Al-Risala · September 2008

لائف سپورٹ سسٹم

Al-Risala, September 2008, pp. 27–31

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا نے جب سیارہ زمین پر انسان کو بسایا، تو یہاں اُس نے وہ تمام مادی سامان مہیا کیے جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی اور بقا کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً ہوا، پانی، روشنی اور غذا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں ان انتظامات کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمین پر انسان کو اس کے خالق نے ایک محدود مدت کے لیے بسایا ہے، اس لیے یہ انتظامات محدود پیمانے پر کیے گیے ہیں۔ ان انتظامات کو لا محدود طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کے طور پر لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام، انسان کی فطری ضرورت (natural need) کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اب اگر انسان ایسا کرے کہ وہ ہوس پرستانہ تعیش (luxury) کے لیے لامحدود طور پر

اُن کو استعمال کرنے لگے، تو اس سے فطرت کا نظام غیر متوازن ہو جائے گا اور وہ چیز پیدا ہو جائے گی جس کو قرآن میں فساد (الأعراف : 85) کہا گیا ہے۔

موجودہ زمانے میں عملاً ایسا ہی پیش آیا ہے۔ انسان نے اپنی لامحدود خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اور تعیشات کا انبار اپنے گرد اکٹھا کرنے کے لیے بڑی بڑی صنعتیں قائم کیں۔ موٹر کاریں بنائیں، بے شمار قسم کے کنزیومر گڈس (consumer goods) تیار کیے، ہر چیز کوائز کنڈیشنڈ کرنے کی کوشش کی، ہتھیار کی صنعت (armament industry) کو چلانے کے لیے بڑے بڑے اسلحہ ساز کارخانے قائم کیے، وغیرہ۔ اس قسم کی چیزیں انسان کی ضرورت (need) نہ تھیں، وہ صرف اس کی ہوس (greed) کا تقاضا تھیں۔ اس انتخابی دنیا میں خدا کا نظام ضرورت کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، نہ کہ ہوس کی بنیاد پر۔ مگر اتباع ہوئی (الكھف : 28) کی وجہ سے یہ توازن ٹوٹ گیا۔ اس طرح انسان، فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ گیا۔ اس کا بھیانک نتیجہ ایئر پلوشن، واٹر پلوشن، نوائز پلوشن اور پلاسٹک پلوشن، وغیرہ کی صورت میں نکلا۔

یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں فساد فی الأرض (الأعراف : 85) کہا گیا ہے، یعنی فطرت میں قائم کردہ توازن (balance) کا ٹوٹ جانا۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے میں انسان، فطرت (nature) کو صرف بقدر ضرورت استعمال کرتا اس لیے دنیا میں فطری توازن کا نظام بگڑنے نہیں پایا۔ موجودہ صنعتی تہذیب کے زمانے میں انسان کو جدید طاقتوں پر دست رس حاصل ہوگئی۔ اب اُس نے لامحدود طور پر فطرت (nature) کا استعمال شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں فطرت کا توازن مختل ہو کر رہ گیا۔

انسان نے جو کارخانے بنائے، اُن میں ایسا ایندھن استعمال ہوتا تھا جس سے وہ سنگین مسئلہ پیدا ہوا جس کو کاربن ایمی্শন (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری فضا، مضر گیسوں سے بھر گئی۔ سمندر، خالص پانی کی فراہمی کا ذریعہ تھے، لیکن صنعتی کثافتیں جو ندیوں وغیرہ کے ذریعے بہہ کر سمندر میں پہنچیں، ان کے نتیجے میں یہ ناقابل حل مسئلہ پیدا ہوا کہ سمندروں میں پانی کا

عظیم ذخیرہ پنچانوے فی صد تک خطرناک طور پر آلودگی کا شکار ہو کر رہ گیا۔ حالات کی شدت کے نتیجے میں صحت بخش کیڑے مکوڑے (insects) روزانہ بہت بڑی تعداد میں مر کرختم ہو رہے ہیں، جن کا کوئی بھی بدل فراہم کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں۔

جدید صنعتوں ہی کے نتیجے میں وہ سپر پرابلم پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ کے سائنس داں متفقہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین کے اوپر لائف سپورٹ سسٹم میں جو خطر ناک بگاڑ آیا ہے، وہ ناقابل اصلاح (irreversible) ہے۔ تمام سائنس داں جدید سائنسی مشاہدات کی بنیاد پر یہ وارنگ دے رہے ہیں کہ میں سال کے اندر حالات اتنے زیادہ خراب ہو جائیں گے کہ سیارہ زمین، انسان جیسی کسی مخلوق کے لیے نا قابل رہائش (inhabitable) ہو جائے گا۔

موجودہ سیارہ زمین، انسان کو بقذر ضرورت استعمال کے لیے دیا گیا تھا، لیکن انسان نے تجاوز کر کے زمین کو بقذر تعیش استعمال کرنا چاہا۔ اس کے نتیجے میں انسان نے زمین پر اتنا زیادہ بگاڑ پیدا کر دیا کہ اُس نے زمین پر مزید رہنے کا جواز کھو دیا۔ بظاہر اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ انسان کو زمین سے بے دخل کر دیا جائے۔ اسی بے دخلی کے دن کا دوسرا نام قیامت ہے۔ مارل سپورٹ سسٹم خدا نے انسان کو فطرت صحیحہ (الروم: 30) پر پیدا کیا۔ اُس نے انسان کے اندر پیدائشی طور پر بُرائی اور بھلائی کی تمیز رکھ دی (الشمس: 8) پھر خدا نے انسان کے اندر ضمیر (conscience) رکھ دیا، جس کو قرآن میں نفس لوّامہ (القیامہ: 2) کہا گیا ہے۔ یہ نفسِ لوامہ، ہر انسان کے لیے ایک داخلی گائڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیتا رہتا ہے۔ یہ پورا نظام جو نفسیات کی سطح پر قائم کیا گیا ہے، وہ گویا کہ انسان کے لیے ایک قسم کا مارل سپورٹ سسٹم (moral support system) ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو درست رویے پر قائم رکھے، وہ انسان کو اخلاقی بگاڑ کی طرف جانے سے روکتا رہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے یہ سنگین جرم کیا کہ اُس نے خدا کے قائم کردہ اس مارل سپورٹ سسٹم کو

تباہ کر دیا۔ مغربی تہذیب کے فروغ کے بعد ایسے نظریے وضع کئے گئے جنھوں نے انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ نیچر کوئی چیز نہیں، سب کچھ صرف نرچر(nurture) پر منحصر ہے، یعنی یہ دراصل سماجی اثرات ہیں جو کسی انسان کی شخصیت کو بناتے ہیں۔ اس فلسفیانہ اسکول کو عام طور پر بیویرازم (Behaviourism) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے نے لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ربانی فطرت (divine nature) کوئی حقیقی چیز نہیں، وہ صرف ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) ہے: Behaviourism: The doctrine that valid data consists only of the observable and measurable in individual's responses, not valuing subjective or introspective accounts. اسی طرح وہ فلسفہ وضع کیا گیا جس کو افادی نظریہ (Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ نظریے نے افادیت پسندی کو وہ جگہ دے دی جو فطرت کے نظام کے تحت، اخلاقی اقدار (moral values) کو حاصل تھی۔ ذاتی مفاد نے زندگی میں وہ حیثیت اختیار کر لی جو اس سے پہلے اعلیٰ اصولی معیارات کو حاصل تھی۔ اس نظریے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: Utilitarianism: The doctrine that the greatest happiness of the greatest number should be the aim of all action. The doctrine that the worth, or value of anything is determined solely by its utility. اس نظریے نے ذاتی خوشی، یا ذاتی مفاد کو کسی شخص کی زندگی میں واحد قابل لحاظ چیز قرار دے اس نظریے کے مطابق، جس چیز سے آدمی کو خوشی ملے اور جس میں اس کو اپنا مادی فائدہ نظر آئے، وہ اس کو بلا تامل اختیار کر سکتا ہے۔ اس معاملے میں ضمیر، یا فطرت کی آواز کا لحاظ کرنے کی کوئی اس نظریے نے فطرت کے قائم کردہ مارل سپورٹ سسٹم کو زندگی کے معاملات میں اضافی (relative) قرار دے دیا۔ اس طرح، فطرت کا قائم کیا ہوا اخلاقی نظام عملاً غیر مؤثر ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح، مارل سپورٹ سسٹم کو غیر مؤثر بنانے میں سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا بہت بڑا دخل ہے۔ اس نے اپنے نظریات کے ذریعے انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ مطلق اخلاقی اقدار کا کوئی وجود نہیں۔ اُس نے بتایا کہ نفسیاتی پیچیدگیاں ابتدائی دور کے جذباتی صدمات

کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ وہ دبی ہوئی صنفی توانائی کا اظہار ہیں۔ فرائڈ نے اپنے اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کی تکنیک اور خواب کی صنفی تعبیر کا سہارا لیا، اس طرح اس نے بتایا کہ نفسیاتی مسائل، دبے ہوئے جذبات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اُس نے اس بات پر زور دیا کہ بعد کی زندگی میں شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری سے صنفی تعلقات قائم کیے جائیں:

...Symptoms were caused by early trauma, and were expressions of repressed sexual energy. Devised 'free association' technique and dream interpretation discover repressed experiences. Emphasized importance of infantile sexuality in personality's develpment in later life. مذکورہ قسم کے نظریات، انسان کے ہوس پرستانہ جذبات کے عین مطابق تھے۔ چناں چہ ان کو آج کی دنیا میں خوب پھیلاؤ حاصل ہوا۔ اسی کے نتیجے میں اباحیت پسند سوسائٹی (permissive society) اسی کے نتیجے میں’’آج‘‘، میں جینے کا نظریہ بنا، جس کو عام طور پر رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤ (right here, right now) کہا جاتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں برہنگی (nudity) ماڈرن کلچر کا حصہ بن ڈوز اینڈ ڈوٹس (do's and don'ts) کا قدیم نظریہ، لوگوں کو بے معنی نظر آنے لگا۔ سیکس جیسی چیزوں پر عائد رکاوٹیں ختم ہو گئیں۔ انسان کے مطالعے کے لیے حیوان کو معیار سمجھ لیا گیا۔ زندگی کا مقصد صرف یہ بن گیا کہ ـــــ کماؤ اور عیش کرو۔

پریس میں ایک واقعہ آیا ہے کہ مغربی دنیا کے ایک شخص نے سرجری کے ذریعے اپنی صنف وہ مرد کے بجائے عورت بن گیا۔ پھر اس نے مرد جوڑے سے تعلقات قائم کیے ۔ حمل قرار پایا۔ اس معاملے کو فخر کے ساتھ بتاتے ہوئے، اُس نے کہا کہ ـــــ عورت ہونا، یا مرد ہونا، یہ ہمارے اپنے انتخاب کی بات ہے:

Printed page