Al-Risala · November 2008

توبہ نصوح

Al-Risala, November 2008, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 66 میں بتایا گیا ہے کہ توبہ نصوح کیا ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے: اے ایمان والو، اللہ کے آگے توبہ نصوح کرو۔ امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے گناہ معاف کردے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جس دن اللہ، نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہی ہوگی۔ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، ہمارے لیے ہماری روشنی کو کامل کردے اور ہماری مغفرت فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے (التحریم: 8)

نصوح یا ناصح کے معنی خالص کے ہیں۔ کہا جاتا ہے: هذا عسل ناصح، یعنی یہ خالص شہد توبہ نصوح کا مطلب خالص تو بہ یا سچی تو بہ ہے۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ علما نے تو بہ نصوح کے 23 معانی بتائے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ 23 مختلف معانی نہیں بلکہ وہ خالص تو بہ کے مختلف مظاہر یہ مظاہر صرف 23 تک محدود نہیں۔ وہ اس سے بہت زیادہ ہیں، حتی کہ وہ 23 ہزار بھی ہو سکتے ہیں۔ آدمی کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے۔ اس کے بعد اس کو اپنی گنہ گاری کا احساس ہو۔ دل میں شدید طور پر شرمندہ(repentant) ہو اور پختہ عزم کے ساتھ وہ خدا کی طرف رجوع کر لے تو اسی کا نام تو بہ نصوح ہے۔

آدمی اگر حقیقی طور پر تو بہ نصوح کرے تو اس کے بعد اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ اس کی سوچ کا رخ پہلے اگر غیر اللہ کی طرف تھا تو اب وہ اللہ کی طرف ہو جائے گا۔ پہلے اگر وہ غیر سنجیدہ تھا تو اب وہ سنجیدہ ہو جائے گا۔ پہلے اگر وہ غیر ذمے دارانہ زندگی گزارتا تھا تو اب وہ ذمے دارانہ زندگی گزارنے لگے گا۔ پہلے اگر وہ اپنے قول و عمل میں آزاد تھا تو اب وہ اپنے قول و عمل کا سخت پابند ہو جائے گا۔ پہلے اگر وہ آخرت سے بے خوف تھا تو اب وہ آخرت کے اندیشے میں زندگی گزارنے لگے گا۔ حقیقی تو بہ آدمی کو بدل دیتی ہے اور جو تو بہ آدمی کو بدل ڈالے، وہی تو بہ نصوح ہے۔

Printed page