Isaac Newton — A Secret Faith
Al-Risala, July 2008, pp. 29–33
By Maulana Wahiduddin Khan
مصنف نے اِس کتاب میں نیوٹن کے بارے میں لکھا ہے:
Newton also believed that the true religion was derived from the sons of Noah, and had been transmitted by Abraham, Isaac and Moses. Pythagoras was a convert to this religion, and passed it on to his own disciples. Christ was a witness to that primitive faith in his simple commandments to love God and to love one's neighbor. In a later document Newton declared that we must worship 'the only invisible God' and venerate the 'one mediator between God & man the man Christ Jesus'. At the peril of our souls 'we must not pray to two Gods'. We must not worship Christ. Christ had been filled with divine spirit, but he was not God. (p. 54) دوسری مثال فرانس ہر برٹ بریڈلے (وفات: 1924) کی ہے۔ وہ مشہور برٹش فلسفی وہ بھی اِسی قسم کے افراد کی ایک مثال ہے، جو اگرچہ قدیم مذہبی روایات کے ماحول پیدا ہوئے،
لیکن سائنسی تعلیم اور سائنسی غور و فکر نے ان کو مجبور کیا کہ وہ قدیم روایتی خول سے باہر آ کر کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور بے آمیز سچائی کی تلاش کریں۔
فرانس ہر برٹ بریڈلے کی ایک کتاب (Appearance and Reality) ہے۔ کتاب پہلی بار 1893 میں شائع ہوئی۔ اس نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ آج انسان کو ایک سائنٹفک مذہب (scientific religion) کی ضرورت ہے۔ قدیم روایتی طرز کا مذہب آج کے انسان کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ بریڈلے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آج کے انسان کو ایسا مذہب چاہیے، جس کا پیغمبر نیوٹن ہو، اور جس کی مقدس کتاب پرنسپیا (Principia) ہو، یا یہ کہ اُس کا پیغمبر آئن سٹائن ہو، اور اُس کا الہیاتی نظریہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت (General theory of relativity) ہو، بلکہ بریڈلے کا مطلب صرف یہ تھا کہ آج کے زمانے میں وہی مذہب انسان کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے جو سائنٹفک جانچ (scientific scrutiny) میں پورا اُترے۔
اِس قسم کے افراد میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی تلاش کی آخری منزل تک پہنچے۔ ان میں سے ایک مثال ڈاکٹر نِشی کانت چٹو پادھیائے کی ہے۔ وہ ایک بڑے ہندو اسکالر تھے۔ وہ کئی زبانیں جانتے وہ بنگال کے ایک روایتی ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ بعد کو ان کی تعلیم نے ان کو پورے معنوں میں نان کنفارمسٹ (non-conformist) بنا دیا۔ انھوں نے آزاد ذہن کے تحت، مختلف مذاہب کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے مختلف مذہبی شخصیتوں کو پڑھا۔ آخر میں اپنے کھلے ذہن کی بنا پر وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گئے کہ تمام مذہبی شخصیتیں غیر تاریخی شخصیتیں ہیں۔ ان میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔
اِس معاملے میں اپنے خیالات کے اظہار کے لیے انھوں نے 1904 حیدر آباد (انڈیا) میں ایک لیکچر دیا تھا۔ اِس لیکچر میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ دوسری تمام مذہبی شخصیتیں مائٹھو لاجکل فیگر (mythological figure) کی حیثیت رکھتی ہیں، اِس عموم میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ اِس بات کا ذکر کرتے ہوئے، انھوں نے
اپنے تحریری لیکچر میں یہ تاثر سے بھرا ہوا جملہ کہا تھا:
Oh, what a relief to find, after all, a truly historical Prophet to believe in. جس طرح قدیم عرب میں حنفاء پیدا ہوئے تھے، اسی طرح موجودہ زمانے میں بھی بہت سے حنفاء پیدا ہوئے۔ یہ جدید حنفاء وہ لوگ تھے جو تعصبات سے آزاد ہو کر امکانی طور پر اسلام کی صداقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس قسم کی مثالیں موجودہ زمانے میں کثرت سے سامنے آئیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کی چند مثالوں کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کے ٹامس کارلائل (وفات: 1881) ایک مشہور انگریزی مصنف اور مورخ ان کی مختلف کتابیں ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہ ہے: On Heroes, Hero-Worship (1841)
ٹامس کارلائل نے اپنی اس کتاب میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے اور ان کو تمام پیغمبروں کا ہیرو بتایا ہے۔
مشہور لبنانی پروفیسر فلپ ہٹی (وفات: 1978) نے اپنی کتاب تاریخِ عرب (History of the Arabs) میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھا ہے کہ دوسرے پیغمبروں کے برعکس ، محمد تاریخ کی مکمل روشنی میں پیدا ہوئے:
Muhammad was born withing the full light of history (p. 111)
فرانس کے ڈاکٹر مورس بوکائی (پیدائش: 1920) نے عربی زبان سیکھی اور قرآن کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ تمام مذہبی یا الہامی کتابوں میں قرآن واحد کتاب ہے، جس کی صداقت جدید سائنسی معیار پر پوری اترتی ہے۔ اس موضوع پر انھوں نے ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ اس کا نام یہ ہے: The Bible, the Quran and Science امریکا کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (پیدائش: 1932) نے 572 صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب
تیاری کی ۔ یہ کتاب 1991 میں پہلی بار چھپی ۔ اس کتاب میں مصنف نے تاریخ کے ایک سو ایسے افراد کے حالات لکھے ہیں، جنھوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ۔ ایک سو ایسے کامیاب ترین افراد کی فہرست میں انھوں نے نمبر ایک پر جس کا نام درج کیا ہے، وہ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کتاب کا نام یہ ہے:
The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History انڈیا کے ایک مؤرخ مسٹرا یم این رائے (وفات : 1954 ) نے اسلام پر ایک کتاب شائع کی اس کا نام ہے اسلام کا تاریخی رول (The Historical Role of Islam) ۔ پہلی بار 1939 میں چھپی ۔ مصنف نے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے انقلاب کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے _ تمام معجزوں میں سب سے زیادہ بڑا معجزہ: The Most Miraculous of all Miracles. (p. 4)
اس طرح کے حنفاء جدید دور میں بڑی تعداد میں پیدا ہوئے ۔ ان میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنھوں نے واضح طور پر مذکورہ قسم کا اعتراف کیا ۔ ان کے علاوہ اس گروہ میں بہت سے ایسے لوگ بھی نکلے جنھوں نے بطور خود قرآن کا ترجمہ پڑھ کر باقاعدہ اسلام قبول کر لیا ۔ مثلاً ہنگری کے ڈاکٹر عبدالکریم جر مانوس ، آسٹریا کے لیو پولڈ محمد اسد، برطانیہ کے محمد مار ماڈیوک پکتھال ، اور لار ڈہیڈ لے فاروق، وغیرہ۔
جدید سائنسی دور نے موجودہ نسلوں کے اندر ایک نیا ذہن پیدا کیا، جو عین اسلام کے موافق وہ ہے روحِ تجسس (spirit of inquiry) ۔ انگلش فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات : 1970) نے خاص اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے _ ول ٹو ڈاؤٹ (Will To Doubt) ۔ طرح کی کتابوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جدید ذہن کی نمایاں صفت یہ ہے کہ سائنس کی ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے لوگوں کا روایتی فکر ختم ہو گیا ۔ وہ یہ چاہنے لگے کہ چیزوں کو تاریخی اور سائنسی معیار پر جانچ کر وہ اس کی سچائی کو جانیں اور پھر اس کو قبول کریں۔
موجودہ زمانے کا یہ ذہنی انقلاب عین اسلام کے حق میں تھا۔ کیوں کہ تمام مذاہب میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو کامل طور پر محفوظ مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسرے تمام مذاہب تبدیلی کا شکار ہو کر علمی اور تاریخی اعتبار سے غیر مستند بن چکے ہیں۔ اس بنا پر جدید ذہن کے لیے مذہبوں کے درمیان صرف ایک ہی چوائس باقی رہا ہے، یہ اسلام کا چوائس ہے جو استثنائی طور پر الہامی مذہب کے مستند متن (authentic version) کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس طرح جدید تاریخ میں دوبارہ عین وہی صورت حال پیدا ہو گئی ہے جو ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں عرب میں تھی، یعنی انسانوں کے ایک ایسے گروہ کا وجود میں آ جانا جو اپنی ڈی کنڈیشننگ کی بنا پر غیر شعوری اعتبار سے اسلام کے قریب آ چکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ آج کے انسان کے اس لاشعور کو شعور میں تبدیل کیا جائے۔ ایک سفر میں ایک جاپانی اسکالر نے مجھ سے کہا کہ جاپانی لوگ بالقوہ مسلمان ہیں :