1- حافظ صلاح الدین عمر 25 سال
Al-Risala, November 2008, pp. 40–44
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے تعلیمی فراغت کے بعد پانچ سال تک ایک مسجد میں امامت کی۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ رہے، لیکن روایتی شاکلہ (framework) سے مطمئن نہیں تھے۔ آخر انھوں نے سب کچھ چھوڑ اور ایک کارخانے میں مینیجر ہیں۔ الرسالہ مشن سے پوری طرح اتفاق رکھتے ہیں۔ 2- شفیق بھائی (میڈیکل اسٹور کے مالک) الرسالہ سے اتفاق رکھتے ہیں، لیکن بابری مسجد جیسے موضوع پر وہ آپ کے موقف سے مطمئن نہیں۔
3- مسٹر سہراب اعظمی (اعظمی بیکری) یہ سیاسی سرگرمیوں میں زیادہ دل چسپی لیتے ہیں۔ نے اُن سے بارہا کہا کہ دین کے کاموں میں آگے آئیں، اللہ آپ کی دنیا و آخرت دونوں کو بہتر کرے گا۔ وہ الرسالہ کو پسند کرتے ہیں لیکن اُن کا اختلاف اس بات پر ہے کہ مولانا ، مسلمانوں کو کی۔ زندگی کی ترغیب دیتے ہیں، جب کہ اس وقت مسلمانوں کو مدنی زندگی کے قیام کی کوشش کرنا چاہیے۔ میں نے اُن کو دلائل
سے مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ مکی زندگی کے بغیر مدنی زندگی کا تصور ہی فضول ہے۔ 4- جاوید اکبر صاحب (ریٹائرڈ گورنمنٹ سرونٹ) یہ الرسالہ مشن اور دوسری تحریکوں میں فرق کرنا ہی نہیں جانتے۔ وہ دونوں کو یکساں سمجھتے ہیں۔
5- مولانا مسعود یہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں۔ وہ میری باتوں کے جواب میں الٹے سیدھے سوال کر کے الجھا دیتے ہیں۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ انسان کے تین جسم ہیں روح ، جسم اور نفس۔ کے بعد روح، اللہ کے پاس چلی جائے گی کیوں کہ وہ پاک ہے اور جسم مٹی میں مل جائے گا، عذاب نفس کو ہوگا۔ جواب میں میں نے کہا کہ روح، جسم اور نفس کے مجموعے کا نام انسان ہے اور اپنے عمل کا وہی ذمہ دار ہے (محمد سلیم، حافظ صلاح الدین، مالی گاؤں)۔
1- یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ کو ہمارے مشن سے پورا اتفاق ہے۔ ہمارے مشن میں حصہ لینے کی صورت یہ ہے کہ آپ اپنے مقام پر، اپنی استطاعت کے بقدر، بلا تاخیر کام شروع کر دیں۔ مثلاً آپ ایک لائبریری قائم کریں۔ ہم خیال لوگوں کو لے کر ہفتے وار اجتماع کریں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو الرسالہ کا قاری بنائیں اور ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں اور پمفلٹ لوگوں کے درمیان حسب مقدور دعوتی کام کریں۔
2- آپ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کمیونیکیشن کا زمانہ ہے۔ آج کمیونیکیشن کے ذریعے وہ فائدہ بالواسطہ طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے جو پچھلے زمانے میں براہِ راست طور پر صحبت کے ذریعے حاصل ملک کے اندر اور ملک کے باہر کئی افراد اس طرح کام کر رہے ہیں۔ وہ بار بار ٹیلی فون کے ذریعے تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ وہ اپنے یہاں ٹیلی فونی خطاب کا انتظام کرتے ہیں۔ کمیونیکیشن کے ذریعے مسلسل طور پر ربط میں رہتے ہیں۔ اس طرح وہ دور رہتے ہوئے صحبت کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ آپ بھی یہی طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔
3- آپ کے ساتھیوں کے بارے میں میرا قیاس ہے کہ وہ الرسالہ کو صرف ایک بار پڑھ لیتے ہیں۔
اس لیے ان کا ذہن ابھی تک صاف نہیں ہوا۔ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ تذکیر القرآن کو اور دوسری کتابوں کو بار بار پڑھیں۔ اس کے بعد ان کے تمام اشکالات اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ 4- مکی اور مدنی زندگی کے بارے میں آپ نے ایک صاحب کا جو اشکال نقل کیا ہے، وہ بھی مطالعے کی کمی کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ ہماری کتابوں کو غور کے ساتھ پڑھیں، تو ان کا اشکال بھی اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ لوگوں کے تصور کے مطابق ،مکی زندگی پر امن دعوت کی علامت ہے، اور مدنی زندگی مسلح جہاد کی علامت۔ پچھلے دو سو سال سے ساری دنیا کے مسلمان جگہ جگہ مسلح جہاد کر رہے ہیں۔ یہ جہاد اب تک جاری ہے، لیکن بے شمار قربانیوں کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
ہمارا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مسلح جہاد کے مواقع یک سر مفقود ہیں، جب کہ پرامن دعوت کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں بلاشبہ یہ بدترین نادانی ہے کہ پرامن دعوت کے مواقع کو استعمال نہ کیا جائے اور جہاد کے نام سے تباہ کن سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔ آپ کے ساتھی اور ان کے جیسے بہت سے لوگ عملاً اسی طریقے کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ پر امن مواقع کے درمیان اپنا کام کر رہے ہیں، نہ کہ متشددانہ ماحول کے درمیان۔
5- الرسالہ مشن اور دوسری تحریکوں میں ایک واضح فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ الرسالہ مشن خالص دعوتی تحریک ہے، جب کہ دوسری تحریکیں ملی تحریک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ دعوتی تحریک وہ ہے جو انسانیت عامہ کے لیے انذار و تبشیر کی بنیاد پر اٹھے، جو کسی قومی یا مادی مفاد کے بغیر، خدا کے ابدی پیغام کو بے آمیز انداز میں لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں اُن کو پہنچائے۔ یہ پیغمبرانہ نوعیت کا کام ہے۔ یہ کام موجودہ زمانے میں صرف الرسالہ مشن کے تحت انجام پا رہا ہے۔
ملی تحریکوں کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ اُن میں سے کسی کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو فخر کی غذا فراہم کی جائے، کسی کا مقصد ہے سیاسی اقتدار کو قائم کرنا، کوئی مسلمانوں کی مادی یا اقتصادی خدمت کر رہا ہے، کوئی مسلمانوں کے قومی مطالبات کو لے کر احتجاجی مہم چلا رہا ہے، کوئی مسلمانوں کی ملی اور روایتی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہتا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کے کاموں کو ملی خدمت تو کہا جاسکتا ہے، لیکن اُن
کو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کہا جا سکتا۔
آپ کے جو ساتھی کو روح اور جسم اور نفس میں تقسیم کرتے ہیں، اور اس تقسیم کی بنیاد پر اپنا نظریے پیش کرتے ہیں، اُن سے آپ کوئی اور بحث نہ کریں، اُن سے آپ صرف یہ پوچھیے کہ اُن کے اس نظریہ کا ماخذ قرآن میں کہاں ہے۔ اپنے نظریے کے ثبوت میں جب تک وہ کوئی صریح آیت نہ پیش کریں، اُن سے آپ امام احمد کی زبان میں کہیے: ایتونی شیئا من کتاب الله حتی أقول۔ عرض ہے کہ مجھے یہاں ایک ساتھی مل گیا ہے، دعوتی کام کرنے کے لیے۔ ساتھی کا نام عبد القيوم شیخ محبوب ہے۔ وہ ناندیڑ کے رہنے والے ہیں۔ میرے ساتھی کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی زندگی کے لیے رات دن کام کرنے کا نصاب قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائیے۔ کے اس کہنے پر میں نے اپنی معلومات کے مطابق، اُن سے کہا کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم الرسالہ مشن سے جُڑ جائیں، تاہم اُن کو میری اس بات پر سو فی صد اطمینان نہیںہو رہا ہے۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ میں اُن کو کس طرح مطمئن کر سکتا ہوں۔ اس بارے میں ہماری رہ نمائی فرمائیں۔ (کشن جیونت راؤ پاؤٹل، مکھیر، نانڈیڑ، مہاراشٹر)۔
یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ کو اپنے مقام پر ایک ساتھی مل گیا۔ اب آپ دونوں مل کر مشن کو اچھی طرح چلا سکتے ہیں۔ آپ دونوں کو میری یہ نصیحت ہے کہ آپ خالص غیر تنقیدی انداز میں کام کریں، کسی بھی حال میں آپ تنقیدی انداز نہ اختیار کریں۔ عام لوگوں کے لیے تنقید کا طریقہ ہرگز جائز نہیں۔ آپ دونوں کامل طور پر صبر کا فارمولا اختیار کریں۔ صبر کا فارمولا یہ ہے کہ ۔ طرح مثبت انداز میں کام کیا جائے، کسی بھی حال میں منفی انداز نہ اختیار کیا جائے۔ آپ کے ساتھی کا کہنا ہے کہ اُن کو چو بیس گھنٹے کی دینی مشغولیت کے لیے ایک نصاب چاہیے۔ زندگی کے لیے اس قسم کا نصاب بتانے کی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ دریافت کرنے کی چیز ہے۔ آپ کے ساتھی
اگر فی الواقع ایسا ہمہ وقتی نصاب چاہتے ہیں، تو اُن کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ گہرامطالعہ کریں۔ وہ تذکیر القرآن کو بار بار پڑھیں۔ وہ مطالعہ سیرت اور پیغمبرِ انقلاب کا بار بار مطالعہ کریں۔ وہ ماہ نامہ الرسالہ کا بار بار وہ ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتابوں کا بار بار گہرامطالعہ کریں۔ اس طرح کے گہرے مطالعے کے بعد اُن کو اپنے آپ وہ چیز حاصل ہو جائے گی جس کو وہ ہمہ وقتی نصاب کہتے ہیں۔ اس قسم کا نصاب پوچھ کر جاننے کی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ مطالعہ کے ذریعے دریافت کرنے کی چیز ہے۔ عملی پروگرام کے اعتبار سے، سب سے پہلے آپ لوگوں کو صرف ایک کام کرنا ہے، وہ یہ کہ آپ اپنے مقام پر مطبوعاتِ الرسالہ پرمشتمل ایک لائبریری قائم کریں۔ اور لوگوں کو آمادہ کریں کہ وہ اس لائبریری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اس کے علاوہ، کسی دن ایک مقرر وقت پر آپ لوگ ہفتہ وار اجتماع کریں۔ اس اجتماع میں الرسالہ مشن سے وابستہ افراد کو اکٹھا کریں۔ اُن میں سے کوئی شخص ایک ہفتے تک باقاعدہ تیاری اور گہرے مطالعے کے بعد لوگوں کے سامنے دعوتی اور تربیتی موضوعات پرگفتگو کرے، یا حاضرین کی نسبت سے، وہ اس موضوع پر اُن کے سامنے ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کسی کتاب کو پڑھ کر سنائے۔ اجتماع کے بعد دعوت کے کام کو مزید آگے بڑھانے کے لیے باہمی مشورہ کیا جائے ۔ اس پروگرام میں بنیادی چیز صرف ایک ہے، اور وہ ہے ماہ نامہ الرسالہ اور یہاں سے چھپے ہوئے دعوتی لٹریچر کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا۔ اگر اس طرح، سنجیدگی اور کامل صبر کے ساتھ کام کیا جائے، تو ان شاء اللہ چند دنوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کام کے مزید راستے کھول دے گا۔