Al-Risala · September 2008

بہتر مستقبل کی طرف

Al-Risala, September 2008, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا واقعہ ہے۔ انہوں نے ایک یونی ورسٹی سے فرسٹ کلاس کی ڈگری اس کے بعد اُن کو ایک اچھا جاب (job) ملا۔ وہ اس جاب پر خوش تھے، لیکن کچھ عرصے بعد اپنے باس (boss) سے ان کا اختلاف ہو گیا۔ اختلاف زیادہ بڑھا، یہاں تک کہ ان کو اپنا جاب چھوڑنا اس کے بعد اُن سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ بہت زیادہ مایوس اور پریشان تھے۔ میں نے اُن کو سمجھایا اور پھر اُن کی ڈائری پر یہ الفاظ لکھ دیے:

”کبھی مالی باغ کے ایک درخت کو اکھاڑتا ہے، صرف اس لیے تاکہ وہ اُس درخت کو دوسرے زیادہ بہتر مقام پر لگادے، جہاں وہ زیادہ بہتر طور پر پھل پھول سکے“(4 اکتوبر 1981)۔ کے بعد انھوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی، یہاں تک کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کامیاب ہو گئے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ یہ قانون خاموش زبان میں ہر چوبیس گھنٹے کے اندر انسان کو بتایا ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری دنیا میں ہر شام کے بعد دوبارہ صبح ہوتی ہے۔ ہر رات کے بعد دوبارہ دن کا اُجالا ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ یہ فطرت کی خاموش زبان ہے۔ اس طرح، فطرت انسان کو بتاتی ہے کہ اس دنیا میں ناکامی ہمیشہ ایک عارضی واقعہ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی آتی ہے، بشرط صرف یہ ہے کہ آدمی صبر کے ساتھ اُس کا انتظار کرے۔

انتظار کا مطلب بے عملی نہیں ہے۔ انتظار کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی جدوجہد کو مسلسل طور پر وہ ہر ناکامی کو وقتی چیز سمجھے، اور مستقبل کے بارے میں اپنی امید کو کبھی ختم نہ ہونے دے۔ وہ پیچھے کی باتوں کو بھلائے، اور ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا رہے۔ وہ جذباتی اقدام سے اپنے آپ کو بچائے، اور مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کرے۔ زندگی میں ہمیشہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی تجربات کی روشنی میں اپنے معاملے کا پھر سے اندازہ (re-assessment) کرے، وہ ازسرِ نو غور کر کے اپنے عمل کا نیا منصوبہ بنائے۔ یہی بہتر مستقبل کی طرف سفر کا واحد کارگر اصول ہے۔

سوال و جواب میں ماہ نامہ الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ آپ کبھی کبھی ایسا کرتے ہیں کہ قرآن کی کوئی آیت نقل کرتے ہیں۔ اس آیت کے ساتھ سورہ کا نام اور آیت کا نمبر موجود ہوتا ہے، لیکن اس کا ترجمہ موجود نہیں ہوتا۔ میں عربی زبان نہیں جانتا، اس لیے مجھ کو اس کا مطلب سمجھنے میں دقت پیش اگر آپ آیت کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ بھی لکھ دیں، تو ہمارے جیسے لوگوں کے لیے بہت اچھا ہوگا (ایک قاری الرسالہ، بہار)۔

عام طور پر الرساله میں آیت کا ترجمہ دیا جاتا ہے، مگر کبھی کبھی ترجمہ موجود نہیں ہوتا۔ کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کے قاری براہ راست طور پر قرآن سے مربوط ہوں۔ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں چھپا ہوا بترجمہ قرآن ہر گھر میں موجود رہتا ہے۔ اور اگر بالفرض کسی کے گھر میں با ترجمہ قرآن موجود نہ ہو تو اس کو پہلی فرصت میں با ترجمہ قرآن حاصل کر کے اپنے گھر میں ہمارا مقصد یہ ہے کہ جب بھی الرسالہ کا قاری ایسی کسی آیت کو الرسالہ میں پڑھے تو وہ قرآن کھول کر حوالہ کے ذریعے مذکورہ آیت نکالے اور اس کو پڑھ کر اس آیت کا ترجمہ معلوم کرے۔ اس طرح اُس کے مطالعہ کا تاثر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

قرآن کی حیثیت زندگی کے معاملات میں ایک ریفرنس بک (reference book) کی پرنٹنگ پریس سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ اکثر مسلمان قرآن کے حافظ ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا، تو وہ اپنے حافظے کی مدد سے قرآن کی اس آیت تک پہنچ جاتے اور اُس سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرتے۔ اب پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے اور با ترجمہ قرآن کے نسخے چھپے ہوئے ہر گھر میں اور بالفرض اگر کسی کے گھر میں با ترجمہ قرآن موجود نہ ہو تو بہت آسانی کے ساتھ وہ اس کو قریبی مارکیٹ سے حاصل کر سکتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کا ہر قاری قرآن کو اپنے لیے ایک

ریفرنس بک بنالے۔ جب بھی قرآن کی کوئی آیت اس کے سامنے آئے تو خواہ وہاں اس کا ترجمہ موجود ہو یا موجود نہ ہو، ہر حال میں وہ اس آیت کو اپنے یا ترجمہ قرآن میں براہ راست دیکھے۔ اس طرح اس کا تعلق قرآن سے بڑھے گا اور اس کے یقین میں اضافہ ہوگا۔

آپ جانتے ہیں کہ الرسالہ محض ایک ماہ نامہ پر چہ نہیں، وہ ایک دینی تحریک ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآنی خطوط پر لوگوں کی ذہنی تربیت کی جائے۔ یہ مقصد اس وقت پورا ہوتا ہے جب کہ آپ الرسالہ کو قرآن سے ملا کر پڑھیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی تفسیر تذکیر القرآن کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھیں۔ آپ تذکیر القرآن کا مطالعہ الگ سے بھی کریں اور الرسالہ کو پڑھتے ہوئے بھی جہاں کوئی آیت آئے تو اس کو کبھی تذکیر القرآن سے ملا کر دیکھیں۔ آپ کے مطالعہ کی دینی افادیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

الرسالہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ وقت گزاری کے طور پر اس کو پڑھ لیا جائے۔ الرسالہ ایک تحریک الرسالہ کی اس تحریکِی نوعیت کا تقاضا ہے کہ اس کو باقاعدہ اور منظم مطالعے کے انداز میں پڑھا الرسالہ کے مطالعے کو مکمل ذہنی سرگرمی کا ذریعہ بنا دیا جائے۔

مجھے کئی بار یہ تجربہ ہوا ہے کہ ایک شخص مجھ سے مل جاتے۔ وہ چند گھنٹے میرے ساتھ گزارے گا، پھر جاتے ہوئے وہ کہے گا کہ میں برسوں سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی کتابیں پڑھ رہا تھا اور اس سے متاثر تھا، لیکن چند گھنٹہ آپ کی صحبت میں بیٹھنے سے جو فائدہ ہوا، وہ برسوں تک الرسالہ اور کتابیں پڑھنے سے نہیں ہوا تھا۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگ ماہ نامہ الرسالہ کو صرف انٹرسٹ ریڈنگ (interest reading) کے لیے پڑھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ جب اُن سے پوچھا جائے کہ آپ الرسالہ کیوں پڑھتے ہیں، تو وہ کہیں گے کہ اُس میں نئی نئی معلومات ہوتی ہیں۔ اس کا اسلوب منفرد ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے نتائج نکالے جاتے ہیں، جو لوگ اس قسم کی بات کہتے ہیں، وہ ابھی تک صحیح معنوں میں الرسالہ کے قاری نہیں بنے۔ وجہ ہے کہ ان کو صحبت سے جو چیز ملتی ہے، وہ ان کو الرسالہ کے مطالعے سے نہیں ملتی۔

الرسالہ کے مطالعے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو کئی بار پڑھا جائے۔ اگر ممکن ہو تو اس کے حوالوں کو دوبارہ اصل کتاب میں دیکھا جائے۔ الرسالہ کے مضامین علمی انداز میں باہم مذاکرہ کیا جائے۔ غور و فکر کے ذریعے سطور کے درمیان اس کے بین السطور کو جاننے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ اس طرح الرسالہ کا مطالعہ کریں، ان کے لیے الرسالہ کا مطالعہ، ایک زندہ مطالعہ بن جائے گا۔ جو چیز انھوں نے ’’صحبت‘‘ کے ذریعے پائی تھی، وہ اس کو الرسالہ کے مطالعے کے دوران پالیں گے۔ میرے پاس 1986 سے الرسالہ کی ایجنسی ہے۔ میں الرسالہ مشن کا ایک خادم ہوں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے الرسالہ کا ہدیہ نہیں بڑھ رہا ہے، جب کہ کا غذ روز بروز اونچی کوالٹی میں آرہا ہے، پھر طلبا اور ٹیچر وغیرہ کو سالانہ 50 روپے میں الرسالہ کس طرح دے رہے ہیں۔ اسی طرح مطبوعات الرسالہ، لائبریریوں اور مساجد کے لیے 50 فی صد سے زائد کمیشن پر کس طرح سے دے رہے ہیں۔ یہاں بعض لوگ اس سلسلے میں طرح طرح کے اشکالات اٹھا رہے ہیں (ایک قاری الرسالہ، مہاراشٹر)۔

جو سوال آپ نے نقل کیا ہے، وہ کوئی سوال نہیں ۔ یہ صرف غیر سنجیدہ ذہن سے نکلی ہوئی ایک الرسالہ کی قیمت کم کرنے کے بجائے، اگر ایسا کیا جاتا کہ اس کا زِیر تعاون بڑھا دیا جاتا، تب بھی غیر سنجیدہ لوگ چپ نہیں ہو سکتے تھے۔ اب وہ کہتے کہ دیکھو، الرسالہ والے دین کو تجارت بنا رہے انھوں نے دیکھا کہ الرسالہ، لوگوں میں بہت مقبول ہو رہا ہے تو انھوں نے اس کا زیر تعاون بڑھا حقیقت یہ ہے کہ ایک غیر سنجیدہ انسان کو کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر دلیل کے بعد وہ کچھ ایسے الفاظ پالے گا جس کو بول کر وہ بطور خود مطمئن ہو جائے، اور سچائی کا اعتراف نہ کرے۔ لوگوں سے الجھنے کے بجائے، ان سے اعراض کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

Printed page