Ignorance of law has no excuse.
Al-Risala, October 2008, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر کیا وجہ ہے کہ حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ سبب یہ ہے کہ روزہ کوئی ٹیکنکل نوعیت کا قانونی فعل نہیں، روزہ ایک زندہ انسان کا عمل ہے۔ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً اُس کے اندر ایک نئی سوچ جاگ اُٹھتی یہ نئی سوچ اس کی بھول کو ایک مثبت عمل بنا دیتی ہے۔ وہ اس بھول میں اپنے عجز اور خدا کی قدرت کو دریافت کر لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ انسان کتنا زیادہ کم زور ہے، اُس کے مقابلے میں خدا کتنا زیادہ قوی اور عزیز ہے کہ وہ کبھی کسی چیز کو نہیں بھولتا (لا يَضِلُّ رَبّي ولا ينسى)۔ دریافت ایک زندہ انسان کو خدا سے اور زیادہ قریب کر دیتی ہے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ جو غلطی ، معرفت میں اضافے کا سبب بن جائے، وہ غلطی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک زندہ ربانی تجربہ ہے۔