Al-Risala · November 2008

سوال و جواب

Al-Risala, November 2008, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

الرسالہ مشن سے وابستہ کچھ افراد کی جانب سے صاحب الرسالہ کی جانب منسوب کرتے ہوئے یہ بات مستقل طور پر سننے میں آ رہی ہے کہ مسلمانوں یا کم ازکم مولویوں کو سی پی ایس کا پیغام نہ پہنچایا جائے۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ کیا صاحب الرسالہ کی جانب منسوب کی گئی یہ بات درست ہے یا پھر یہ غلط نمائندگی کا کیس ہے۔ براہِ کرم اس معاملے کی وضاحت فرمائیں (شکیل احمد، سہارن پور)۔

مذکورہ بات اگر کسی نے کہی ہے تو وہ بلاشبہ ہماری غلط نمائندگی ہے۔ ہمارا نقطہ نظر ہرگز وہ نہیں ہے جو مذکورہ الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا مشن دعوت کا مشن ہے، اور دعوت کے مشن میں مذکورہ قسم کی تفریق درست نہیں ہوتی۔ دعوت کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک کو مخاطب کیا جائے، البتہ اس خطاب میں افراد کے مزاج اور علمی معیار کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ دعوتی عمل میں مناظرہ (debate) نہیں کیا جاتا۔ مناظرہ، دعوت کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ اگر داعی یہ محسوس کرے کہ وہ خود زیادہ مؤثر گفتگو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، تو اس کو چاہیے کہ وہ مدعو کو دعوتی لٹریچر دینے پر اکتفا کرے، وہ بے فائدہ بحث و مباحثہ سے اپنے آپ کو بچائے۔

آپ کا یہ طریقہ نہایت مستحسن طریقہ ہے کہ آپ نے ہمارے بارے میں جو بات سنی، اس کو براہِ راست طور پر ہمارے پاس لکھ کر اس کی تحقیق کی۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق بیان کرنے لگیں۔ اس بارے میں ہر شخص کو یہ حدیث یاد رکھنا چاہیے: كفى بالمرء كذباً أن يحدّث بكل ما سمع (صحیح مسلم) یعنی کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق دوسروں سے بیان کرنے لگے۔

Printed page