Progress in Brain Research (2008).
Al-Risala, August 2008, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب کے بارے میں ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ 21 مئی 2008 میں چھپی ہے۔ کتاب کے خلاصہ کے طور پر اس رپورٹ کا عنوان حسب ذیل الفاظ میں قائم کیا گیا ہے ۔ زیادہ عمر کے لوگوں کا دماغ زیادہ دانائی کا حامل ہوتا ہے: Older brain really may be a wiser brain (p. 37)
آج کل ہر چیز کو سرسچ کا موضوع بنایا جاتا ہے، لیکن مذکورہ حقیقت انسان کو بہت پہلے سے معلوم تھی ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ کم عمر والوں کے مقابلے میں، زیادہ عمر کے لوگ زیادہ عاقل اور دانا (wise) ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ زیادہ عمر والوں کے پاس دو چیزیں مزید ہوتی ہیں۔ (maturity)، اور دوسرے، تجربہ (experience)۔
فطرت میں یہ نظام اس لیے ہے، تاکہ اگلی نسل کے لوگ، پچھلی نسل والوں سے فائدہ اٹھائیں۔ کم عمر کے لوگ زیادہ عمر والوں سے رہ نمائی لیتے رہیں، تاکہ مجموعی اعتبار سے زندگی کا سفر زیادہ بہتر طور پر جاری رہے، کم عمر والوں اور زیادہ عمر والوں کے درمیان جو فرق ہوتا ہے، وہی فرق آج بھی موجود ہے۔ فرق فطرت پر مبنی ہے، اور فطرت زمانے کی رفتار سے نہیں بدلتی۔ موجودہ زمانے کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بڑوں سے اُسی طرح فائدہ اٹھائیں، جس طرح پچھلے زمانے کے لوگ فائدہ اٹھاتے تھے۔ اگلی نسل کے لوگ اگر پچھلی نسل کے لوگوں سے فائدہ نہ اٹھائیں، تو یہ ان کے لیے فطرت کے نظام سے بغاو ت کے ہم معنی ہوگا، اور اس دنیا میں کوئی بھی شخص فطرت کے نظام سے بغاوت کرکے کامیاب نہیں ہو سکتا۔