Al-Risala · January 2008

Cultural Association Armonia

Al-Risala, January 2008, pp. 43–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سنٹر کے صدر مسٹر رابرٹو (Roberto Carraro) ہیں۔ اس سنٹر کے تحت، 13 تا 16 جولائی 2007 کو ورلڈ وائڈ میں کانفرنس ہوئی۔ اس کا مقام اٹلی کا شہر وینس (Venice) تھا۔ اس کا نفرنس کی تھیم یہ تھی: From Hope to Peace صدر اسلامی مرکز کو اس کانفرنس میں خصوصیت کے ساتھ شرکت کی دعوت دی گئی۔ لیکن بعض وجوہ سے وہ اس میں شرکت نہ کر سکے۔ البتہ کا نفرنس کے موضوع سے متعلق، اسلامی مرکز کی طرف سے چھپا ہوا میٹریل ان کو بھیج دیا گیا۔ 18- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 25 جولائی 2007 کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں گورنمنٹ اسکولوں کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور’’ اسلام کی بنیادی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن جب ایک خدا کی کتاب ہے تو اس کی تفسیر میں مختلف رائے کیوں ہوں۔ جواب میں بتایا گیا کہ انٹرمینٹیشن کا اختلاف ایک فطری چیز ہے، وہ ہر جگہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بھاگوت گیتا ایک کتاب ہے، لیکن اس کی کمیٹری تلک نے الگ ڈھنگ سے لکھی ہے اور گاندھی نے الگ ڈھنگ سے۔ آخر میں لوگوں کے درمیان دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بہت دل چسپی کے ساتھ لیا۔

19- پنچوتی یوگ آشرم اینڈ نیچر کیوسینٹر کی طرف سے 28 جولائی 2007 کو لوک کلامپ ہال (لودھی روڈ، نئی دہلی)

میں ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا عنوان یہ تھا:

International Inter-Faith Conference 'Religion, Drug and Substance Abuse' اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس کانفرنس میں شرکت کی، اور مذکورہ موضوع پر قرآن اور حدیث کی روشنی میں آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ سی پی ایس ٹیم کے لوگ بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ انھوں نے حاضرین کے درمیان انگریزی میں چھپے ہوئے دعوت بگ لٹس تقسیم کیے۔ لوگوں نے اس کو شوق سے لیا اور اُس سے اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔ 20- اٹلی کی ایک روحانی تنظیم کے فاؤنڈر چیئرمین ماریو (Mario Ahombari) 2 اگست 2007 کو اپنے 14 ساتھیوں کے ہم راہ اسلامی مرکز میں آئے۔ انھوں نے روحانی موضوعات پر بات کی۔ ان کی درخواست پر صدر اسلامی مرکز نے آدھ گھنٹہ خطاب کیا، اور آخر میں اُن کے سوالات کا جواب دیا۔ اس دوران اسلامی عبادت کو عملی طور پر بتانے کے لیے صدرِ اسلامی مرکز نے اُن کے سامنے ایک رکعت نماز پڑھی۔ وہ اس سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے کہا کہ سورہ الفاتحہ اور نماز کے سجدے کو ہم بھی اپنی عبادت میں شامل کریں گے۔ 21- این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی نمائندہ مرسواتھھی مہیش وری نے 3 اگست 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، الرسالہ کے بارے میں کشمیر کے ایک فتوے سے تھا۔ جوابات کے دوران معاملے کی وضاحت کی گئی۔

22- این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 4 اگست 2007 کو صدرِ اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو لیا۔ انٹرویو مرسواتھھی مہیش وری (Swathi Maheshwari) تھیں۔ سوال و جواب کا تعلق، ماہ نامہ الرسالہ جون 2007 میں چھپنے والے ایک مضمون (مسیحی ماڈل کی آمد ثانی) پر کشمیر کے کچھ لوگوں کے منفی ردِ عمل سے تھا۔ میں بتایا گیا کہ اس مضمون میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں ہے، وہ علماء کے مسلک سے الگ نہیں۔ کشمیر یوں کا ردِ عمل صرف ان کی غلط فہمی پر مبنی ہے۔

23- 5 اگست 2007 کو صدر اسلامی مرکز نے ایک کشمیری اجتماع کو خطاب کیا۔ یہ خطاب ٹیلی فون پر تھا، یعنی تقریر دہلی میں کی گئی اور ٹیلی فون کے ذریعے اُس کوسری نگر میں اکٹھا ہونے والے کشمیری مسلمانوں نے سنا۔ اس خطاب کو بہت پسند کیا۔ اس تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں ہے، بلکہ حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے اپنی تعمیر کے لیے مثبت کوشش کرنے میں ہے۔

24- ہندی روزنامہ نئی دنیا (نئی دہلی) نے 8 اگست 2007 کو صدرِ اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو ر کا نام مزونند نا اگروال تھا۔ انٹرویو کا موضوع تھا اسلام اور آتنک واد۔ جوابات کے دوران تفصیل سے بتایا گیا کہ اسلام کا آتنک واد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اسلام کے نام پر کچھ مسلمانوں کا فعل ہے، مگر اسلام کی تعلیمات سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔

25- گڈ ورڈ بکس اور سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کی طرف سے ایک دعوتی پروگرام ہوا۔ 11 اگست 2007 کی شام کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے لکچر ہال میں کیا گیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس میں ایک مفصل تقریر کی۔ تقریر کا عنوان یہ تھا:

Printed page