Al-Risala · September 2008

Nadal on the threshold of a landslide victory.

Al-Risala, September 2008, pp. 24–27

By Maulana Wahiduddin Khan

ان الفاظ کو سن کر میں نے سوچا کہ لوگ کتنی زیادہ بڑی بھول میں مبتلا ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عظیم کامیابی کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں، حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ندال سمیت پوری انسانیت آج قیامت کے دروازے پر کھڑی ہوئی ہے:

Nadal as well as whole humanity is on the threshold of Doomsday. قرآن کی سورہ نمبر 23 میں تمام انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے خداوند عالم نے فرمایا: تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے، اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے: Do you think that we created you without any purpose, and that you shall not be returned to Us. (23:115)

قرآن میں اس طرح کی مختلف آیتیں ہیں جن میں خدا کا کری ایشن پلان (creation plan) بتایا گیا ہے۔ اس کے مطابق، خدا نے ایک آئیڈیل دنیا بنائی جس کو جنت (paradise) کہا گیا ہے۔ یہ آئیڈیل دنیا ابدی ہے (البقرة: 25)۔ وہ خوف اور حزن سے خالی ہے (فاطر: 34)۔ انسان کے لیے کامل فل فل منٹ (fulfilment) کا سامان موجود ہے (حم السجدة: 31)۔ اس کے بعد خدا نے سیارۂ زمین کو بنایا اور پھر یہاں انسانی نسل کو آباد کیا۔ خدا نے انسان کو آزادی (freedom) عطا کی اور زمین پر بقاء حیات کے تمام اسباب فراہم کیے، جن کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، سیارۂ زمین کی حیثیت ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground) کی ہے۔ خدا کے فرشتے یہاں

رات دن انسان کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے اعلیٰ ریکارڈ کے مطابق، جنت کے مستحق ٹھہریں گے، اُن کو منتخب کر کے موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں بسایا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں گے۔

یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے:

بڑا با برکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے، اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے:

Glory is to God in whose hand is the kingdom, and He has power over all things; who created death and life, so He may test you, which of you is best in action. He is the mighty, the Most Forgiving. (67: 1-2). انسان اوّل (آدم) کے بعد بے شمار لوگ پیدا ہو کر زمین پر آباد ہوئے اور بدستور پیدا ہو کر آباد ہو رہے ہیں، مگر خدا کو صرف وہ عورت اور مرد مطلوب ہیں جو اُس کے تخلیقی پلان کے مطابق، احسن العمل (best in deed) ثابت ہوں۔

خدا کے اس تخلیقی پلان کے مطابق، انسان اگر چہ ابدی مخلوق (eternal being) کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، لیکن سیارہ زمین پر اس کو ابدی طور پر نہیں رہنا ہے، موجودہ سیارہ زمین اس کی عارضی قیام گاہ ہے۔ اسی عارضی مدت کے خاتمے کے دن کا نام قیامت (Doomsday) ہے۔ سیارہ زمین پر خدا نے وہ تمام اسباب اکٹھا کیے جو مذکورہ تخلیقی پلان کے مقصد کی نسبت سے ضروری تھے۔ ان اسباب کی حیثیت وہی ہے جو امتحان ہال (examination hall) میں موجود سامان کی ہوتی ہے۔ یہ سامان، امتحان کی ضرورت کے تحت، امتحان ہال میں اکٹھا کیے امتحان کے ختم ہوتے ہی ان کی مطلوبیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ طالب علم کو یہ اسباب صرف امتحان کے سامان کے طور پر دیے جاتے ہیں، نہ کہ ذاتی انعام کے طور پر۔ اس لیے امتحان

کے ختم ہوتے ہی طالب علم سے یہ تمام اسباب چھن جاتے ہیں۔

اس معاملے میں خدا کے تخلیقی پلان کا ایک اور پہلو وہ ہے جو قرآن کی سورہ نمبر 8 میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ليهلک من هلک عن بینة ويحيى من حيّ عن بينة (الأنفال: 42) یعنی جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ حجت کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندہ رہنا ہے، وہ حجت کے ساتھ زندہ رہے۔ اس قانون الہی کا ایک پہلو وہ ہے جو قیامت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت جب آئے گی تو وہ براہ راست خدائی فیصلے کے تحت آئے گی، لیکن انسانی معاملات میں خدا اپنا فیصلہ پر اسرار بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ اس طرح کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو پوری طرح معقول اور جائز (justified) حالات بتاتے ہیں کہ، قرآن کے الفاظ میں، آنے والی گھڑی بالکل قریب آچکی ہے، اور کوئی اس کو ٹالنے والا نہیں (النجم: 58-53)۔

اس معاملے کی پہلی علامت وہ تھی جس کو پری فائنل وارنگ (pre-final warning) کہا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کے ٹوٹنے کی صورت میں پیش آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، 1917 میں سوویت روس قائم ہوا۔ اس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ اس کو غیر معمولی توسیع و یہاں تک کہ 1957 میں سوویت روس نے پہلا راکٹ (Sputnik) خلا میں بھیجا، تو اس کو عالمی سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوگئی۔

لیکن سوویت یونین، یا کمیونسٹ ایمپائر کی آڈیالوجی میں آغاز ہی سے ایک ایسی چیز شامل تھی جو خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھی۔ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو لازمی طور پر آزادی انتخاب (freedom of choice) عطا کیا ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹیسٹ (امتحان) لیکن کمیونسٹ ایمپائر نے خود ساختہ نظریے کے تحت، اپنے علاقے میں مذہبی آزادی کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمی اس کے اندر خلاف قانون قرار پا گئی ۔ پر اینٹی ریلیجس ڈپارٹمنٹ قائم ہوا۔ اس کا کام یہ تھا کہ کمیونسٹ ایمپائر کے اندر وہ ہر قسم کی مذہبی سرگرمی کو کچل کر ختم کر دے۔

یہ بات واضح طور پر خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھی، اور اس قسم کی کوئی چیز خدا کے نزدیک قابل قبول نہیں ہو سکتی جو خدا کے تخلیقی پلان کی منسوخی کے ہم معنی ہو۔ چناں چہ سوویت یونین میں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ 1991ء میں سوویت یونین کا سیاسی محلِ تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر ختم ہو گیا۔ یہ گویا کہ مادی تہذیب کے فائنل خاتمہ سے پہلے دیا جانے والا ایک خدائی انتباہ (divine warning) لیکن اس کے بعد بھی انسان نے اس واقعے سے سبق نہیں لیا۔ اس کے بعد بھی اُس نے ایسی سرگرمیاں جاری رکھیں جو خدا کے تخلیقی پلان سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔

خدا نے اپنے تخلیق پلان کے مطابق، انسان کے لیے دو نہایت اہم چیزوں کا انتظام کیا ہے۔ ان میں سے ایک کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح دوسرے کو مارل سپورٹ سسٹم (moral support system) کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے برسوں میں انسان نے ان دونوں فطری نظاموں کو نا قابل تلافی حد تک تباہ کر دیا ہے اور اس طرح اُس نے اس کا جواز (justification) کھو دیا ہے کہ اس کو سیارہ زمین پر مزید باقی رکھا جائے۔ کیوں کہ انسان کو زمین کے فطری نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام کرنا تھا، اس کو یہ رائٹ نہیں تھا کہ وہ زمین کے فطری نظام کو تباہ کر ڈالے۔

Printed page