Al-Risala · September 2008

شکر ایک اعلیٰ عبادت

Al-Risala, September 2008, pp. 14–18

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر کیا ہے۔ شکر اُس داخلی کیفیت کا نام ہے جو کسی نعمت کے گہرے احساس سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو گریٹ فل نیس (gratefulness) کہا جاتا ہے۔ عربی زبان کے مشہور لغت لسان العرب کے مطابق ، شکر احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام ہے (الشکر : عرفان الإحسان ونشره ، 4/423)۔ راغب الاصفہانی کی کتاب المفردات فی غریب القرآن میں بتایا گیا ہے کہ شکر کا مطلب ہے ۔ نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا (الشکر : تصور النعمة وإظهارها، صفحہ: 265)۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ شکر نام ہے ۔ احسان کی معرفت کا اور اس کا چرچا کرنے کا (الشکر : معرفة الإحسان والتحدث به، 2/172)۔

نعمت کا اعتراف (acknowledgement) ایک اعلی انسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو، تو اسی کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے اپنی ایک دعا میں فرمایا: رَبِّ اجعلني لك شكاراً (الترمذی، کتاب الدعوات؛ ابن ماجة، كتاب الدعاء؛ مسند احمد، جلد 1، صفحہ: 227) یعنی اے میرے رب، تو مجھ کو اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا۔

قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے لوگو، خدا کے شکر گزار بندے بنو۔ انسان سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہی شکر ہے۔ شیطان کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔ آغاز حیات میں اُس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا: ولا تجد أكثرهم شاكرين : And you will not find most of them grateful (7:17). قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں

جو شکر کرنے والے ہیں: وقليل من عبادي الشكور (سبا: 13) ۔ شکر کا مطلب اگر یہ ہو کہ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا رہے، تو ایسے لوگ ہمیشہ بہت زیادہ رہے ہیں اور آج بھی وہ بہت زیادہ ایسے لوگ بے شمار ہیں جو اپنی گفتگو کے دوران بار بار الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے اور اللہ کا فضل ہے، جیسے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دنیا بظاہر شکر کرنے والوں سے بھری ہوئی ہے، پھر مذکورہ قرآنی بیان کا کیا مطلب ہے کہ لوگوں میں بہت کم ہیں جو شکر کرنے والے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ شکر کی دو قسمیں ہیں۔ لسانی شکر، اور قلبی شکر۔ لسانی شکر کو نابل شکر، اور قلبی شکر کو تھرلنگ (thrilling) شکر کہہ سکتے ہیں۔ خدا کی خدائی شان کے مطابق، شکر صرف وہ ہے جو تھرلنگ شکر ہو۔ نارمل شکر صرف ایک لپ سروس (lip-service) ہے۔ اس قسم کا شکر خدا کو مطلوب نہیں۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ خدا کے لیے انسان کا شکر ایک اضافہ پذیر شکر ہو۔ جو شکر ایک حالت پر قائم ہو جائے، وہ ایک جامد شکر ہے، اور جامد شکر وہ شکر نہیں جو خدا کے نزدیک مطلوب شکر کی حیثیت رکھتا ہے۔ تھرلنگ شکر صرف اُس شخص کو ملتا ہے جو خدا کے احسانات پر مسلسل غور کرتا رہے۔ انسان کے اوپر خدا کے احسانات لامحدود ہیں۔ اس لیے جو آدمی اس پہلو سے غور وفکر کرتا رہے، وہ ہر وقت ایک نئے خدائی احسان کو دریافت کرے گا، وہ ہر وقت ایک نئے سبب شکر کا تجربہ کرے گا۔ اس کے یہ تجربات کبھی ختم نہ ہوں گے، اس لیے اس کے اندر شکر خداوندی کا احساس بھی مسلسل طور پر زندہ رہے گا۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے سوچا کہ انسان کی قوت سماعت بھی کیسی عجیب ہے کہ اس کے کان میں بے شمار قسم کی آوازیں آتی ہیں۔ وہ ہر آواز کو متمیز (differentiate) کر کے اس کو الگ سے پہچان لیتا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنے ایک ہاتھ کو حرکت دی اور بات کرنے کے لیے رسیور کو اٹھایا۔ دوبارہ میں نے سوچا کہ میرے جسم میں بہت سے اعضا ہیں، لیکن میرے دماغ نے صرف ایک عضو (ہاتھ) کو متحرک کیا کہ وہ رسیور کو اٹھائے۔ اس عمل میں آنکھ کا بھی ایک حصہ تھا، کیوں کہ اگر آنکھ اپنا عمل نہ کرتی تو مجھے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ رسیور کہاں ہے۔ جب میں نے ٹیلی فون پر بات کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ٹیلی کی دوسری طرف جو آدمی ہے،

وہ انگریزی زبان میں بول رہا ہے۔ میں اس کی بات کو پوری طرح سمجھ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ میری مادری زبان اردو ہے، اور دوسرے شخص کی زبان انگریزی۔ میں کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہوں، جب کہ میں اس کو اردو الفاظ میں ڈھال لوں۔ میں نے سوچا کہ دماغ کیسی عجیب نعمت ہے۔ اپنے اندر یہ انوکھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ انگریزی الفاظ کو فی الفور (instantly) اردو میں ڈھال اور اس طرح متکلم کی بات کو بلا تاخیر میرے لیے قابلِ فہم بنا دے۔

اس طرح کی بہت سی باتیں اُس وقت میرے ذہن میں آتی رہیں۔ میں ایک طرف، دور کے ایک شخص سے ٹیلی فون پر بات کر رہا تھا اور دوسری طرف، عین اُسی وقت میں خدا کے بارے میں تھر لگ شکر کا تجربہ کر رہا تھا۔ یہ تجربہ اتنا زیادہ شدید تھا، جیسے کہ شکر کا ایک دریا میرے سینے میں جاری ہو گیا ہو۔ طرح ہر لمحہ انسان کو ایسے تجربات پیش آتے ہیں جن کے اندر شکر کا سمندر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اس اعلیٰ شکر تک آپ کی رسائی صرف غور و فکر کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی اعلیٰ شکر کا دروازہ ہے۔ جس آدمی کے اندر سوچ نہ ہو، اس کے اندر شکر بھی نہ ہوگا۔ ایسا آدمی ہر چیز کو فار گرانٹڈ (for granted) طور پر لیتا رہے گا۔ وہ شکر کے سمندر کے درمیان رہتے ہوئے بھی تھر لگ شکر کا تجربہ نہیں کرے گا۔ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ — اُن کے پاس آنکھ ہے، مگر وہ دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہے، مگر وہ سنتے نہیں، ان کے پاس دماغ ہے، مگر وہ سوچتے نہیں۔ بظاہر وہ انسان نظر آتے ہیں، مگر وہ حیوان ہیں، بلکہ حیوان سے بھی زیادہ بدتر (الأعراف: 197)۔

اصل یہ ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک، اس کا ابتدائی اور ظاہری پہلو۔ دوسرا، اس کا زیادہ گہرا پہلو۔ چیزوں کا ظاہری پہلو ہر آدمی کو کسی کوشش کے بغیر اپنے آپ دکھائی دیتا لیکن اس کا جو گہرا پہلو ہے، وہ صرف سوچنے کے بعد کسی کو سمجھ میں آتا ہے۔ اعلیٰ شکر کا تجربہ کرنے کے لیے آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ چیزوں کے گہرے پہلو پر غور کرے، تاکہ وہ ایک معمولی چیز کو غیر معمولی روپ میں دیکھ سکے:

It is the result of taking an ordinary thing, as an extraordinary thing.

ایک دن مجھے پیاس لگی۔ میرے سامنے میز پر شیشے کا ایک گلاس پانی سے بھرا ہوا رکھا تھا۔ نے اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اس کو دیکھ کر میرے دماغ میں ایک فکری طوفان برپا ہو گیا۔ پوری تاریخ میرے ذہن میں آگئی۔ میری زبان سے نکلا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے پانی جیسی نعمت انسان کو عطا کی۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک سپر شکر تھا، جس نے میری پوری شخصیت میں طوفان برپا کر دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ کئی ملین سال پہلے ایسا ہوا کہ دو گیسوں ، آکسیجن اور ہائڈروجن، کے ملنے سے پانی جیسی سیال چیز بنی۔ یہ پانی گہرے سمندروں میں ذخیرہ ہو گیا۔ اس کے بعد خدا نے تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر اس میں دس فی صد نمک ملا دیا۔ یہ پانی براہ راست طور پر انسان کے لیے نا قابل استعمال تھا۔ اس کے بعد خدا نے ایک عالمی نظام کے تحت ، پانی کو نمک سے الگ کرنے کے لیے، ازالہ نمک (desalination) کا ایک آفاقی عمل جاری کیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ سمندروں کا کھاری پانی، میٹھا پانی بن کر بارش کی صورت میں ہم کو حاصل ہو گیا۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تھر لنگ شکر کی توفیق کسی آدمی کو کس طرح حاصل اس کا واحد ذریعہ سوچ ہے۔ یہ دراصل سوچ ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ سپر شکر کا ہدیہ اپنے رب کے حضور پیش کرے ۔ سوچ کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں ہے جو آدمی کو اس اعلیٰ شکر کا تجربہ کرائے جو کہ خدا کو انسان سے مطلوب ہے۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: رب اجعلنی کوئی انسان ، شُکار یاہت زیادہ شکر کرنے والا کیسے بنتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی شکر کے کلمہ کو ہزاروں بار دہرائے، یا اور کوئی وظیفہ پڑھے۔ اس کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ غور و فکری مذکورہ دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، تو مجھ کور بانی غور وفکر کی توفیق دے، تا کہ میرے اندر اعلیٰ شکر کی کیفیات پیدا ہوں، جو کہ حقیقی معنوں میں کسی انسان کو خدا کا شکر گزار بندہ بناتی ہیں۔ آپ قرآن کا مطالعہ کریں، تو آپ پائیں گے کہ قرآن میں شکر کو صبر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں دنیا کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اِنّ فی ذلک لآیات لکُلِّ صَبّار شکور (لقمان : 31)

لعض سر سر من نظام نشان اس کی کُھل کُلاسکِ ادب کا یہ ایک شاندار نمونہ ہے۔

یعنی اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس انسان کے لیے جو بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے اس قسم کی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قانونِ الہی کے مطابق، اعلیٰ شکر کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو بہت زیادہ صبر کرتے ہوئے اس دنیا میں رہیں ۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس بنا پر یہاں مختلف قسم کی برائیاں (evils) پیدا ہوتی ہیں۔ یہ صورتِ حال خدا کے قانون کی بنا پر ہے، انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ معاملے میں انسان کو ایک ہی اختیار (option) حاصل ہے، وہ یہ کہ وہ صبر و برداشت سے کام لے، تا کہ وہ دنیا میں نارمل طریقے سے رہ سکے۔

شکر ایک ایسا جذبہ ہے جو صرف ایک ایسے مائنڈ میں پیدا ہوتا ہے جو کامل طور پر مثبت (positive) ہو، کسی بھی قسم کا منفی فکر (negative thought) اس کے ذہن میں موجود نہ ہو۔ مثبت ذہن کا آدمی ہی خدا کی توفیق سے اعلیٰ شکر ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ صبر دراصل شکر کی قیمت جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، وہ شکر جیسی اعلیٰ عبادت بھی انجام نہیں دے سکتا۔ ہے، بلکہ یہ یہ بات بھی سامنے ہے کہ

Printed page