ہر طرف بے خوفی
Al-Risala, September 2008, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانوں میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جو یہ مانتے ہوں کہ ان کی زندگی بس موت پر ختم ہو جائے گی ، موت کے بعد ان کو دوبارہ زندگی ملنے والی نہیں۔ لوگوں کی بھاری اکثریت تقریباً 99 فی صد یہ مانتی ہے کہ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، موت کے بعد بھی زندگی ہے جو کہ ابدی طور پر باقی رہے گی۔
اس عقیدے کے باوجود تقریباً تمام لوگ اگلے مرحلۂ حیات کے بارے میں بے خوف ہیں۔ بطور عقیدہ وہ اگلی زندگی کو مانتے ہیں، لیکن ان کی عملی زندگی میں اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ یہ بے خوفی اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں بہت کم کوئی استشنا پایا جا سکتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر ایک نے زندگی بعد موت کے تصور کے ساتھ بطور خود ایک اور عقیدہ اپنا رکھا ہے جو زندگی بعد موت کے تصور کو اس کے لیے ایک ایسا تصور بنا دیتا ہے جس کی حیثیت ایک رسمی عقیدے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ، زندگی بعد موت کے تصور کو مانتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ اُن کا یہ عقیدہ ہے کہ یہودی قوم، خدا کی خاص قوم ہے (المائدة: 18)۔ وہ سب کے سب بہر حال موت کے بعد جنت میں جائیں گے۔ یقینی نجات کے اس عقیدے نے یہودی لوگوں کو آخرت کے بارے میں بے خوف بنا دیا ہے۔
مسیحی مذہب کے ماننے والے لوگ بھی زندگی بعد موت کا عقیدہ رکھتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح، مصلوب ہو کر اُن کے گناہوں کا کفارہ بن چکے اب ہر مسیحی کی نجات یقینی ہے۔ اس عقیدے نے مسیحی لوگوں کو بھی آخرت کے بارے میں بے خوف بنا دیا ہے۔
یہی معاملہ اُن لوگوں کا ہے جو ہندو ازم، یا جین ازم، یا بدھ ازم کو مانتے ہیں۔ ان لوگوں کا عقیدہ
بھی یہی ہے کہ موت، انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت کے بعد بھی انسانی زندگی باقی رہتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ مذاہب مشترک طور پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان موت کے بعد بار بار اسی دنیا میں جنم لیتا رہتا ہے، کبھی انسان کی صورت میں، اور کبھی کسی غیر انسان کی صورت میں۔ مگر اس نئے جنم کے دوران انسان کا حافظہ پُراسرار طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوئی انسان اگر اپنے پہلے جنم میں خوب صحت مند ہو اور وہ برائیاں کرے، تو اگلے جنم میں وہ ناقص الاعضا (disabled) انسان کی صورت میں پیدا ہوگا۔ انسان کو یہ یاد نہیں ہوگا کہ وہ اپنے پچھلے کرم کی وجہ سے اس ناقص صورت میں پیدا ہوا۔ اس عدمِ حافظہ کی بنا پر اس کے اندر نہ ندامت (repentance) پیدا ہوتی ہے اور نہ اُس کے اندر محاسبہ (introspection) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ بدستور بے خبری میں جیتا ہے اور بے خبری میں مر جاتا ہے۔ اس معاملے میں ٹھیک یہی حال خود مسلمانوں کا بھی ہے۔ بظاہر تمام مسلمان، زندگی بعد موت کے تصور کو مانتے ہیں۔ وہ جنت اور جہنم پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، آخرت کے بارے میں بے خوف ہیں، اُن کو اپنے لیے جہنم کا کوئی اس کا سبب دوبارہ یہی ہے کہ انھوں نے بطور خدا ایسے فرضی عقیدے بنا لیے ہیں جس کے مطابق، اُنھیں اپنی نجات آخرت بالکل یقینی دکھائی دیتی ہے۔
مثلاً تمام مسلمان، شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ایک اسپیشل گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں، جو عورت یا مرد مسلم خاندان میں پیدا ہو جائے، اس کی جنت یقینی ہو جاتی ہے۔ یہ عقیدہ بلاشبہ ایک خود ساختہ عقیدہ ہے۔ اس کا قرآن اور حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر وہ اتنا زیادہ عام ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کے دماغوں میں بسا ہوا ہے، خواہ وہ مسلمان عالم ہو یا غیر عالم، وہ امیر ہو یا غریب، وہ خواص کے طبقے سے تعلق رکھتا ہو یا عوام کے طبقے سے، سب اس کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔ دوسری زندگی کا عقیدہ انسان کو برائی سے روکنے کے لیے ایک طاقت ور محرک کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن جب اس عقیدے کے ساتھ مذکورہ قسم کے خود ساختہ عقیدے شامل کر لیے جائیں تو اُس کے بعد دوسری زندگی کو ماننا عملاً ایسا ہی ہو جاتا ہے، جیسے کہ اس کو نہ ماننا۔