Al-Risala · January 2008

Tolerant India: Multi-Religious Pragmatic Views

Al-Risala, January 2008, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو خطاب کرنے کی دعوت دی گئی ۔ انھوں نے اس میں شرکت کی۔ اور ”ٹالرنس کی اہمیت اسلام میں‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ آخر میں سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں 16 امریکی اسکالرس کے علاوہ، مختلف مذاہب کے دوسرے تعلیم یافتہ افراد بھی شریک تھے۔ اس موقع پر انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر اور بروشر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا گیا۔

12- اسٹارنیوز (نئی دہلی) کے نمائندے نے 4 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو وقف زمین کی خریداری سے متعلق تھا۔ سوالات کے دوران تفصیل سے اس کا جواب دیا گیا اور بتایا گیا کہ اسلام میں اوقاف کے مسئلے کی نوعیت کیا ہے۔

13- ٹائمس ناؤ (Times Now) ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 5 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا سوالات کا تعلق اس واقعے سے تھا کہ گلاسگو میں دو مسلمانوں نے کار میں بم رکھ کر ایک بلڈنگ سے ٹکرانا چاہا، لیکن ان کا بم پہلے ہی پھٹ گیا، اور بلڈنگ کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کی متشددانہ کارروائی بلاشبہ اسلام میں حرام ہے۔ اسلام میں ہتھیار کا استعمال صرف اسٹیٹ کے لیے جائز ہے، اور اسٹیٹ بھی معصوم لوگوں کے اوپر تشدد نہیں کرسکتی۔

14- نئی دہلی کے این ڈی ٹی وی (ND TV) کی ٹیم نے 5 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک یہ انٹرویو اس واقعے پر تھا کہ انڈیا کے دو مسلم ڈاکٹر جو کہ گلاسگو اور آسٹریلیا میں رہتے ہیں، انھوں نے گلاسگو کے ائیرپورٹ پر نا کام بم دھماکا کرنے کی کوشش کی۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ یہ کارروائی ہر اعتبار سے غیر اسلامی ان لوگوں کو اس پر غصہ تھا کہ سلمان رشدی کو برطانیہ نے سر کا خطاب کیوں دیا، مگر اس بات کو لے کر بم دھماکا کرنا، بلاشبہ حرام تھا۔ ان لوگوں کو اگر اس پر ناراضگی تھی تو وہ وہاں سے اپنا جاب چھوڑ کر اپنے وطن واپس آجاتے، یا اس موضوع پر پریس میں بیان دیتے۔ اس کے سوا کچھ اور کرنا، ان کے لیے جائز نہیں تھا۔

15- بی بی سی کے نمائندے مسٹر محبوب خان نے 9 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو سوالات کا تعلق، مسلمانان ہند کے حالات اور ان کے مسائل سے تھا۔ اس موضوع پر ہر اعتبار سے تفصیلی سوال و جواب ہوا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستانی مسلمان مظلومیت کا کیس نہیں ہیں، وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بہت بہتر حالت میں ہیں، معاشی، مذہبی اور دوسرے ہر اعتبار سے۔ میں نظام الدین ویسٹ کا لونی

(نئی دہلی) میں 1983 سے رہتا ہوں۔ اُس وقت یہاں صرف تھوڑے مسلمان تھے۔ اب یہاں تھوڑے ہندو ہیں۔ اور یہاں کے مکانات زیادہ تر مسلمانوں کے پاس ہیں۔ یہاں ہر وقت مسلمانوں کی کاریں دوڑتی رہتی ہیں۔ چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ 16- بی بی سی لندن کی نمائندہ مخدویچہ عارف نے 12 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو ٹیلی فون پر لیا گیا۔ اُن کے سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام آباد (پاکستان) کی لال مسجد سے تھا۔ مسجد کے اندر بڑی تعداد میں مسلح لوگ داخل ہو گئے ۔ انھوں نے مسجد کے اندر گن اور گولابارود اکٹھا کر لیا۔ مسجد کے اندر سے وہ اپنی مسلح تحریک چلانے لگے۔ حکومتِ پاکستان نے اس کے خلاف آپریشن سائلنس (operation silence) کے نام سے فوجی کارروائی کی۔ اس میں کافی لوگ مارے گئے۔ آخر کار 11 جولائی 2007 کو فوج نے مسجد کو خالی کرا لیا۔ سوالات کے دوران اس سلسلے میں بتایا گیا کہ اس معاملے میں حکومتِ پاکستان کی کوئی غلطی نہیں۔ اس میں ساری غلطی مسلح دراندازوں کی ہے۔ مسجد تقویٰ کا مرکز ہے۔ مسجد کے اندر مسلح محاذ بنانا جائز نہیں۔ اس آپریشن میں جو لوگ مارے گئے، اس کی ذمے داری تمام تر مسلح دراندازوں پر ہے۔

17- اٹلی (روم) میں نوائے(Noale) کے مقام پر ایک سنٹر قائم ہے۔ اس کا نام یہ ہے:

Printed page