سوچیے، سوچیے، سوچیے
Al-Risala, August 2008, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر پہاڑ کی کھوہ (cave) سے کسی دن ایک زندہ انسان نکل آئے، تو سارے دیکھنے اور جاننے والے لوگ اس کو حیرت ناک واقعہ سمجھیں گے۔ تمام لوگ یہ سوچنے لگیں گے کہ ایسا کیوں کر ہوا۔ پیٹ سے ایک انسان کا پیدا ہونا بھی اسی قسم کا ایک واقعہ ہے جو دہشت ناک حد تک عجیب ہے۔ کے پیٹ سے زندہ انسان کو پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن وہ اس کے متعلق کچھ نہیں سوچتے۔ یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا روزانہ کا ایک بار بار دیکھنے کی وجہ سے لوگ اس واقعے کے عادی (used to) ہوگئے ہیں، اس لیے وہ اس کو فارگرانٹید (for granted) طور پر لیے رہتے ہیں۔ وہ اس معاملے میں سوچنے کی ضرورت نہیں لوگ اگر اس معاملے سنجیدگی کے ساتھ سوچیں تو وہ انسان کی پیدائش کے واقعے میں خالق کے وجود کو دریافت کر لیں۔ جب وہ دیکھیں کہ ایک زندہ اور باشعور انسان پیدا ہو کر زمین پر چل پھر رہا ہے، وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور بولتا ہے، تو ان کو محسوس ہو کہ ہر انسان خالق کے وجود کا ایک چلتا پھرتا نشان ہر انسان لوگوں کو اپنے خالق کا ایک زندہ تعارف معلوم ہونے لگے۔ اسی طرح انسان جب پیدا ہو کر موجودہ زمین (planet earth) پر آتا ہے، تو وہ پاتا ہے کہ یہاں اس کے لیے ایک پورا لائف سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ یہ لائف سپورٹ سسٹم اتنا مکمل ہے کہ کوئی قیمت دیے بغیر وہ انسان کی ہر چھوٹی اور بڑی ضرورت کو نہایت اعلیٰ صورت میں پورا کر رہا ہے۔ سے لے کر سورج تک پوری دنیا استثنائی طور پر انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ اس کے بعد وہ دن آتا ہے جب کہ انسان اچانک مر جاتا ہے۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن سو سال کے اندر ہی یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنی مرضی کے خلاف اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
زمین پر پیدا ہونے والا ہر انسان دو چیزوں کا تجربہ کرتا ہے۔ پہلے زندگی کا تجربہ، اور اس کے بعد
موت کا تجربہ۔ اگر انسان سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر سوچے تو وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ انسان کو پیدا کر کے اس زمین پر آباد کرنا بطور انعام نہیں ہے، بلکہ وہ بطور امتحان موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے۔ یہ آزادی اس لیے ہے تا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ با اصول زندگی گزارتا ہے اور کون شخص بے اصول زندگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ اس حقیقت کو پالے گا کہ موت در اصل خالق کے سامنے حاضری کا دن ہے۔ انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے، لیکن اس کی مدتِ حیات (life span) کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے— موت سے قبل کی مدت حیات (pre-death period)، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات (post-death period)۔ پہلے کی مدتِ حیات امتحان (test) کے لیے ہے، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات اُس کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا پانے کے لیے۔
انسان آج اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ اور با شعور وجود کی صورت میں پاتا ہے۔ اور با شعور وجود ایک مستقل وجود ہے۔ موت وہ دن ہے جب کہ یہ زندہ اور با شعور وجود اپنی اسی موجودہ صورت میں عارضی دنیا سے نکالا جاتا ہے اور اس کو اسی زندہ اور با شعور وجود کی حالت میں اگلی مستقل دنیا کی طرف منتقل (transfer) کر دیا جاتا ہے۔
یہ لمحہ ہر عورت اور مرد پر لازماً آنے والا ہے۔ وہ ناقابل قیاس حد تک سنگین لمحہ ہوگا۔ بعد آنے والے اس دورِ حیات میں یہی موجودہ انسان ہوگا، لیکن اس کے تمام اسباب اس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ چکے ہوں گے۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہوگی جو اس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ گئی، اور اس کے آگے وہ دنیا ہوگی جہاں اس کو کامل بے سروسامانی کے ساتھ ابدی طور پر رہنا ہے۔ دانشمند وہ ہے جو اس آنے والے دن کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔