Al-Risala · November 2008

فخر اور شکر

Al-Risala, November 2008, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے پر اعتماد لہجے میں کہا کہ ــــ میں پورے فخر اور شکر کے ساتھ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فلاں دینی ماحول میں پیدا کیا، اور اس نے مجھے فلاں ادارے میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا موقع عطا فرمایا، وغیرہ۔

یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ اس قسم کی بات بہت سے لوگ اپنے اپنے انداز میں کہتے ہیں۔ الفاظ بظاہر خوب صورت معلوم ہوتے ہیں، لیکن وہ انتہائی بے معنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فخر اور شکر دونوں مختلف جذبات ہیں۔ جہاں فخر ہوگا، وہاں شکر نہیں ہوگا اور جہاں شکر ہوگا، وہاں فخر نہیں ہوگا۔ جو لوگ ایسے الفاظ بولیں، ان کے اندر فخر تو ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی شکر کا جذبہ ان کے اندر ہرگز موجود نہیں ہو سکتا۔ شکر کیا ہے؟ شکر دراصل، خداوند ذو الجلال کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ خداوند ذو الجلال کی نعمت کا احساس فوراُ ہی آدمی کے اندر اپنی بے مانگی کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور اپنی بے مانگی کے احساس کے بعد کوئی شخص کبھی فخر کا تحمل نہیں کر سکتا۔ اس قسم کے احساس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ”بے کچھ‘‘ کے مقام پر پاتا ہے اور خداوند ذو الجلال کو ”سب کچھ‘‘ کے مقام پر۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات کا حامل ہو، اس کے لیے فخر ایک مضحکہ خیز لفظ بن جائے گا۔ ایسا آدمی سب کچھ بھول کر شکرِ خداوندی کے اُس جذبے سے سرشار ہو جائے گا، جس کے اندر ذاتی فخر جیسی چیز کے لیے کوئی جگہ نہ ہو، شکر کی توفیق ہمیشہ عجزِ کامل کی سطح پر ہوتی ہے جس آدمی کے اندر عجزِ کامل کی اعلیٰ ربانی صفت نہ ہو، وہ شکر کا تجربہ بھی نہیں کر سکتا۔ فخر کے ساتھ شکر کا لفظ بولنا، بتاتا ہے کہ ایسا آدمی، امتحان کی اصطلاح میں، مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق ہے۔ ایسا کہنے والا شخص اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ فخر اور شکر دونوں کی اصل حقیقت سے بے خبر ہے۔ وہ نہ فخر کی نفسیات کو جانتا ہے اور نہ شکر کی نفسیات کو۔ دونوں کی حقیقت سے باخبر ہوتا تو وہ اس طرح، فخر اور شکر کے متضاد الفاظ کو ایک ساتھ نہ بولتا۔ یہ ہے کہ شکر ہمیشہ نفی فخر کی زمین پر پیدا ہوتا ہے، نہ کہ اثبات فخر کی زمین پر۔

Printed page