شرک کی بے ثباتی
Al-Risala, September 2008, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
شرک کیا ہے۔ شرک یہ ہے کہ انسان، اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی انسان، اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بناتا ہے، تو وہ اپنے لیے نہایت بُرے بدل کا انتخاب کرتا ہے: بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلاً (الكهف : 50) (یعنی یہ کتنا زیادہ بُرا بدل ہے ظالموں کے لیے؛ How bad substitute they have chosen (18:50)
یہ آیت گویا کہ پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ انسان نے بار بار ایسا کیا ہے کہ اُس نے خدا کے سوا، کسی اور کو اپنے لیے معبود کا درجہ دیا۔ لیکن ہر بار یہ ثابت ہوا کہ انسان کا انتخاب (choice) نہایت بُرا انتخاب تھا۔ ایک اللہ کے سوا، کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کو اپنا معبود بنایا جائے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک انسان، نیچر کو معبود کا درجہ دیتا رہا۔ چناں چہ دنیا میں عمومی طور پر وہ نظام پرستش رائج ہوا جس کو فطرت پرستی (nature worship) کہا جاتا ہے۔ پہاڑ، دریا، سمندر اور دوسری چیزوں کے بارے میں انسان نے یہ فرض کر لیا کہ اُن کے اندر اُلوہیت (divinity) موجود ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر، نیچر کی ہر چیز انسان کے لیے قابلِ پرستش بن گئی۔ جدید سائنس کے زمانے میں نیچر کی ہر چیز کو تحقیق کا موضوع بنایا گیا، ہر چیز کا آزادانہ مطالعہ کیا اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ نیچر صرف نیچر ہے، اُس میں کسی بھی قسم کی الوہیت (divinity) موجود نہیں۔ اس دریافت کے بعد فطرت پرستی (nature worship) کا افسانہ ختم ہو گیا۔ نیچر نے معبود ہونے کی حیثیت کو کھو دیا۔
اس کے بعد موجودہ زمانے میں صنعتی تہذیب (industrial civilization) کا دور شروع اس جدید تہذیب سے انسان کو بہت سی ایسی چیزیں ملیں، جو اُس کو پہلے نہیں ملی تھیں۔ تہذیب کی اس کامیابی نے بہت سے لوگوں کو فریب میں مبتلا کر دیا۔ وہ یہ سمجھنے لگے کہ جدید صنعتی تہذیب، اُن کے لیے معبود کا بدل (substitute) ہے۔ جدید تہذیب سے لوگوں کو وہی تعلق قائم ہو گیا
جو معبود حقیقی کے ساتھ ہونا چاہیے ۔ لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ انسانی صنعت کا ایک بہت بڑا منفی پہلو ہے، وہ یہ کہ انسانی صنعت صرف تہذیب کو وجود میں نہیں لاتی، بلکہ وہ اسی کے ساتھ صنعتی کثافت (industrial pollution) بھی پیدا کرتی ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی میں یہ صنعتی کثافت اپنی اُس حد کو پہنچ گئی جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ جدید صنعت ہمارے لیے جو دنیا بنا رہی ہے، وہ ایک پر کثافت دنیا ہے، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں انسان جیسی کسی مخلوق کے لیے رہنا ہی ممکن نہیں۔
انسان یہ سمجھتا تھا کہ صنعتی تہذیب اْس کے لیے اسی دنیا کو جنت بنا دے گی، مگر معلوم ہوا کہ صنعتی تہذیب جو دنیا بنا رہی ہے، وہ اپنی آخری حد پر پہنچ کر انسان کے لیے ایک صنعتی جہنم (industrial hell) کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اس طرح، صنعتی تہذیب کا مفروضہ معبود بھی ایک باطل معبود ثابت ہوا۔
اب انسان نے ایک اور معبود تلاش کیا۔ یہ معبود انسان کی خود اپنی ذات، یا سیلف (self) یہ سمجھ لیا گیا کہ خود انسان کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جس کو وہ اپنے باہر تلاش کر رہا ہے۔ ذہن کے تحت، یہ فرض کر لیا گیا کہ انسانی وجود کا صرف ایک منفی پہلو ہے، اور وہ موت ہے۔ لوگوں کو یہ یقین ہو گیا کہ جدید میڈیکل سائنس یہ مسئلہ حل کر دے گی اور انسان ابدی طور پر اس دنیا میں جینے کے قابل ہو جائے گا۔ مگر میڈیکل سائنس بے شمار تحقیقات کے باوجود اس معاملے میں ناکام ہو گئی، جدید میڈیکل سائنس ، انسان کو ابدی زندگی (longevity) کا فارمولا نہ بتا سکی۔ چناں چہ یہ نظریہ معبودیت بھی بے بنیاد ثابت ہو کر ختم ہو گیا۔
اب انسانی علم اُس مقام پر پہنچا ہے، جہاں اس کے لیے صرف ایک انتخاب (choice) باقی رہ گیا ہے، اور وہ یہ کہ وہ حقیقت پسند بنے اور اللہ واحد کو اپنا معبود تسلیم کر کے اس کے آگے جھک اسی حقیقت پسندانہ اعتراف میں انسان کی دنیوی کامیابی کا راز بھی ہے اور اسی میں اس کی اُخروی کامیابی کا راز بھی۔