Al-Risala · August 2008

Don’t feel guilty

Al-Risala, August 2008, pp. 32–36

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون میں جدید ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ خطا کا احساس آدمی کے اندر

سیلف بلیم (self-blame) کی نفسیات پیدا کرتا ہے، ایسا آدمی شکست خوردہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے، اس کا کانفیڈینس لیول (confidence level) بہت گر جاتا ہے، ایسے آدمی کے اندر غیر ضروری طور پر منفی مزاج پیدا ہو جاتا ہے، وہ حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھتا ہے، ماں باپ کی روک ٹوک اور اخلاقی پابندیوں کی بات کو اس مضمون میں نیگیٹیو پیرنٹنگ (negative parenting) بتایا گیا ہے، کیوں کہ اس سے بچے کے اندر اپنے بارے میں کم تری کا احساس پیدا ہوتا ہے، وغیرہ۔ یہ بلاشبہ صورتِ حال کا غلط تجزیہ ہے۔ آدمی کے اندر جب غلطی کا احساس پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے اندر اپنی اصلاح (self-correction) کا جذبہ ابھارتا ہے، نہ کہ سیلف ڈفیٹ (self-defeat) یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اس کا ضمیر کم زور ہونے کے باوجود ہمیشہ زندہ رہتا ایسی حالت میں جو آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، وہ ہمیشہ بے یقینی کے احساس میں مبتلا اسی کا دوسرا نام بے حوصلگی ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کا اعتراف کرلے، وہ اپنی اصلاح کرکے اپنے اندر مزید یقین پیدا کرلے گا، وہ زیادہ حوصلے کے ساتھ عمل کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ یقین اور اعتماد کا سر چشمہ آدمی کا یہ احساس ہے کہ میں سچائی کے راستے پر میں اپنے ضمیر کے مطابق چل رہا ہوں۔ میں نے فطرت کے نظام سے بغاوت نہیں کی ہے۔ اُن اصولوں کا پابند ہوں جن کے اوپر پوری کائنات قائم ہے۔ بر سر حق ہونے کا احساس آدمی کے حوصلے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی غلطی کرنے کے باوجود اپنے کو غلط نہ مانے، وہ داخلی بے یقینی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ یہ واقعہ کبھی شعوری طور پر ہوتا ہے اور کبھی غیر شعوری طور پر، مگر جہاں تک نتیجے کا تعلق ہے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

فکری اعتبار سے اس غلطی کا آغاز بہت پہلے سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس دور میں عالمی افکار پر سب سے زیادہ جو لوگ اثر انداز ہوئے ہیں، وہ مغربی علما اور سائنس داں ہیں۔ چناں چہ اس معاملے میں بھی جو صورتِ حال عالمی سطح پر پیدا ہوئی، اس کی ذمے داری زیادہ تر مغربی علما پر جاتی ہے۔

یہ دراصل مغربی علما ہی تھے جنھوں نے انسانی فکر کی دنیا میں وہ حالات پیدا کیے جس کے نتیجے میں ارادی یا غیر ارادی طور پر، وہ صورت حال پیدا ہوئی جس کو اخلاقی بحران (moral crisis) کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ نمایاں نام اٹلی کے مشہور سائنس داں گلیلیو (Galileo) کا ہے۔ گلیلیو 1564 میں پیدا ہوا، اور 1642 میں اس کی وفات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو وہ شخص ہے جس نے ماڈرن سائنس کی بنیاد رکھی۔ گلیلیو پہلا شخص ہے جس نے دوربین کے ذریعے ستاروں اور سیاروں کا اور شمسی نظام مشاہدہ کیا۔ اگر چہ آخری عمر میں وہ اندھا ہوگیا تھا، لیکن سائنس کے مختلف شعبوں میں اس کی خدمات بہت زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔

گلیلیو نے ایک طرف یہ تاریخی کام کیا کہ اس نے میتھ میٹکس اور فزکس کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کیا، جب کہ اس سے پہلے دونوں الگ الگ شعبے بنے ہوئے تھے:

Galileo was the first man who perceived that mathematics and physics, previously kept in separate compartments, were going to join forces. (EB, 7/853)

گلیلیو کے اس عمل سے فزکس کو بہت ترقی ہوئی۔ لیکن اس مثبت کام کے ساتھ گلیلیو نے ایک ایسا کام بھی کیا، جس کے دور رس منفی نتائج برآمد ہوئے۔ وہ یہ کہ گلیلیو نے چیزوں کے کمیاتی پہلو (quantitative aspect) کو چیزوں کے کیفیاتی پہلو (qualititative aspect) سے جدا کر دیا۔ اس طرح اس نے سائنس کی تحقیقات کو صرف اُن چیزوں تک محدود کر دیا جو ناپی اور تولی جا سکتی تھیں، دوسری چیزیں اپنی تمام اہمیت کے باوجود سائنسی تحقیق کا موضوع نہ رہیں، اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ انسان کے لیے غیر اہم قرار پا گئیں، کیوں کہ موجودہ زمانے میں فکری اعتبار سے سائنس کا آج کا انسان اُنھیں چیزوں کو اہمیت دیتا ہے، جو سائنس کے اعتبار سے اہم قرار اس مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر الیکس کیرل (وفات: 1944) نے اپنی کتاب: انسان نامعلوم (1935 ,Man the Unknown) میں لکھا ہے:

" یہ غلطی جو ہماری تمام مصیبتوں کی ذمے دار ہے، گلیلیو کے تولیدی نظریہ (genial idea)

کی ایک غلط تعبیر کا نتیجہ ہے۔ گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، اُن ثانوی صفات سے الگ کر دیا، جو شکل، بُو اور رنگ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ کمّیت کو کیفیت سے جدا کر دیا گیا ہے۔ اس غلطی سے غیر معمولی نتائج پیدا ہوئے۔ انسان کے اندر وہ چیزیں، جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی، اُن چیزوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جن کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ مثلاً فکر اور خیال کا وجود اتنا ہی اہم ہے، جتنا خوں ناب (blood serum) کے طبعی کیمیاوی توازن کا وجود کمّی اور کیفی اشیا کے درمیان یہ فرق اور وسیع ہو گیا، جب ڈیکارٹ نے جسم اور روح کے درمیان فرق کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد سے دماغ کے مظاہر نا قابلِ تشریح بن گئے۔ مادی اشیا کو روحانی اشیا سے بالکل الگ کر دیا گیا“(73 .Religion and Science, p)

انسانی فکر میں اس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق ختم ہو گیا، یا صرف رسمی طور پر باقی رہا۔ انسان دنیا میں اس طرح رہنے لگا، جیسے کہ وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں، وہ اپنی قسم کا مالک آپ ہے، اُس کو یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ ہیومن ازم (Humanism) کا فلسفہ پیدا ہوا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا کی سیٹ پر اب خود انسان کو قبضہ حاصل ہو گیا ۔ چناں چہ ہیومن ازم کے نظریے کو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: Transfer of seat from God to man. انسان جب اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے اندر اللہ اکبر کی نفسیات پیدا ہوتی ہے، یعنی ہر قسم کی بڑائی صرف خدا کے لیے ہے۔ میں اُس کے مقابلے میں صرف ایک عاجز مخلوق کی حیثیت رکھتا ہوں۔ ایسا انسان خدا کو کبیر مان کر، اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں صغیر بنا لیتا ہے۔ سے انسان کے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عجز اور تواضع کا احساس ہی تمام اعلیٰ اخلاقی اقدار کا سر چشمہ ہے۔

اس کے برعکس معاملہ اُس انسان کا ہے جو خدا کو حذف کر کے سوچے ۔ ایسے انسان کے پاس

تقابل کے لیے صرف دوسرے انسان ہوتے ہیں۔ فطری طور پر اس کے اندر یہ احساس ابھرتا ہے کہ کوئی مجھ سے بڑا نہیں، دوسرے جو لوگ ہیں، وہ یا تو میرے برابر ہیں، یا مجھ سے چھوٹے ہیں۔ ہر آدمی کے اندر کوئی نہ کوئی خاص صفت ہوتی ہے، اس لیے ہر آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا وہ اِس کی ضرورت نہ سمجھے کہ اُس کو کسی کے آگے جھکنا چاہیے۔ اس قسم کا احساس بلا شبہ تمام اخلاقی اقدار کی نفی کے ہم معنی ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ کا مدبّر لارڈ کِرزن (وفات: 1925) غیر معمولی ذہین آدمی تھا۔ مطالعہ بھی کافی وسیع تھا۔ چناں چہ جب وہ لوگوں سے ملتا تو اس کو محسوس ہوتا کہ دوسرے لوگ اُس سے کم اس کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہو گیا۔ لارڈ کِرزن کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہیں کہ اس کے اندر آپ کے بارے میں کچھ ایسا پیدا ہو گیا ہے جس ہے کہ اُس کے معاصرین میں کوئی اس کے برابر کا نہ تھا:

Printed page