Al-Risala · July 2008

قدیم حُنفاء

Al-Risala, July 2008, pp. 26–29

By Maulana Wahiduddin Khan

بنو اسماعیل کی یہ نسل جو ڈھائی ہزار سالہ صحرائی تربیت کے ذریعے بنی، وہ تاریخِ بشری میں ایک نئی نسل کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس نسل کی بڑی اکثریت ایسے عورتوں اور مردوں پر مشتمل تھی جو بنیادی طور پر اپنی فطرت پر قائم تھے، اور اس بنا پر وہ نئی بات کو قبول کرنے کی امتیازی صفت رکھتے تھے۔ میں ایک تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اس صفت میں نسبتاً زیادہ نمایاں تھے۔ یہ لوگ گویا کہ اپنی فطرت کے زور پر پچاس فی صد سچائی کو پہلے ہی پا چکے تھے۔ ان لوگوں کو قدیم عرب میں حُنفاء کہا جاتا تھا۔ حنیف یا حُنفاء سے مراد وہ انسان ہے جو متلاشی حق (truth seeker) ہو۔ قدیم عرب میں ایسے بہت سے لوگ تھے۔ اُنھیں میں سے ایک قُس بن ساعدہ (وفات: 600ء) تھے۔ ان کے اندر خطابت کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ اسی طرح ایک اور صاحب تھے، جن کا نام زید بن عمرو بن نُفیل (وفات: وہ بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ: اللّهم إنّي لو أعلم أحبّ الوجوه إليك عبدتك به، ولكَنّی لا أعلم (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 154)۔ یعنی اے خدا، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کا بہتر طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، لیکن میں اِس کو نہیں جانتا: O God, if I knew how you whished to be worshipped, I would so worship you; but I do not know.

انھیں حنفاء میں سے ایک ورقہ بن نوفل ( وفات : 611 تھے ۔ 610 ء میں جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی، تو اُس وقت وہ بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ مگر جب انھوں نے آپ کی زبان سے وحی کی بات سنی تو انھوں نے فوراً آپ کی تصدیق کی، تاہم اس کے چند مہینے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ ابو بکر بن ابی قحافہ بھی انھیں حنفاء میں سے ایک تھے، جنھوں نے کسی تردّد کے بغیر آپ کی دعوت کو قبول کر لیا ۔ نبوت سے پہلے خود محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بھی اسی قسم کے ایک حنیف کامل تھے، یعنی خالص حق کے متلاشی۔ قرآن کی سورہ نمبر 93 میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے : ووجدک ضالاً فهدى (الضحى : 7)۔

مؤرخین نے عام طورپر صرف تسلیم کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں غیر معمولی کامیابی اس کامیابی کا راز کیا تھا۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ آپ کو اعلیٰ کردار رکھنے والے جان دار ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد ملی، جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ یہ اصحابِ رسولِ بنی اسماعیل کے منتخب افراد تھے۔ اس قسم کی ٹیم اس سے پہلے کسی پیغمبر کو حاصل نہ ہوئی۔ ان میں سے ایک ایک آدمی گویا کہ ایک ہیرو تھا۔ یہ اعلیٰ افراد، سادہ طور پر محض ”صحبت“ کی بنا پر نہیں ملے، وہ دراصل اُس ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ خداوندی کا نتیجہ تھے جو ایک نئی نسل پیدا کرنے کے لیے حضرت ابراہیم اور ہاجرہ اور اسماعیل کی غیر معمولی قربانی کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا ۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ گروہِ اخراجِ امت (آل عمران : 110) کا تاریخی نتیجہ تھا، نہ کہ سادہ طور پر صحبت کا پر اسرار نتیجہ۔ اخوانِ رسول کا دور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم عصر اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: وددتُ أنا قد رأينا إخواننا۔ قالوا : أولسنا إخوانك يا رسول الله، قال: أنتم أصحابی، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحیح مسلم، کتاب الطهارة) یعنی میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں (اخوان) کو دیکھتے ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو، اور وہ ہمارے اخوان ہیں جو بعد کو آئیں گے ۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، دورِ اوّل کے اصحاب رسول ایک لمبے تاریخی عمل کے ذریعے وجود میں اسی طرح دورِ ثانی کے اخوان رسول بھی ایک خصوصی تاریخی عمل کے ذریعے ظہور میں آنے والے لوگ ہیں۔ گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو دونوں گروہوں کے درمیان ظاہری فرق کے باوجود کامل مشا بہت پائی جاتی ہے۔

دورِ اوّل کے اصحاب رسول، بنو اسماعیل کی اُس نسل سے نکلے تھے جس کو تمدنی ماحول سے دور رکھ کر صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے عمل سے گزارا گیا، اور اس طرح متعصبانہ ذہن سے پاک کرکے اُن کو ان کی اصل فطرت پر لایا گیا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ دین فطرت کا پیغام سنیں اور کسی نفسیاتی پیچیدگی (complex) کے بغیر اس کو قبول کر لیں۔

موجودہ سائنسی دور بھی اسی قسم کا ایک دور ہے۔ اس زمانے میں دوبارہ عالمی سطح پر جدید نسلوں کی سائنسی ڈی کنڈیشننگ کی گئی۔ اس طرح ایسے لوگ تیار ہوئے، جو قدیم طرز کی روایتی سوچ سے آزاد وہ خالص فطرت کی سطح پر چیزوں کو سمجھ سکتے تھے۔ انھیں لوگوں کے لیے یہ مقدر کیا گیا تھا کہ وہ اسلام کو دوبارہ معرفت کی سطح پر پائیں اور انقلابی ذہن کے ساتھ اس کو قبول کر لیں۔ یہی بات موجودہ زمانے میں اس طرح ہوئی کہ جب دنیا میں سائنس کا تجرباتی متھڈ رائج ہوا، تو لوگ قدیم تصورات پر نظر ثانی کردیکھنے لگے۔ پہلے قیاس اور توہمات کی بنیاد پر رائیں قائم کی جاتی تھیں، اب تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعے رائیں قائم کی جانے لگیں۔ اسی کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک متھڈ (sientific method) کہا جاتا ہے۔ اس سائنٹفک متھڈ کے رواج نے موجودہ زمانے میں قدیم انداز فکر کو بدل دیا، اور لوگ چیزوں کو سائنسی انداز میں از سر نو جانچ کرنے لگے۔ اسی واقعے کو ہم نے یہاں سائنسی ڈی کنڈیشننگ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔

یہ سائنسی ڈی کنڈیشننگ موجودہ زمانے کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اس کے نتیجے میں موجودہ زمانے میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی ہے، جس طرح قدیم عرب میں صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے ایک نئی نسل بنی تھی۔ موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ روایتی بندشوں سے آزاد ہوکر

اِسی بنا پر وہ کسی نئی سچائی کو سمجھنے کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ قدیم زمانے میں ایسا نہ تھا۔

ڈھائی ہزار سال پہلے صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے عرب میں ایسے لوگ پیدا ہوئے تھے، جو باپ دادا سے ملی ہوئی مذہبی روایات سے باہر آ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اِسی طرح موجودہ زمانے میں سائنسی ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے ایسے لوگ بڑی تعداد میں پیدا ہوئے، جو اپنے آبائی مذہب کے خول سے باہر آ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اِس طرح کے لوگ ساری دنیا میں پیدا مثال کے طور پر یہاں اِس قسم کے دو ممتاز مغربی افراد کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اِن میں سے ایک مشہور سائنس داں سر آئزاک نیوٹن (وفات: 1727) تھا۔ وہ اگرچہ روایتی مسیحی خاندان میں پیدا ہوا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ مسیحیت کے روایتی خول سے باہر آ گیا۔ نیوٹن کے ایک سوانح نگار پیٹر (Peter Ackroyd) کی ایک کتاب اِس موضوع پر 2006 میں شائع اِس کتاب کا نام یہ ہے:

Printed page