Wahiduddin Khan and Revival of Religious Thought
Al-Risala, January 2008, pp. 40–42
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلے میں انھوں نے ضروری مواد طلب کیا ہے جو اُن کو بھیجا جا رہا ہے۔
4- راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر وجے کمار نے 29 مئی 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلے سے تھا کہ تشدد کیوں کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اس سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ نوجوان اکثر نیوز میں آنے کے لیے تشدد کرتے ہیں۔ ان کو سمجھایا جائے کہ اس سے کوئی فائدہ ملنے والا نہیں، پڑھو اور ترقی کرو۔
5- ٹائمس ناؤ (Times Now) ٹی وی چینل (نئی دہلی) نے 30 مئی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوال یہ تھا کہ کشمیر کے ایک مفتی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ فوج کے ذریعے مسجد کی مرمت کرنا جائز جواب میں بتایا گیا کہ یہ ایک غلط فتویٰ ہے۔ یہ فتوے کا سیاسی استعمال ہے۔ فتویٰ ایک خالص دینی ادارہ ہے۔ اور کسی دینی ادارے کا سیاسی استعمال اسلام میں درست نہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاست کو دین سے الگ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔
6- ایرانی نیوز ایجنسی (نئی دہلی) کے نمائندے نے 30 مئی 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو سوال یہ تھا کہ خبر کے مطابق بمبئی میں ایک لاکھ ہر یجنوں نے بدھ ازم کو قبول کر لیا ہے۔ کیا اس کا سبب یہ تھا کہ اگر وہ اسلام قبول کرتے تو ان کو رعایات سے محروم ہونا پڑتا۔ جواب میں کہا گیا کہ ایسا نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر متشددانہ مذہب کی ہو گئی ہے، جب کہ بدھ ازم کی تصویر پرامن مذہب کی تصویر ہے۔ میں ہریجن لوگ فطری طور پر وہی انتخاب کر سکتے تھے جو انھوں نے کیا۔
7- بی بی سی لندن کے نمائندے مسٹر شکیل اختر نے 13 جون 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ان کا سوال یہ تھا کہ آج کل ایک رقص رائج ہو رہا ہے۔ اس میں رقصا یہ علی، یا علی کہہ کر اپنا فن دکھاتی اس کے بارے میں اسلام کا حکم کیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص یا علی استمداد کے طور پر بولتا ہے تو وہ اسلام میں جائز نہیں۔ لیکن اگر وہ ایک کلچرل شو کا حصہ ہو تو اس کو نظر انداز کیا جائے گا۔ 8- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 13 جون 2007 کو حسب معمول ایک سیمینار ہوا۔ اس سیمینار میں اسکولوں کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کے بنیادی انسانی اقدار (Basic Human Values in Islam) کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کا وقت آدھ اس کے بعد پندرہ منٹ سوال وجواب ہوا۔ سیمینار میں شریک ہونے والے یہ سب پرنسپل دہلی کے باہر سے آئے ہوئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کے مطابق سچائی کا ماخذ صرف وحی (revelation) دوسرا نظریہ یہ ہے کہ سچائی کا ماخذ خود آدمی کے اپنے اندر ہے، جیسا کہ ہندو لوگ مانتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک فلسفہ ہے، وہ اصل سوال کا جواب نہیں۔
9- راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر یا مین نے 20 جون 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو یہ انٹرویو اسلام میں نکاح کی حیثیت کے موضوع پر تھا۔ اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ اسلام میں نکاح کی حیثیت پر روشنی ڈالی گئی۔
10- نوئیڈا (Noida) میں ناگرک مہاسنگھ کے نام سے ایک تنظیم قائم ہے۔ اس کے صدرائروائس مارشل مسٹر و شوموہن تواری ہیں۔ اس تنظیم کی طرف سے یکم جولائی 2007 کو ایک جلسہ کیا گیا۔ اس جلسے میں تعلیم یافتہ ہندو شریک ہوئے۔ اس کا مقام نوئیڈا کا کیلاش ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ خطاب کا موضوع تھا: اسلام میں مساوات انسانی کا تصور۔ یہ جلسہ صرف صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ انھوں نے مذکورہ موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اس کے بعد آدھے گھنٹے تک سوال وجواب کا پروگرام اس موقع پر لوگوں کو سی پی ایس انٹرنیشنل کے دعوتی برو شر پڑھنے کے لیے دیئے گئے۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق کے ساتھ لیا اور اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔
11 - امریکا سے 16 ایجوکیٹرز (educators) کا ایک گروپ انڈیا آیا۔ گورنمنٹ آف انڈیا کے تعاون سے نئی دہلی کے فل برائٹ ہاؤس (ہیلی روڈ) کے ہال میں کئی سیمینار کیے گئے۔ اس میں انڈیا کے سینئر اسکالرس نے امریکی گروپ کو خطاب کیا۔ یکم جولائی 2007 کے سیشن کا عنوان یہ تھا: