مسجد ایک دعوتی مرکز
Al-Risala, January 2008, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
مسجد کو عام طور پر صرف عبادت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ دعوت کا مرکز بھی کیوں کہ مسجد میں بہت سے لوگ اپنی عبادت ادا کرنے کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں۔ اس طرح مسجد مستقل طور پر ایک مقامِ اجتماع بن جاتی ہے۔ اور جس مقام پر انسانوں کا اجتماع ہو، وہ فطری طور پر ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے، جہاں لوگوں کو خطاب کیا جائے اور انھیں دعوت پہنچائی جائے۔ تبلیغی جماعت نے مسجد کی اس حیثیت کو منظم انداز میں استعمال کرنا شروع کیا۔ سے وابستہ لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایک مسجد سے دوسری مسجد کی طرف جاتے ہیں اور جو لوگ وہاں نماز کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں، اُن کے درمیان کام کر کے ان کو اپنا دینی پیغام پہنچاتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے لوگ اپنی تحریک کو’’مسجد وار تحریک‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہ کام بانیٔ تبلیغ مولانا محمد الیاس کاندھلوی (وفات: 1944) سے ہو رہا ہے۔
مسجد وار تحریک کا یہ طریقہ بلا شبہ درست ہے۔ لیکن تبلیغی جماعت کے لوگ عملاً اس امکان کو صرف جزئی طور پر حاصل کر پاتے ہیں۔ ان کا طریقہ ہے کہ نماز کے خاتمے پر وہ نماز کے لیے مسجد میں آنے والوں سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ کچھ دیر کے لیے ٹھیر جائیں، ہم آپ کو دین کی اہم باتیں بتائیں گے، مگر عملاً ہر جگہ یہ ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد اٹھ کر مسجد سے باہر چلے جاتے ہیں۔ تھوڑے سے کم تعلیم یافتہ لوگ تبلیغ والوں کی باتیں سننے کے لیے مسجد میں ٹھیرتے ہیں۔ اس طرح مسجد کا دعوتی امکان صرف جزئی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ 14 اکتوبر 2007 (1428 ہجری) کو عید الفطر کا دن دہلی کی اکثر مسجدوں میں حسبِ معمول عید الفطر کی نماز ہوئی۔ شہر کے لوگ بڑی تعداد میں مسجدوں میں آئے اور یہاں عید کی نماز ادا کی۔ اس طرح شہر کی مسلم آبادی کی تقریباً تمام تعداد مسجدوں میں آگئی۔ الرساله مشن سے وابستہ افراد نے اس سال ایک نیا تجربہ کیا۔ انھوں نے خوب صورت چھپے ہوئے دعوہ بک لیٹ (Dawah Booklets) تیار کیے۔ یہ دعوہ بک لیٹ اردو اور انگریزی زبان میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرساله حسبِ ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:
ان میں اسلام کی تعلیمات کو مؤثر اسلوب میں بیان کیا گیا تھا۔
نماز کے خاتمے کے بعد یہ افراد یا گیٹ پر کھڑے ہو گئے، یا مسجد کے اندر پھیل گئے۔ نے نہایت شوق سے پاکٹ سائز کے ان خوب صورت کتابچوں کو لیا۔ تقریباً پچاس فی صد لوگوں نے اردو پمفلٹ حاصل کئے۔ ہر ایک ان کو لیتے ہوئے فوراً اُن کو پڑھنا شروع کر دیا۔ اس طرح دہلی کی مختلف مسجدوں میں بڑی تعداد میں پفلٹ تقسیم کیے گئے۔ اس طرح عید الفطر کے دن مسجد وار دعوتی تحریک کا ایک نیا تجربہ ہوا، وہ یہ کہ مسجد میں آنے والے تعلیم یافتہ لوگ جواب تک دعوت کی پہنچ سے باہر دکھائی دیتے تھے، وہ بھی دعوت کی پہنچ کے دائرے میں آگئے۔ مسجد کی صورت میں دعوتی موقع جو اس سے پہلے عوام کے اعتبار سے استعمال ہورہا تھا، وہ اب خواص کے اعتبار سے بھی استعمال ہونے لگا۔ تعلیم بالقدم کا طریقہ جن لوگوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا، تعلیم بالقلم کا طریقہ اُن لوگوں تک بھی پہنچ گیا۔ کتاب یا لٹریچر کے طریقے کا ایک اور فائدہ ہے، وہ یہ کہ تعلیم بالقدم کے مقابلے میں تعلیم بالقلم کا طریقہ اپنے اندر زیادہ وسیعی امکان رکھتا ہے۔ تعلیم بالقدم میں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے اور دوسرا آدمی سنتا ہے۔ لیکن تعلیم بالقلم میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ ایک شخص کو ایک کتاب دے دیتے ہیں۔ وہ اس کو لے کر اپنے ماحول میں جاتا ہے۔ پھر دوسرے بہت سے لوگ اُس سے کتاب کو لے کر پڑھتے ہیں۔ پھر مزید دوسرے لوگ کتاب کو حاصل کر کے اُس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ تعلیم بالقدم میں دعوت کی رفتار اگر ارتهمیٹک رفتار (arithmetic progression) سے بڑھتی ہے، تو تعلیم بالقلم کی صورت میں دعوت جیومیٹرک رفتار (geometric progression) سے بڑھنے لگتی ہے۔ دعوت کا یہ تجربہ خدا کے فضل سے نہایت کام یاب تجربہ تھا۔ ضرورت ہے کہ ہر مقام پر اسی طرح عمل کیا مسجدیں ہندوستان میں اور ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر مسجد میں لوگ نماز کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں۔ جمعہ اور عیدین کے موقع پر یہ تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہر جگہ کے لوگوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس قسم کے پمفلٹ لے کر مسجدوں میں پہنچ جائیں اور نماز کی ادائیگی کے بعد اُن کو نمازیوں کے درمیان تقسیم کریں۔ یہ بلاشبہ ایک کام یاب دعوتی طریقہ ہے۔ اس کو ہر ملک کی مسجد میں کام یابی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔