Al-Risala · August 2008

Use of arms by agencies, other than state.

Al-Risala, August 2008, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر حکومتی افراد، یا تنظیموں کو صرف پر امن جدوجہد کا حق ہے، مسلح جدوجہد کا اُن کو حق نہیں۔ اس قسم کے مقررین اور مہررین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پُر جوش طور پر یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں، مگر یہ ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ اس معاملے میں لوگوں کا کہنا یہ نہیں ہے کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ کچھ مسلمان، اسلام کے نام پر وہ متشددانہ فعل کر رہے ہیں جس کو موجودہ زمانے میں دہشت گردی کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں اصل کام یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمانوں کو کنڈم (condemn) کیا جائے۔ کھلے طور پر یہ بتایا جائے کہ یہ لوگ اپنے متشددانہ عمل کے لیے غلط طور پر اسلام کا نام لے رہے ہیں۔ اس معاملے میں اصل کام، اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ہے، نہ کہ مسلمانوں کے بارے میں خاموش رہ کر یہ کہا جائے کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں۔ موجودہ صورت میں اس قسم کے بیان کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر کوئی ناخوش گوار صورت حال پائی جائے، تو ایسے وقت میں عمل کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، پر امن جدوجہد اور دوسرے، مسلح جدوجہد۔ اسلامی شریعت کے مطابق ،مسلح جدوجہد کا حق صرف قائم شدہ حکومت کو ہے، اور وہ بھی اُس وقت ہے، جب کہ کسی طاقت نے اٌس پر حملہ کر دیا ہو۔ تک غیر حکومتی عوام کی بات ہے، ان کے لیے ہتھیار اٹھانا کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ عوام کے لیے صرف پر امن جدوجہد ہے، نہ کہ مسلح جدوجہد۔

Printed page