Al-Risala · January 2008

کامیابی کا راز

Al-Risala, January 2008, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک امام صاحب کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ خطبے سے پہلے وہ اردو میں تقریر کرتے تھے۔ اس تقریر میں وہ اکثر یہ کرتے کہ اختلافی مسائل میں شدید رویہ اختیار کرتے۔ اپنی سمجھ کے مطابق، جس مسلک کو درست سمجھتے تھے، اس کے مخالف مسلک پر وہ شدید تقریر کرتے۔ اس پر نمازیوں کی بڑی تعداد امام صاحب کے خلاف ہوگئی۔ لوگ کہنے لگے کہ ان کو خطیب کے مقام سے ہٹا دینا چاہیے۔ میری ملاقات امام صاحب سے ہوئی تو گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ اس طرح کی تنقیدی تقریریں کیوں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو حق اور ناحق کا معاملہ ہے۔ میں اس معاملے میں نہ بولوں تو میں گناہ گار ہو جاؤں گا۔

میں نے کہا کہ آپ کی سوچ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حق اور ناحق کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ممکن اور ناممکن کو دیکھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی آپ کا طریقہ تھا۔ میں نے مثالیں دے کر امام صاحب کو سمجھایا تو وہ میری بات مان گئے۔ اس کے بعد انھوں نے تنقیدی طریقہ چھوڑ دیا اور حکیمانہ انداز میں اپنی بات بیان کرنے لگے۔

یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ حکمت کی اہمیت ہوتی ہے۔ حکمت کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ صرف مسائل کو بڑھائے گا، وہ مسائل کو حل نہیں کرسکتا۔ میں کوئی حقیقی کامیابی صرف صبر کا طریقہ اختیار کرنے والے کو حاصل ہوتی ہے۔ صبر کا طریقہ چھوڑنے کے بعد کسی کو کوئی حقیقی کامیابی ملنے والی نہیں۔

اجتماعی معاملات کو ہمیشہ حق اور ناحق کے نظریے سے دیکھنا صرف جوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لوگوں کے اندر صبر وتحمل ہو، وہ معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے اور پھر وہی طریقہ اختیار کریں گے جو صورتِ حال کی روشنی میں نتیجہ خیز ثابت ہونے والا ہو۔

Printed page