ماضی میں جینا
Al-Risala, November 2008, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں سے بات کیجیے تو اکثر لوگ، بلکہ شاید سبھی لوگ کسی نہ کسی کے خلاف کوئی شکایت لے کر منفی احساسات میں مبتلا رہتے ہیں۔ پورے معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) والا آدمی شاید کوئی بھی آج کی دنیا میں موجود نہیں۔
اس قسم کی سوچ آدمی کے اندر منفی شخصیت (negative personality) پیدا کرتی ہے۔ منفی شخصیت کسی بھی عورت یا مرد کے لیے خودکشی سے کم نہیں۔ عام خودکشی اگر جسمانی خودکشی (physical suicide) ہے، تو منفی سوچ بلاشبہ نفسیاتی خودکشی (psychological suicide) ہے۔ اس معاملے میں لوگوں سے پوچھ گچھ (scrutiny) کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی شکایت کسی نہ کسی ایسے واقعے پر مبنی ہے جس کا تعلق گزرے ہوئے ماضی سے ہے۔ لوگوں کی یہ ایک تباہ کن عادت ہے کہ اگر اُن کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آ جائے، تو وہ دوسروں سے اس کا چرچا کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اس کو اپنی یاد (memory) میں لیے رہتے ہیں۔ یہی عادت کسی عورت یا مرد کے اندر منفی شخصیت کی تشکیل کا سب سے بڑا سبب ہے۔
ہر عورت اور ہر مرد کو چاہیے کہ جب بھی اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے، تو اُسی وقت وہ اس کو فراموشی کے خانے میں ڈال دے۔ وہ ہرگز دوسروں سے اس کا چرچا کرے، بلکہ وہ کوشش کر کے ناخوش گوار واقعہ کے کسی خوش گوار پہلو کو تلاش کرے۔ اس طرح وہ ایک منفی تجربے کو، مثبت تجربے میں تبدیل کر دے، ٹھیک اُسی طرح جیسے ایک مسافر کے پاؤں میںکانٹا چبھ جائے، تو وہ اُسی وقت اس کانٹے کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔ وہ اس کو اپنی زندہ یادداشت (living memory) کا جز نہیں بناتا۔
دانش مند انسان وہ ہے جو ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا دے۔ وہ اپنے ذہن کو ماضی کی ناخوش گوار یادوں کا جنگل نہ بننے دے۔ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔
سوال و جواب میں ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہوں۔ میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں، لیکن یہ تراویح جو ہر سال پڑھی جاتی ہے، اس کا کوئی فائدہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری، الرسالہ، حیدرآباد)
تراویح کوئی رسم نہیں ہے۔ تراویح دراصل، قرآن کا اجتماعی مطالعہ (collective study) تراویح کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں کھڑے ہو کر قرآن کو سنا جائے اور اس کا اجتماعی مطالعہ کیا جائے۔ تراویح کی بہترین صورت یہ ہے کہ کسی دن قرآن کا جو حصہ پڑھا جانے والا ہو، تمام نمازی پیشگی طور پر قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھیں اور اس کے مضمون کو اپنے ذہن میں بٹھائیں ۔ اس کے بعد وہ مسجد میں جا کر تراویح پڑھیں۔ اس طرح جب وہ تراویح پڑھیں گے تو وہ قرآن کو سنیں گے بھی اور اُس پر غور بھی کریں گے ۔ یہ اُن کے لیے قرآن کا ایک اجتماعی مطالعہ ہوگا جس سے انھیں غیر معمولی فائدے حاصل ہوں گے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب زیادہ لوگ جمع ہو کر اللہ کا ذکر کریں اور اللہ کا چرچا کریں تو اْس وقت وہاں فرشتے بہت زیادہ تعداد میں آجاتے ہیں۔ فرشتوں کی آمد سے اُس مقام پر ایک روحانی ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ تراویح، اسی قسم کا ایک اجتماعی ذکر اور اجتماعی مطالعہ قرآن ہے۔ اْس کو اگر صحیح طور پر انجام دیا جائے تو اْس سے غیر معمولی فوائد حاصل ہوں گے۔ میری عمر اس وقت 48 سال ہے۔ میری تعلیم ایک دینی مدرسے میں ہوئی ۔ تعلیمی زندگی میں مدرسے کے اندر کچھ ایسے واقعات پیش آئے کہ میں اس ماحول سے متنفر ہو گیا، نہ صرف اس ماحول سے بلکہ مذہب کے تعلق سے ایسی بیزاری ہوئی کہ روزہ نماز بھی چھوڑ دیا۔ برسوں یہ سلسلہ چلتا رہا پھر ایک دوست کے ذریعے ماہ نامہ الرسالہ سے تعارف ہوا۔ الرسالہ کے مضامین پسند آئے۔
لیے نہیں کہ اس میں معرفت والا دین بتایا گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ اس میں ڈھیر ساری معلومات ہوتی ہیں جس کے سہارے مختلف لوگوں سے بحث کی جاسکتی ہے، لیکن کب تک؟ سچائی سر چڑھ کر بولتی ہے۔ الرسالہ کے مضامین نے دھیرے دھیرے متاثر کرنا شروع کر دیا۔ اور میں نے سنجیدگی سے الرسالہ کی باتوں پر غور کرنا شروع کیا۔ میں نے پایا کہ یہ واحد ذریعہ ہے دین کو سمجھنے کا۔ اور خدا کی توفیق سے یہ سمجھ میں آیا کہ اللہ اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے۔
میں آپ کی تحریک (دعوت الی اللہ) سے پوری طرح متفق ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس تحریک میں اپنا حصہ ادا کرکے اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا کفارہ ادا کر سکوں۔ گو کہ میں روحانی اعتبار سے خود کو انتہائی کمزور پاتا ہوں۔ میری شدید خواہش ہے کہ کم از کم چالیس 40 دن آپ کے زیر سایہ رہنے کا موقع ملے، تاکہ میری کنڈیشننگ ٹوٹے اور میں اپنی ڈی کنڈیشننگ کرسکوں۔ میری خواہش ہے کہ میں دوبارہ آپ کے ذریعہ کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کروں اور آپ کے زیر سایہ کچھ دن تربیت حاصل کرسکوں۔ میرے ساتھیوں کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے: