدائی نعمتوں کے انفجار (explosion) کا زمانہ تھا، لیکن نعمتوں کی کثرت نے صرف لوگوں کی سرکشی میں اضافہ کیا۔ لوگوں نے ان نعمتوں کو بھر پور طور پر استعمال کیا، لیکن وہ ہمیشہ سے زیادہ منعم سے دور ہو گئے۔ آزادی کے نام پر سرکشی موجودہ زمانے کا عام کلچر بن گیا۔ قدیم طوفان کے خلاف پیشگی انتباہ، پیغمبر نوح نے دیا تھا۔ جدید طوفان کے خلاف پیشگی انتباہ ماڈرن سائنس دے رہی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ساری دنیا کے سائنس داں مسلسل یہ خبریں دے رہے ہیں کہ برف کے بھاری ذخیرے پگھل رہے ہیں۔ گلیشئر کی برف، قطب شمالی (North Pole) اور قطب جنوبی (South Pole) کی برف نہایت تیزی سے پگھل کر سمندروں میں شامل ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلی (climatic change) کے ذریعے ہو رہا ہے۔ اس کو گلوبل وارمنگ (global warming) کہا جاتا ہے۔ برفانی پہاڑوں کے پگھلنے سے مسلسل سمندروں کے پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 2050 تک یہ تبدیلی اپنی آخری حد پر پہنچ جائے گی۔ یہ ایک شدید تر قسم کا نیا طوفانِ نوح ہوگا اور دنیا کی تمام آبادی اس کی زد میں آ کر ختم ہو جائے گی۔
تھوڑے سے لوگ بچیں گے جو موجودہ زمانے کے عمومی بگاڑ سے محفوظ تھے۔
پیغمبر نے یہ خبر دی تھی کہ زمین پر انسان کی آبادی موجودہ صورت میں ہمیشہ باقی نہیں رہے وہ وقت آئے گا جب کہ موجودہ آباد دنیا کا خاتمہ کر دیا جائے گا، اور پھر ایک نئی دنیا بنے گی جس میں تمام سرکشوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اور خدا کے وفادار بندوں کو الگ کر کے اُنھیں ابدی جنتوں میں بسا دیا جائے گا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی عیسوی میں کہا تھا کہ میرے اور قیامت کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ انسان کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے (أنا والساعة کهاتین، صحیح البخاری، کتاب الرقاق) گلوبل وارمنگ کا ظاہرہ (phenomenon) بتاتا ہے کہ یہ فاصلہ اب ختم ہو چکا ہے۔ جدید سائنس جس موسمیاتی تبدیلی (clamatic change) کی خبر دے رہی ہے، وہ تبدیلی سائنس دانوں کے بیان کے مطابق، اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس کو دوبارہ الٹی طرف لوٹانا ممکن نہیں۔
جو واقعہ ہونے والا تھا، وہ ہو چکا۔ جو دن آنے والا تھا، وہ دن بہت قریب آگیا۔ وقت آگیا ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو بدلے۔ وہ خدا کے خلاف سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر خدا کے ساتھ وفاداری کا طریقہ اختیار کرے۔ حالات کی یہ خاموش پکار ہے کہ انسان اپنے آپ کو درست کر لے، اس سے پہلے کہ اپنے آپ کو درست کرنے کا موقع اس کے لیے باقی نہ رہے۔