ہدیہ: صرف -/25 روپئے
Al-Risala, August 2008, pp. 23–29
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری اعتبار سے انسان کی تاریخ کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے قبل سائنس دور، اور بعد سائنس دور۔ قبل سائنس دور میں فکری اعتبار سے، مذہب انسان کے لیے رُجحان ساز بنا ہوا ماڈرن سائنس کے ظہور کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ اب سائنس کو عمومی طورپر رجحان ساز (trendsetter) کا درجہ حاصل ہوگیا۔ سائنس بذات خود نہ مذہب کے موافق ہے اور نہ مذہب کے خلاف، لیکن بعض وجوہ سے اس کا یہ عملی نتیجہ نکلا کہ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام فکری معاملات میں الحادی نظریہ غالب آگیا۔ ایسا کیوں ہوا، یہاں اس کا ایک جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔ موجودہ سیارہ ارض پر انسان ہزاروں سال سے رہ رہا ہے۔ وہ روزانہ بہت سی چیزوں کو ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مثلاً سورج کا نکلنا، بارش کا برسنا اور ہواؤں کا چلنا، وغیرہ۔ روایتی طور پر انسان یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ براہ راست طور پر خدا کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے لیے ایک مسلمہ یا ایک بدیہی صداقت (axiom) بن چکا تھا۔ موحد انسان اور مشرک انسان، دونوں کسی نہ کسی طور پر اس کو بطور ایک مسلمہ حقیقت کے مانتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق (مُسبّب) اور نتیجے کے درمیان کسی سبب (cause) کا تصور فکری یا عملی طور پر موجود نہ تھا۔
جدید سائنس کے ظہور کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ہر نتیجے سے پہلے بظاہر اس کا ایک مادی سبب (material cause) موجود ہے۔ مثال کے طور پر جدید سائنس کا بانی سر آئر اک نیوٹن (وفات : 1727ء) اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے سیب کا ایک درخت تھا۔ درخت سے ایک سیب ٹوٹ کر نیچے گرا۔ نیوٹن سوچنے لگا کہ پھل درخت سے ٹوٹ کر نیچے کیوں آیا، وہ اوپر کی طرف کیوں نہیں چلا گیا۔ آخر کار اُس نے دریافت کیا کہ ہماری زمین میں قوت کشش (gravitational pull) ہے، اِس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ چیزیں اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں، وہ نیچے سے اوپر کی طرف نہیں جاتیں۔ یہ سائنسی مطالعہ بڑھا، یہاں تک کہ سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ اس دنیا میں جو واقعات ہوتے
ہیں، اُن سب کے پیچھے ہمیشہ ایک سبب (cause) موجود رہتا ہے، ہر نتیجہ کسی سبب کے تحت ظہور میں سائنس دانوں نے اپنی اس دریافت کو قانون تعلیل (principle of causation) کا نام واقعات کو مبنی بر اسباب سمجھنے کا یہ ذہن پھیلتا رہا، یہاں تک کہ وہ انسان کی تمام علمی اور فکری سرگرمیوں پر چھا گیا۔ واقعات کی توجیہہ کے لیے پہلے، خدا کا حوالہ دیا جاتا تھا، اب واقعات کی توجیہہ کے لیے خدا کے بجائے، سبب (cause) کا حوالہ دیا جانے لگا۔
سائنس کی یہ دریافت ابتدائی طور پر اپنے اندر صرف ایک طبعی مفہوم رکھتی تھی۔ خدا کے حوالے سے واقعات کی توجیہہ نہ کرنے کے باوجود وہ خدا سے انکار کے ہم معنی نہ تھی۔ مگر ملحد مفکرین نے، نہ کہ سائنس دانوں نے، نظریاتی ہائی جیک (hijack) کے ذریعے اس کو خدا سے انکار کے ہم معنی بنا دیا۔ یہیں سے وہ نظریہ شروع ہوا جس کو جدید الحاد (modern atheism) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی اس دریافت کو لے کر جدید ملحدین نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اب ہمیں واقعات کی توجیہہ کے لیے خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ واقعات اگر طبعی اسباب کا نتیجہ ہیں، تو وہ مافوق الطبیعی اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے:
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. جیسا کہ آئندہ ہم واضح کریں گے کہ اس استدلال میں واضح طور پر ناقابل حل منطقی خلا (logical gap) موجود تھا، اس کے باوجود جدید اہل علم کے درمیان اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کو خدا کا بدل سمجھا جانے لگا، یہاں تک کہ یہی طرزِ فکر تمام جدید علمی شعبوں میں چھا گیا۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
1 - ان میں سے ایک ماڈرن میٹریل ازم (modern materialism) ہے۔ ایک فلسفہ بھی ہے، اور ایک کلچر بھی۔ عملی طور پر دیکھیے تو میٹریل ازم کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی آرزوؤں کی جنت کے حصول کے لیے اب اس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ اگلی دنیا (آخرت) برپا ہو اور
وہاں خدا اپنی خصوصی عنایت کے طور پر ہمیں جنت عطا کرے۔ اب ہم کو وہ سبب معلوم ہو گیا ہے جس کے ذریعے اسی دنیا میں جنت کی تعمیر ممکن ہے، یہ سبب جدید ٹکنالوجی ہے۔
چناں چہ جدید ٹکنالوجی اور جدید انڈسٹری کے ذریعے اس جنت ارضی کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ مادیت (materialism) کے نام سے ایک پوری تہذیب ظہور میں آگئی۔ آج کا انسان، خدا سے غافل ہو کر اس تہذیبی جنت کے حصول کے لیے ٹوٹ پڑا۔ جدید انداز کے مکانات اور جدید انداز کے شہر اور جدید انداز کا لائف اسٹائل ہر طرف وجود میں آنے لگا۔ تہذیب جدید کے تحت اس مادی جنت کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بعد کی تحقیقات نے خود اُس کی تعمیر ہی کو سرے سے ناممکن ثابت کر دیا۔ طبیعیاتی سائنس نے مزید مطالعے کے بعد بتایا کہ ہماری دنیا میں ضابطۂ ناکارگی (law of entropy) اس کے تحت، دنیا مسلسل طور پر خاتمے کی طرف جارہی ہے، اور ایک دن آئے گا جب کہ وہ مکمل طور پر ختم ہوجائے۔
اکیسویں صدی میں پہنچ کر اس میں مزید اضافہ ہوا۔ اب معلوم ہوا کہ خاتمے کی یہ مدت بہت قریب آگئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ صرف پچاس سال کے اندر وہ تمام ذرائع اور وسائل بالکل تباہ ہو جائیں، جن کی مدد سے مفروضہ مادی جنت تعمیر کی جارہی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ عن قریب وہ اسباب ہی ختم ہو جائیں گے، جن کی بنیاد پر مادی جنت کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ 2- اس معاملے کی ایک مثال ڈارون ازم (Darwinism) ہے۔ پچھلے ہزاروں سال سے انسان یہ مانتا چلا آرہا تھا کہ انواع حیات، بشمول انسان، کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ یہ خداوندِ عالم ہے جو براہِ راست اپنی تخلیق کے ذریعے تمام انواع حیات کو وجود میں لاتا ہے۔ مگر چارلس ڈارون (وفات: 1802) نے مفروضہ طور پر یہاں بھی ایک ’’سبب‘‘ کو دریافت کر لیا، جو مختلف انواع حیات کو وجود میں لانے کا ذمے دار تھا۔ یہ سبب، ڈارون کے الفاظ میں، نیچرل سلیکشن (natural selection) تھا، یعنی حیاتیاتی عمل کے دوران طبیعی اسباب کے تحت مختلف انواع حیات ظہور میں آتی چلی گئیں۔ گویا کہ انواع حیات، یا انسان کو وجود میں لانے والا عنصر ایک مادی سبب (material cause) ہے، نہ کہ غیر مادی خدا۔
ڈارون کا دریافت کردہ سبب (cause) کبھی بھی علمی اعتبار سے ثابت شدہ نہ تھا، وہ صرف ایک مفروضہ تھا۔ مزید یہ کہ خود علماء حیاتیات اس کو ایک ثابت شدہ نظریے کے بجائے صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) کا درجہ دیتے ہیں۔ حتی کہ خود چارلس ڈارون کو اپنے اس دریافت کردہ مفروضہ پر آخری عمر میں شک پیدا ہو گیا تھا، چناں چہ وہ مایوسی کی حالت میں مرا۔ اس واضح منطقی خامی کے باوجود، ڈارون کے نظریے کو جدید علمی حلقوں میں عمومی مقبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا۔ حتی کہ آج بھی یہ غیر ثابت شدہ نظریہ تمام دنیا کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
3- اِسی کی ایک مثال مارکس ازم (Marxism) بھی ہے۔ کارل مارکس (وفات: 1883) نے سماجی معاشیات (social economy) کے معاملے میں بھی اِسی مفروضہ اصول کو منطبق بطور خود اس نے اُس سبب (cause) کو دریافت کیا جس کے تحت، انسانی سماج کے اندر انقلابی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور سماج ایک خود کار مادی عمل کے تحت، ایک حالت سے ترقی کر کے دوسری حالت تک پہنچ جاتا ہے۔
کارل مارکس نے اس سبب کو تاریخی ناگزیر یت(historical determinism) یا جدلیاتی مادّیت (dialectical materialism) کا نام دیا۔ اُس نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سماج کے اندر ناگزیر داخلی اسباب کے تحت، دو طبقے (classes) پیدا ہوتے ہیں۔ تاریخی اسباب کے تحت، ان طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آتا ہے، اس کے بعد ایک طبقہ مٹ جاتا ہے اور دوسرا طبقہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ اس طرح داخلی اسباب کے تحت، انسانی سماج ترقی کرتا رہتا ہے۔
کارل مارکس اور اس کے ساتھیوں کا دریافت کردہ یہ سبب (cause) بھی صرف مفروضہ مارکس کی پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے، وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ جیسا کہ معلوم ہے، سوویت روس میں 1917 میں مصنوعی طور پر یہ انقلاب لایا گیا، مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ یہ نظریہ سوویت روس میں پیدا ہوا، اور سوویت روس ہی کے قبرستان میں وہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب :’’مارکس ازم—— تاریخ جس کو رد کر چکی ہے‘)۔ 4- جدید کنزیومرازم (modern consumerism) بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔
انسان کے اندر بے پناہ حد تک یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے لیے ہر قسم کی راحت اور آسائش کا سامان جدید صنعتی ترقیوں نے بظاہر اس کو ممکن بنا دیا۔ گویا کہ جدید صنعت وہ سبب (cause) تھا جس کے نتیجے کے طور پر انسان کو ہر قسم کی استعمالی اشیا (consumer goods) حاصل ہو سکتی تھیں۔ چناں چہ لوگ ہر جگہ قائم ہونے والے شاپنگ سنٹروں پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن آخر میں معلوم ہوا کہ یہ ’’سبب‘‘ بھی صرف ایک غلط مفروضہ تھا۔ سامان استعمال کی تیاری صرف اس قیمت پر ہوئی کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے قابل استعمال ہی نہ رہی۔
مثال کے طور پر کاروں اور ہوائی جہازوں نے بظاہر سفر کو آسان کر دیا، مگر اس کا ناقابل برداشت حد تک منفی نتیجہ کاربن ایمیشن (carbon emissions) اور گرین ہاؤس گیس (green house gases) کی شکل میں نکلا، جس کا حل تلاش کرنے میں تمام سائنس داں عاجز ہو رہے ہیں۔ ائر کنڈیشننگ کے سامانوں کی تیاری کا یہ بھیانک نتیجہ نکلا کہ زندگی بخش اوزون لیئر(Ozone (Ozone layer) میں بہت بڑا سوراخ (hole) پیدا ہو گیا، جو خود انسانی زندگی کے لیے ایک ناقابل حل چیلنج بن گیا، وغیرہ۔ کہ غیر مضر انداز میں استعمالی اشیا بنانے کے لیے پلولن فری انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور پلولن فری انڈسٹری کو قائم کرنا سرے سے انسان کے بس ہی میں نہیں۔ 5- اسی معاملے کی ایک مثال بدھ ازم میں پائی جاتی ہے۔ بدھ ازم کو موجودہ زمانے میں تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس مقبولیت کا راز بھی وہی چیز ہے، جس کو اوپر ہم نے قانونِ تعلیل (principle of causation) کے تحت بیان کیا ہے۔
جدید سائنس کے زیر اثر موجودہ زمانے میں وہ ذہن بنا، جو ہر چیز کو سبب اور علت (cause and effect) کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بدھ ازم نے زندگی اور موت کے ظاہر ہ کے بارے میں اس اصول کو منطبق کیا۔ اگر چہ یہ انطبا ق تمام تر قیاسی تھا، لیکن بظاہر اسباب پر مبنی
ہونے کی بنا پر وہ جدید مغربی ذہن کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہو گیا۔
موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی غریب خاندان میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی امیر خاندان میں، کوئی مصیبت میں جیتا ہے اور کوئی آرام میں۔ بدھ ازم نے مفروضہ طور پر اس کا ایک سبب دریافت کر لیا، وہ یہ کہ ہر آدمی اپنے پچھلے کرم (عمل) کے لازمی نتیجے کے طور پر اپنے عمل کے انجام کو بھگت رہا یہ تو جیہہ چوں کہ بظاہر ”سبب“ کے اصول پر مبنی تھی، اس لیے وہ جدید ذہن کو پسند آگئی اور ان کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہو گئی۔ گویا کہ یہاں بھی مادی سبب نے غیر مادی خدا کی جگہ لے لی۔ لیکن بدھ ازم کی یہ تو جیہہ خود سائنسی تحقیق کے مطابق، سرتا سر غیر ثابت شدہ تھی۔ کے شعبے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا حافظہ (memory) انسانی شخصیت کا ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، ایک خاص صورت میں نیا جنم لیتا ہے تو اس کو اپنے پچھلے جنم کی ساری باتیں یاد رہنا چاہئیں۔ کیوں کہ یہ اُس کی پچھلی شخصیت (personality) ہی ہے، جو نئی شخصیت کی صورت میں ظاہر ہوئی مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی انسان کو اپنے پچھلے جنم کا معاملہ یاد نہیں۔ بدھ ازم کے نظریے کے مطابق، ہر عورت اور مرد جس کو آج ہم دیکھتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو، وہ خود اپنے پچھلے جنم کا نیا جنم ہے، مگر ان میں سے کسی کو بھی اپنے پچھلے جنم کی بات یاد نہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی ہندو عورت یا کسی ہندو مرد کو پر اسرار طور پر سامنے لایا جاتا ہے، جو اپنے پچھلے جنم کے احوال بتاتا ہے، مگر اس قسم کا شعبدہ کوئی دلیل نہیں۔ کیوں کہ علمی اعتبار سے ایسا واقعہ صرف اُس وقت دلیل بن سکتا ہے، جب کہ تمام ہندوؤں اور غیر ہندوؤں کو اپنے پچھلے جنم کی بات یاد ہو، نہ کہ صرف چند پر اسرار افراد کو۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے جب سما دھی لگائی تھی تو انھوں نے ماضی میں سفر کیا تھا، اور اپنے پچھلے تما جنموں کو دیکھ لیا تھا، مگر یہ دعویٰ تمام تر صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ گوتم بدھ نے خود اپنی زبان سے ایسا کہا تھا۔ یہ صرف بعد کے شارحین ہیں،
جنھوں نے اپنے قیاس اور استنباط کے ذریعے اس قسم کی بات کہی ہے، اور بعد کے شارحین کا استنباط اس معاملے میں ہرگز کوئی دلیل نہیں بن سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ قانون تعلیل (principle of causation) اپنی ابتدا ہی میں صرف ایک مفروضے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ کوئی علمی دلیل نہ تھا۔ اس کی شہرت یا مقبولیت اس کے علمی وزن کی بنیاد پر نہیں ہوئی، بلکہ صرف جذباتیّت کی بنیاد پر ہوئی۔ لوگوں نے جلد بازی میں ایک ایسے مفروضے کو حقیقت سمجھ لیا، جو اپنے آغاز کے پہلے دن ہی صرف ایک مفروضہ تھا، نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔ جدید ملحدین کے اس استدلال میں واضح طور پر ایک بہت بڑا منطقی خلا تھا، وہ یہ کہ کسی واقعے کا جو سبب (cause) سائنس بتا رہی ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی آخری بات نہیں، اس کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہ سبب کیوں کر وقوع میں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سبب (cause) اصل معاملے کی توجیہہ نہیں کرتا، سبب خود اس کا محتاج ہے کہ اُس کی کوئی توجیہہ تلاش کی جائے: Cause does not explain, cause itself is in need of an explanation. (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘، God Arises)۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے :
دی اسپرچول میسیج، فی کاپی -/ 15 روپے، سالانہ -/ 165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے:
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 2834 1654/ 28346079/ 2821 8609, Fax: 2823 6323