Al-Risala · September 2008

Homosexuality: Nature or Nurture

Al-Risala, September 2008, pp. 33–36

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ صرف ایک مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی حقیقی رسرچ۔ انسان کے بارے میں سائنٹفک رسرچ وہ ہے جو خود انسان پر کی گئی ہو اور انسان کے حیاتیاتی نظام کے مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہو۔ مذکورہ رسرچ میں یہ کیا گیا ہے کہ بعض کیڑوں کا مطالعہ کیا گیا اور ان کیڑوں کی بعض عادات معلوم کر کے ان کو انسان کے اوپر چسپاں کر دیا گیا۔ یہ ایک قیاس مع الفارق ہے، اور اس قسم کا قیاس سائنسی طور پر معتبر نہیں۔ چار ہزار سال پہلے قوم لوط ٹھیک اسی عمل میں مبتلا ہوئی تھی۔ جب پیغمبرانہ انداز کے باوجود انھوں نے اپنی اس روش کو ترک نہیں کیا، تو اُن پر خدا کی طرف سے ہلاکت خیز عذاب بھیجا گیا۔ کے بعد ہمیشہ کے لیے اُس قوم کا خاتمہ ہو گیا۔ اب یہی عمل مزید اضافے کے ساتھ، ساری دنیا میں پھیل

قوم لوط کا بگاڑ صرف اخلاقی بگاڑ کے ہم معنی تھا، موجودہ زمانے میں یہ اخلاقی بُرائی فلسفیانہ جواز کے تحت کی جارہی ہے۔ اس طرح، موجودہ زمانے کی برائی، قدیم زمانے کی برائی کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ شنیع حیثیت رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ قدیم زمانے میں یہ برائی زمین کے صرف ایک محدود رقبے میں پائی جاتی تھی، آج یہ برائی پورے کُرو ارض میں پھیل گئی ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کو حدیث میں، قربِ قیامت کے آخری دور کی علامت کے طور پر، ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ويبقى شرار الناس، يتهارجون فيها تهارُج الحُمُر (صحیح مسلم، کتاب الفتن) یعنی اُس وقت صرف برے لوگ دنیا میں باقی رہیں گے جو گدھوں کی طرح بے حیائی کا فعل کریں گے۔ یہ صورت حال اپنے آپ میں اس بات کا ایک اعلان ہے کہ خدا کی پکڑ کا وقت بالکل قریب قومِ لوط کے زمانے میں، خدا کا عذاب ایک محدود قیامت کے طور پر آیا تھا، جس کو قرآن میں عذابِ ادنیٰ (السجدة: 21) کہا گیا ہے۔ اب یہ عذاب عالمی قیامت کے طور پر آنے والا ہے، جس کو قرآن میں عذابِ اکبر (السجدة: 21) کہا گیا تھا۔ قوم لوط نے محدود طور پر اپنے وجود کا جواز (justification) کھویا تھا، اب انسانیت نے عالمی سطح پر اپنے وجود کا جواز کھو دیا ہے۔ حالات پکار رہے ہیں کہ کاؤنٹ ڈاؤن اب اپنی آخری گنتی تک پہنچ چکا۔ قیامت کا فرشتہ اب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جاگنے والو، جاگو۔ دیکھنے والو، دیکھو۔ دماغ والو، سوچو۔ آج کا دن تمھارے لیے آخری دن ہے۔ اگر آج تم اپنے اختیار سے ہوش میں نہ آئے تو کل تم کو مجبورانہ طور پر ہوش میں آنا پڑے گا۔ مگر کل ہوش میں آنا، کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ موجودہ دنیا، انسان کو نہ انعام کے طور پر ملی ہے اور نہ کسی استحقاق کے طور پر۔ یہ دنیا خدا نے بنائی ہے، اور خدا نے یہ دنیا انسان کو صرف ایک مقصد کے تحت عطا کی ہے، اور وہ یہ کہ یہاں کے حالات میں رکھ کر یہ دیکھا جائے کہ انسانوں میں سے کون ہے جو مطلوب خدائی معیار پر پورا اترا، تا کہ اس کا انتخاب (selection) کرکے اُس کو ابدی طور پر جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے اور باقی لوگوں کو رد کر کے ان کو عالمی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے۔

آدم کی پیدائش کے بعد سے اب تک پورے سیارہ زمین پر یہی عمل جاری رہا ہے۔ میں انسان کی آباد کاری کا یہی واحد مقصد تھا، اس کے سوا دوسرا کوئی مقصد نہیں جس کے لیے انسان کو اس دنیا میں رہنے اور بسنے کا موقع دیا جائے۔

اب انسان کی تاریخ اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ چکی ہے، اور بظاہر حالات بتاتے ہیں کہ اب یہ مقصد آخری حد تک پورا ہو گیا ہے۔ اب انتخاب کا عمل اپنے نقطہ انتہا (culmination) کو پہنچ اب انتخاب کی اس فہرست میں مزید کسی اضافے کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ موجودہ زمانے میں جب فطرت کے خزانوں کا انکشاف ہوا، تو اس کے بعد یہ ہونا چاہیے تھا کہ انسان اور بھی زیادہ اضافے کے ساتھ خدا کا اعتراف کرے، انسان اور زیادہ خدا پرست بن کر خدا کی انتخابی فہرست میں نمایاں جگہ پائے، مگر نتیجہ برعکس صورت میں نکلا۔ انسان سرکشی کے راستے پر چل پڑا۔ اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے کے بجائے، وہ اپنے لیے خود اسی دنیا میں راحت اور عیش کا محل تعمیر کرنے میں مصروف ہو گیا۔ آج کی دنیا میں لوگوں کی سوچ کیا ہے، اُس کا اگر خلاصہ کیا جائے، تو وہ صرف ایک ہے— آج اور صرف آج (right here, right now) یعنی کل کو نظر انداز کر کے صرف آج میں جینا، اور آج کی دنیا میں خوشی اور راحت کی زندگی حاصل کرنا، کیوں کہ اس کے آگے کچھ اور نہیں۔ یہی آج کی دنیا میں ہر عورت اور مرد کا کلمہ ہے، خواہ اس نے لفظوں میں اس کا اعلان کیا ہو، یا اس نے لفظوں میں اس کا اعلان نہ کیا ہو۔ اس طرح، موجودہ زمانے میں پہلی بار مٹیریل ازم نے نظریاتی طور پر ایک مہرّ میٹریل ازم (ideologically justified materialism) کی صورت اختیار کر لی ہے۔ بلا شبہ بُرائی کا آخری درجہ ہے، اس کے آگے بُرائی کا کوئی اور درجہ نہیں ہو سکتا۔ یہ صورت حال سرا سر خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے اب اس کا حق کھو دیا ہے کہ اُس کو موجودہ زمین پر مزید بسنے اور آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔ کے الفاظ میں— کسان درانتی اٹھاتا ہے، کیوں کہ کاٹنے کا وقت آن پہنچا۔

بیسویں صدی عیسوی کے رُبع آخر میں خدا کے اس فیصلے کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں، اور

اکیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی ایسے آثار ظاہر ہونے لگے جو یہ بتاتے تھے کہ اب انسان کے لیے بالکل آخری وقت آ پہنچا ہے، اب اُس کو مزید مہلت ملنے والی نہیں۔ جون 2008 میں، جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، انسانی تاریخ کے خاتمہ کی یہ علامت ایک مسلمہ سائنسی واقعہ کی حیثیت اختیار کرکے روزانہ کی ایک خبر بن چکی ہے۔ آپ ہر دن میڈیا میں اس سے متعلق کوئی نہ کوئی خبر پاسکتے ہیں۔ یہاں اس نوعیت کی ایک تازہ سائنسی خبر درج کی جاتی ہے۔ امریکا کے مشہور سائنسی ادارہ ناسا (NASA) کے ممتاز سائنس داں جیمس ہانسن (James Hansen) نے بیس سال پہلے سائنسی مطالعے کے بعد گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے کا اعلان کیا تھا۔ اب انھوں نے مزید تحقیق کے بعد دوبارہ سائنسی مطالعے کے بعد گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے کا اعلان کیا ہے۔ اب انھوں نے مزید تحقیق کے بعد دوبارہ بتایا ہے کہ حالات اتنے زیادہ خراب ہو چکے ہیں کہ دنیا کے لیے واحد امید یہ ہے کہ ذمے داروں کی طرف سے نہایت سخت قسم کے انقلابی اقدامات کیے جائیں۔ دنیا بہت پہلے، خطرے کی حد کو پار کر چکی ہے۔ ضرورت ہے کہ مضر گیسوں کو 1988 کی حد پر دوبارہ واپس لے جایا زمین کی فضا میں انسانی ساخت کے کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ اگر مزید بیس سال تک یہ جاری رہے، تو سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ انسان کا وجود ہی سرے سے مٹ یہ ہمارے لیے بالکل آخری موقع ہے:

Printed page