فارم اور اسپرٹ کا فرق
Al-Risala, October 2008, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 2 میں رمضان کے مہینے میں روزے کا حکم ایک پورے رکوع میں بیان ہوا اس میں روزے کے بارے میں دو قسم کی رخصتوں کا ذکر ہے۔ ایک رخصت (concession) مستقل رخصت ہے جو ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: وعلی الذین یطیقونه فدیة طعام مسکین (البقرہ: 184) یعنی جو لوگ اُسے مشکل ہی سے برداشت کر سکیں ، اُن کے ذمے فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا (ترجمہ : مولانا عبد الماجد دریابادی)۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذر شرعی کی بنیاد پر مستقل طور پر روزہ رکھنے کے قابل نہ رہیں، ایسے لوگوں کے لیے شریعت میں یہ رخصت ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھیں اور روزہ کے بجائے اُس کے کفارہ کے طور پر اُس کا فدیہ ادا کریں۔ رخصت کی دوسری صورت، قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: ومن كان مريضاً أو علی سفر فعدة من أيام أخر (البقرہ: (185) یعنی جو کوئی بیمار ہو، یا سفر میں ہو تو اُس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دنوں میں۔ یہ عارضی رخصت کا معاملہ ہے، یعنی آدمی روزہ رکھنے کے قابل ہو اور وقتی طور پر اُس کو عذر شرعی لاحق ہو جائے ، تو وہ عذر کے بقدر روزہ چھوڑ دے اور رمضان کے بعد اپنے چھوٹے ہوئے روزے کو دوبارہ پورا کرلے۔
ان دو رخصتوں کے بیان کے بعد قرآن میں یہ آیت آئی ہے: يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العُسر، ولتكملوا العدة ولتكبروا الله على ما هداكم، ولعلكم تشكرون (البقرہ: (185) یعنی اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے، وہ تم پر دشواری نہیں چاہتا، اور چاہتا ہے کہ تم تعداد پوری کرو اور تا کہ تم بڑائی کرو اللہ کی ، اس بات پر کہ اُس نے تم کو ہدایت دی اور تا کہ تم اُس کا شکر ادا کرو۔ قرآن کی ان آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی احکام کے دو حصے ہیں۔ وہ ہے جو متعلقہ حکم کے فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزے کا فارم یہ ہے کہ آدمی دن کے اوقات میں کھانا، پینا اور دوسری ممنوعات کو ترک کردے۔ روزے کی اسپرٹ تکبیر اور شکر ہے، یعنی آدمی کے اندر
اللہ کی کبریائی کا احساس طاری ہونا، اور اللہ کے انعامات پر گہرے شکر کا جذبہ پیدا ہونا۔ مذکورہ آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں فارم اور اسپرٹ کے درمیان فرق کیا اس فرق کو مذکورہ آیت میں 'عُسر' اور 'یُسر' کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ کے فارم کو مطلق حیثیت دے کر، اُس کو ہر حال میں لازم کر دیا جائے تو یہ اہل ایمان کے لیے عُسر (دشواری) کا باعث ہو جائے گا، اس لیے فارم کے معاملے میں عسر کے بجائے، یُسر (آسانی) کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، یعنی رخصت کا طریقہ۔
مگر جہاں تک دینی احکام کے دوسرے پہلو، یعنی اسپرٹ کا معاملہ ہے، اُس میں کسی قسم کی رخصت نہیں، اسپرٹ کا پہلو ہر حال میں اور مطلق طور پر اہل ایمان سے مطلوب ہے۔ میں یہ کہ جب فارم کی ادائیگی میں عُسر (دشواری) کی صورت پیدا ہو جائے ، تو اُس وقت شریعت کا تقاضا ہوگا کہ فارم کے معاملے میں ایڈجسٹ منٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے، تاکہ اسپرٹ کا پہلو کسی نقص کے بغیر مسلسل طور پر باقی رہے۔
روزے میں بھوک، پیاس کا تعلق فارم سے ہے، اس لیے اُس میں رخصت کا طریقہ اختیار اس کے مقابلے میں، تکبیر رب اور شکر الہی کا تعلق، روزے کی اسپرٹ سے ہے، اس لیے اس کو مطلق حیثیت دے کر مسلسل طور پر باقی رکھا گیا ہے۔
یہ اسلامی شریعت کا ایک اہم اصول ہے۔ اس اصول کا تعلق، صرف روزے سے نہیں، بلکہ دوسرے تمام دینی معاملات سے بھی ہے۔ جب بھی ایسا ہو کہ کسی دینی حکم کی ادائیگی میں عُسر کا مسئلہ پیدا ہو جائے تو اُس وقت متعلقہ حکم کے فارم میں ایڈجسٹ مینٹ کیا جائے گا، تاکہ متعلقہ حکم سے جو اسپرٹ مطلوب ہے، وہ اسپرٹ کسی قسم کے خلل کے بغیر پوری طرح باقی رہے۔
یہ شریعت کا ایک تخلیقی اصول (creative principle) ہے۔ یہ اصول اس بات کا ضامن ہے کہ شریعت کی اصل روح مسلسل طور پر اہل ایمان کے درمیان باقی رہے، اور اُس میں کسی بھی حال میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔