روزہ کی عظمت
Al-Risala, October 2008, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کے بارے میں فرمایا: كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مأة ضعف، قال الله تعالى: إلا الصوم، فإنه لي وأنا أجزي به، يدع شهوته وطعامه من أجلي، للصائم فرحتان: فرحة عند فطره، و فرحة عند لقاء ربه، و لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك، والصيام جُنة، و إذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث و لايصخب، فإن سابه أحد أو قاتله فليقل: إنى امرؤ صائم (صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب: فضل الصيام)۔
انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مگر روزہ، پس وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لئے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ سے نکلنے والی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ بدگوئی کرے اور نہ جھگڑا کرے ۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔
یہ روایت صحیحین میں اور حدیث کی دوسری کتابوں میں آئی ہے۔ اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ روزہ اللہ کے لئے ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے (البقرۃ: 185)۔ مطابق، نزولِ قرآن کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ لوگ خصوصی تربیت کے
ذریعہ اپنے آپ کو تیار کریں کہ وہ قرآن کے حامل اور مبلغ بن سکیں ۔
قرآن کو تمام لوگوں تک پہنچانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے ایسے انسان درکار ہیں جو اپنی ذات کے لئے جینے والے نہ ہوں، بلکہ وہ تمام تر اللہ کے لیے جینے والے ہوں ۔ جن میں یہ حوصلہ ہو کہ وہ یک ربانی مشن کے لئے اپنی خواہشات پر روک لگا دیں۔ جو پر رونق زندگی کے بجائے خشک زندگی پر راضی ہو جائیں ۔ جن کے اندر یہ برداشت ہو کہ وہ لوگوں کی منفی باتوں کا بھی مثبت جواب دے سکیں ۔ جو شعوری اعتبار سے اتنا بلند ہوں کہ لوگوں کی مخالفتیں ان کو قرآنی مشن سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔
قرآن کے پیغام ہدایت کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچانا خالص اللہ کا کام ہے ۔ اس میں کسی قسم کا کوئی دنیوی فائدہ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کو صرف اپنا کام قرار دیا اور اس پر خصوصی انعام کا اعلان فرمایا۔
جو لوگ قرآن کا علم حاصل کریں، وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کریں ، وہ قرآن کے پیغام کو لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے میں اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالیں ، جو ایک طرفہ طور پر اس ذمہ داری کو قبول کریں کہ انھیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرنا ہے، تا کہ اللہ کا پیغام لوگوں کے لیے قابل قبول ہو سکے، حتیٰ کہ اس مقصد کے لیے وہ بھوک اور پیاس کی مشقت برداشت کرنے کے لیے راضی ہو جائیں ــــــــ ایسے لوگ اللہ کے خاص بندے ہیں ، وہ اس کے مستحق ہیں کہ اللہ ان پر اپنی خصوصی نوازشوں کی بارش کرے ۔
روزے دار کا اللہ کے لیے اپنی خواہشوں کو چھوڑنا یہ ہے کہ وہ ذاتی کامیابی کے بجائے اللہ کے دعوتی مشن کو اپنا مقصد بنائے ۔ وہ خدا کی کتاب کے نزول کے مہینہ میں خصوصی تربیتی کورس کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرے کہ وہ خدا کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچائے گا ۔ وہ قرآن کی دعوت وتبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنائے گا ، نہ کہ ذاتی مفاد کے حصول کو ۔ اس کی زندگی کا مرکز ومحور قرآن ہوگا اور صرف قرآن ۔