Sex is a matter of choice.
Al-Risala, September 2008, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ قول موجودہ زمانے کے انسان کی ترجمانی کرتا ہے۔ موجودہ زمانے کے انسان کی یہ سوچ بن گئی ہے کہ تمام اخلاقی قدریں اضافی (relative) ہیں، نہ کہ حقیقی (real)۔ کسی نے اعلان کے ساتھ
اور کسی نے اعلان کے بغیر یہ مان لیا ہے کہ نیکی اور بدی کا اصول کوئی ابدی اصول نہیں، نیکی اور بدی ہمارے اپنے انتخاب کی چیزیں ہیں:
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، خالق کے قائم کردہ مارل سپورٹ سسٹم کا رول، انسانی زندگی میں بہت زیادہ اہم تھا۔ وہ انسان کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی ایک داخلی ضمانت تھا۔ مارل سپورٹ سسٹم، خدا کے تخلیقی پلان کا ایک لازمی حصہ تھا، مگر انسان نے آزادی کے غلط استعمال کو اُس کی آخری حد تک خدا نے انسان کی زندگی میں مارل سپورٹ سسٹم کی صورت میں چیک اینڈ بیلنس (check and balance) کا نظام قائم کیا تھا، تاکہ انسان، خدا کے مطلوب معیار کے منم (minimum) پر قائم رہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں انسان اِس منہم حد پر قائم نہ رہ سکا۔ اِس طرح، اس نے یہ جواز (justification) کھو دیا کہ اس کو موجودہ زمین پر مزید مدت کے لیے باقی رکھا جائے۔ اخلاقی برائی کی آخری صورت قومِ لوط کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ یہ قوم بحرِ مردار (Dead Sea) کے علاقہ میں پیغمبر کے انذار کے باوجود وہ لوگ خدا کی پکڑ سے بے خوف ہو گئے۔ وہ بڑے پیمانے پر اُسی اخلاقی برائی میں مبتلا ہو گئے جس کو ہم جنسی (Homosexuality) کہا جاتا ہے۔ اِس زمانے میں یہ برائی صرف ایک اخلاقی برائی کی حیثیت رکھتی تھی، مگر آج یہ اخلاقی برائی ایک خوب صورت فلسفہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ دنیا بھر میں تیزی سے اس کا رواج بڑھ رہا ہے، حتی کہ بعض ملکوں میں ہم جنسی کے نکاح کو ایک قانونی نکاح کی حیثیت دے دی گئی ہے۔
نئی دہلی میں ہم جنس گروہ (gay community) بڑی تعداد میں موجود ہے۔ اِس قسم کے تقریباً ایک ہزار افراد نے 29 جون 2008 کو دہلی کی سڑکوں پر اپنا ایک پُر فخر پریڈ (pride parade) ان کا نعرہ تھا کہ ہم جنسی کو برا سمجھنا، یا اس کے خلاف قانون بنانا، یہ سوشل ڈس کری منیشن (social discrimination) ہے، اس کو بند ہونا چاہیے۔ یہ رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار
ٹائمز آف انڈیا (30 جون، 2008) میں حسب ذیل عنوان کے ساتھ چھپی ہے : Gay pride out on capital's streets, p. 3. حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مظاہرہ کے وقت لوگوں کی طرف سے کسی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ افراد نے شرم و حیا کو کھو دیا ہے، اور سماج میں اخلاقی ضمیر کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
یورپ اور امریکہ اور کینڈا میں یہ موضوع کھلے ڈسکشن کا موضوع بن چکا ہے۔ یونی ورسٹیوں میں اس موضوع پر باقاعدہ رسرچ ہو رہی ہے۔ رسرچ کرنے والے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہم جنسی کا رجحان خود نیچر کے اندر موجود ہے۔ اس معاملے میں وہ بعض چڑیوں اور بعض کیڑوں (insects) کی مثال دیتے ہیں۔ ان نام نہاد تحقیقات کے بارے میں کئی کتابیں چھپی ہیں۔ سے ایک کتاب یہ ہے: