Al-Risala · July 2008

دعوت الی اللہ کے تین دور

Al-Risala, July 2008, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت الی اللہ کے کام کو قرآن میں انذار اور تبشیر کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے: رسلاً مبشّرین ومنذرین لئلّا يكون للنّاس علی اللہ حجّۃٌ بعد الرّسل (النساء: 165) یعنی ہم نے لوگوں کی طرف اپنے پیغمبر بھیجے، خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، تاکہ لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف حجت باقی نہ رہے۔

پیغمبروں نے دعوت الی اللہ کا جو کام کیا، وہ اصلا یہ تھا کہ ہر زمانے کے انسان کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) سے آگاہ کیا جائے، لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ موجودہ دنیا تم کو بطور انعام نہیں ملی ہے، بلکہ بطور امتحان ملی ہے۔ اس دنیا میں تمھارے قول و عمل کا ریکارڈ درج کیا جا رہا ہے۔ اگلی مستقل دنیا میں اس ریکارڈ کے مطابق، ہر ایک کے لیے یا تو جنت کا فیصلہ کیا جائے گا، یا جہنم کا۔ دعوت الی اللہ کی اس طویل تاریخ کے تین بڑے دور ہیں۔ مطالعے کی آسانی کے لیے اُن کو حسب ذیل تین ادوار کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

1- پیغمبروں کا دور 2- اصحابِ رسول کا دور 3- اخوانِ رسول کا دور پیغمبروں کا دور پیغمبروں کا دور آدم سے شروع ہوا، جو کہ پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی، اور یہ دور آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا۔ قرآن کے بیان کے مطابق، خدا کے یہ پیغمبر ہر نسل میں اور ہر علاقے میں لوگوں کو خدائی سچائی (divine truth) کا پیغام دیتے رہے (الفاطر: 24)۔ پیغام اصلاً توحید اور آخرت کا پیغام تھا۔ اس پیغمبرانہ دعوت کا جو عمومی انجام ہوا، اُس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: يا حسرّةً علی العباد، ما يأتيهم من رسولٍ إلّا كانوا به

یستہزون (يس: 30)۔ یعنی بندوں پر افسوس ہے۔ اُن کے پاس جب بھی کوئی پیغمبر آیا، تو انھوں نے اُس کو حقیر سمجھا اور اس کا مذاق اُڑایا۔

پیغمبروں کے ذریعے دعوت کا یہ سلسلہ حضرت ابراہیم تک جاری رہا۔ حضرت ابراہیم 260 قبل مسیح میں عراق کے شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 175 سال کی عمر پائی۔ وہ لمبی مدت تک دعوت الی اللہ کا کام کرتے رہے، لیکن لوگوں نے آپ کی بات نہ مانی۔ آخر کار وہ عراق سے نکل کر دوسرے مقامات کی طرف چلے گئے۔ جب وہ عراق سے نکلے تو اُن کے ساتھ صرف دو انسان تھے۔ ایک، اُن کے بھتیجے لوط اور دوسرے، ان کی بیوی سارہ۔

پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں ایسا کیوں ہوا۔ اس کا جواب حضرت ابراہیم کی آخری زمانے کی ایک دعا میں ان الفاظ میں ملتا ہے: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ (إبراہیم: 36) اس آیت کی تشریح اُس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، کتاب الجنائز)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا سب سے پہلے اپنے قریبی ماحول سے متاثر ہوتا اُس کا بچپن اور اس کی جوانی جس ماحول میں گزرتی ہے، اس کے مطابق، اس کی کنڈیشننگ (conditioning) ہوتی رہتی ہے۔ اس کے بعد جب اس کے سامنے کوئی پیغمبر آتا ہے اور اٗس کو خدائی سچائی کا پیغام دیتا ہے تو ماحول کی کنڈیشننگ کی بنا پر وہ اٗس کو سمجھ نہیں پاتا۔ یہی کنڈیشننگ اُس زمانے میں دعوت کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ اُن کے لیے ناممکن ہو گیا تھا کہ وہ اپنی کنڈیشننگ سے باہر آکر ایک نئے پیغام کو خالی الذہن ہو کر سنیں اور آزادانہ طور پر اس کو سمجھ کر اُس کو قبول کر لیں۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، حضرت ابراہیم نے دعوتی عمل کا ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ شہروں اور انسانی آبادیوں سے دُور کھلے صحرا میں ایک نئی نسل تیار کی جائے، جو انسانی تمدن کی کنڈیشننگ سے پاک اور غیر متاثر ذہن کے تحت پیغمبرانہ دعوت کو سنے اور اس کو قبول کر سکے۔ اِسی منصوبہ بندی کے تحت ایسا ہوا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو اُن کی ماں ہاجرہ کے ساتھ

موجودہ مکہ کے پاس غیر آباد صحرا میں لا کر بسا دیا، یعنی ایک ایسی جگہ جہاں کوئی تمدن یا کوئی انسانی کلچر لوگوں کی کنڈیشننگ کے لیے موجود نہ تھا۔

Printed page