پندرہ بلین سالہ منصوبہ
Al-Risala, September 2008, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنٹفک اکائونٹ کے مطابق، تقریباً پندرہ بلین سال پہلے، خالق کے حکم سے خلا (space) میں ایک بڑا کا سمک بال وجود میں آیا۔ اس میں وہ تمام اجزا (particles) موجود تھے جو آج ہماری کائنات کا حصہ ہیں۔ خالق کے حکم سے اس عظیم گولے میں ایک انفجار (explosion) ہوا۔ کو عام طور پر بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔
کا سمک بال میں انفجار کے بعد اُس کے تمام اجزا وسیع خلا میں پھیل گئے۔ اُس کے بعد خالق کے پلان کے مطابق، وہ مختلف صورتوں میں مجتمع ہونا شروع ہو گئے۔ ان ذرات کے اجتماع سے ان گنت ستارے بنے، کہکشائیں بنیں، ڈارک میٹر بنا، سور سٹم بنا، اِس طرح بتدریج وہ پوری دنیا وجود میں آئی جس کو ہم کائنات (universe) کہتے ہیں۔
اس کے بعد خالق نے سیارہ زمین (planet earth) کو اپنے خصوصی پلان کو بروئے کار لانے کے لیے منتخب کیا۔ لمبی مدت کے عمل کے بعد، سیارہ زمین ٹھنڈا ہوا۔ خالق کے حکم سے یہاں پانی بنا، بارشیں ہوئیں اور دریا اور سمندر وجود میں آئے۔ سیارہ زمین کا تقریباً تین چوتھائی حصہ پانی سے بھر اُس کے بعد خالق کے منصوبے کے مطابق، سیارہ زمین پر سبزہ اُگا اور زمین کی خشکی کا حصہ ہرے بھرے درختوں اور جنگلوں سے بھر گیا۔
اس کے بعد زمین پر خالق کے خصوصی پلان کے مطابق ، اس کا اگلا حصہ ظہور میں آیا، یعنی حیوانات کی دنیا وجود میں آئی۔ بے شمار قسم کے جانور، مچھلیاں، چڑیاں ، چوپائے اور طرح طرح کی ذی حیات اشیاء سے زمین بھر گئی۔
خالق کے منصوبے کے مطابق، اِس کا اگلا مرحلہ یہ تھا کہ یہاں انسان کو پیدا کر کے سیارہ زمین پر اس کو بسایا جائے۔ چناں چہ انسانِ اَوّل کے طور پر آدم اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا گیا۔ پھر اُس پہلے جوڑے سے انسانی نسل چلی، یہاں تک کہ زمین کے مختلف حصوں میں انسان کی آبادیاں قائم ہوگئیں۔
اس کے بعد خدا کے منصوبے کا ایک اور حصہ ظہور میں آیا۔ یہ پیغمبروں کا پیدا ہونا تھا۔ بسنے والے تمام انسانوں کے درمیان خالق نے اپنے پیغمبر بھیجے۔ یہ تمام پیغمبر، انسان تھے۔ ان کو خصوصی طور پر اس لیے بھیجا کہ وہ انسانوں کو ان کی قابل فہم (understandable) زبان میں یہ بتائیں کہ ان کے بارے میں خالق کا تخلیقی پلان (creation plan) کیا ہے۔
پیغمبروں کی آمد کا یہ سلسلہ لمبی مدت تک چلتا رہا۔ پہلے انسان، آدم خود بھی ایک پیغمبر تھے۔ کے بعد ہر نسل میں پیغمبر آتے رہے۔ مثلاً حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور آخر میں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
پیغمبروں کے ذریعے خدا نے ہر نسل کے انسانوں کو بتایا کہ موجودہ دنیا سلیکشن گراؤنڈ کے طور پر بنائی گئی ہے۔ انسان کی آباد کاری کی اصل اور ابدی جگہ تو جنت ہے۔ جنت ابدی بھی ہے اور ہر اعتبار سے آئیڈیل بھی۔ مگر جنت میں داخلہ صرف انتخابی بنیاد (selective basis) پر ہوگا۔ موجودہ دنیا میں خالق کی طرف سے غیر مرئی (invisible) ریکارڈنگ کا نظام عالمی پیمانے پر قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت، ہر عورت اور ہر مرد کے قول و عمل کا مسلسل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ریکارڈ قیامت کے دن سامنے آجائے گا۔ پھر لوگوں کے اعمال کے ریکارڈ کے مطابق، اُن افراد کو منتخب کیا جائے گا، جو اپنے عمل کے اعتبار سے جنت کی کامل دنیا میں بسائے جانے کے اہل ثابت ہوں بقیہ لوگوں کو چھانٹ کر انھیں کائنات کے کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا، تاکہ وہ ابدی طور پر محرومی اور حسرت کے عذاب کو بھگتے رہیں۔
خالق نے چاہا کہ وہ کچھ منتخب لوگوں کو اپنے اس خصوصی انعام سے نوازے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ہر قسم کی لذت اور مسرت کے ماحول میں ابدی طور پر آباد رہیں، اور اپنی ہستی کے کامل فل فل مینٹ (fulfilment) کا تجربہ کریں۔ یہ خالق کی خصوصی طور پر دی ہوئی ایک انوکھی رحمت ہوگی جو صرف منتخب قسم کے کچھ خوش قسمت لوگوں کے حصے میں آئے گی۔
خالق نے چاہا کہ وہ چمکار کے طور پر اس دنیا کو پیدا نہ کرے، بلکہ وہ پوری طرح اسباب و علل